پڑھوپنجاب بڑھوپنجاب یہ نعرہ حکومت پنجاب کا ہے جو تقریباََہر سرکاری سکول اور کالج کے باہر لکھا ہوتا ہے لیکن کیاواقعی پنجاب میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں کہ جہاں پر حقیقی معنوں میں پڑھا جا سکے؟اگر بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کودیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی جگہ ہے جو تعلیم کے لئے میسر ہے جہاں پر سہولیات کی فراہمی ہے۔لیکن گورنمنٹ کے چند تعلیمی اداروں کے علاوہ اور کسی بھی ادارے میں کوئی سہولت موجود نہیں۔خصوصاََکالجوں اور ان میں جوڈگری لیول تک محدود ہیں ان میں تو سہولیات کی عدم دستیابی ہے۔ان کالجوں میں عموماََاساتذہ کا فقدان رہتا ہے اور جن مضامین کے اساتذہ موجود نہیں ہوتے ان مضامین میں طالبعلموں کا بہت نقصان ہوتا ہے۔اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ اساتذہ کو بطور ctiرکھا جاتا ہے لیکن کالجوں کی کلاس کا آغازعموماََیکم ستمبر کو کیا جاتا ہے جبکہ ctiاکتوبر میں پڑھائی کا آغاز کرتے ہیں جس کے باعث عموماََبچوں کا ایک،ڈیڑھ ماہ اساتذہ کی عدم دستیابی کی نظر ہو جاتا ہے اور اس طرح جن مضامین کا کورس لمبا ہوتا ہے وہ مکمل نہیں ہو پاتے اور ان مضامین میں اکثرطلبہ فیل ہو جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مسئلہ جو خصوصاََسائنس کے طالبعلموں کو چھوٹے کالجوں میں پیش
آتا ہے وہ عملاََکام نہ کرنا ہے ہمارے گورنمنٹ کے کالجوں میں سائنس کے طلبا کو پورا سال کتاب تو پڑھائی جاتی ہے لیکن عملاََکوئی بھی کام نہیں کرایا جاتااور اس طرح ان طالبعلموں کی مثال اس طوطے کی طرح ہے کہ جو مالک کے پیچھے سب کچھ دہراتا تو ہے لیکن اس کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا دہرا رہا ہے اور یہی وجہ ہے ہم دوسرے بڑے ممالک کے طالب علموں سے پیچھے رہ گئے ہیں اسی بارے میں کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے کہ:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یعنی عمل لازمی شرط ہے ۔اسکے ساتھ ساتھ ہمارے طلبا کوبھی اپنے حقوق کا کچھ پتا نہیں اور جن کچھ طلبہ کو پتا ہے تو وہ اپنے حق کی مطالبہ کرنے سے ڈرتے ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے طلبا کو سہولیات کی عدم فراہمی ہے کیونکہ ماں بھی بچے کو اس وقت تک دودھ نہیں پلاتی جب تک وہ روئے نہ۔بلکل اسی طرح جب تک طلبا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور اپنے حقوق کے لئے آوازبلند نہیں کریں گے تب تک ان کو کسی قسم کی سہولت میسر نہیں آئے گی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کراتا جاؤں کہ سکولوں کی نسبت کالجوں میں بہت کم بچے پاس ہوتے ہیں جن کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ایک یہ کہ ہمارے دیہاتوں اور گورنمنٹ سکولوں سے پڑھنے والے بچوں نے میڑک اردو میڈیم میں کیا ہوتا ہے جبکہ آگے انہیں انگلش پڑھنی پڑتی ہے۔جو انکے لئے انتہائی مشکل ہوتا ہے اور ویسے بھی دو کشتیوں کے مسافرہمیشہ ڈوبتے ہی ہیں اسی طرح یہ طلبا بھی سال کے آخر میں ڈوب جاتے ہیں۔ایک وجہ کالج میں بچوں کے فعل ہونے کی یہ بھی ہے کہ ہمارے والدین کا ذہن بہت کمزو ر ہوتا ہے اور وہ ان کو کالج میں داخل کرا کر بھول جاتے ہیں اور والدین کے ساتھ صاحبزادہ صاحب بھی مستی کے نشے میں مست رہتے ہیں اور یہ نشہ رزلٹ کے دن ہی اترتا ہے اور والدین کوبھی اس وقت یاد آتا ہے کہ ہمارے بچے بھی پڑتے تھے۔گورنمنٹ اور والدین کے علاوہ فیل ہونے کی وجہ بچہ خود بھی ہوتاہے یعنی بچہ اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھتا ہے اور بلکل محنت نہیں کرتا وہ یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح سکول میں تھوڑی سی محنت کر کے پاس ہو جاتے تھے اتنی ہی محنت کالج میں کریں گے اور پاس ہو جائیں گے لیکن رزلٹ کے دن ان کے طوطے اڑے ہوتے ہیں ۔ہمارے کالجوں میں بہت سے ایسے لڑکے بھی موجود ہوتے ہیں جو آرٹس پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے والدین ان کو زبر دستی سائنس رکھوا دیتے ہیں جس سے ان کو بہت نقصان ہوتا ہے کیونکہ جس چیز کا انسان کو شوق ہوتا ہے انسان وہی کام کرتا ہے جہاں ایک طرف گورنمنٹ کو کچھ زمہ داریاں نبھانی چاہیے وہی والدین اور طلبہ کو بھی کچھ کام کرنا ہو گا کیونکہ گاڑی کے جب سارے ٹائر ٹھیک ہوں تب گاڑ ی چلتی ہے ورنہ گاڑی با لکل سٹاپ !گورنمنٹ کو چاہیے کہ جن کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے تو ان کالجوں میں باقاعدہ پروفیسر بھیجے اور اگر CTIرکھے جاتے ہیں تو ان کی Joiningستمبر میں کرائی جائے تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو کالج میں داخل کرا کر بھول نہ جائیں اور ان کی باقائدہ رپورٹ لیتے رہیں اور بچوں کے ساتھ زبر دستی نہ کریں یعنی جو کچھ بچہ چاہتا ہے وہی کچھ اسے پڑھنے دیا جائے اور بچے کی ضروریات پوری کی جائیں اس کے ساتھ ساتھ بچے (طلباء ) کو بھی چاہیے کہ اپنے آپ کو تیس مار خان نہ سمجھیں اور زمین پر ہی رہے آسمان پر نہ اڑے کیونکہ انسان جتنا بھی بلند ہو اس کے پاؤں زمین پر ہی لگتے ہیں اور اساتذہ کا احترام ضروری ہے طلباء کو چاہیے کہ اساتذہ کا احترام کریں کیونکہ باادب با مراد ،بے ادب بے مراد ۔{jcomments on}