پوٹھوہار میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور موسم گرما کے دورانیے میں تبدیلی کے آثار

سطح مرتفع پوٹھوہار پاکستان کے شمالی پنجاب کا ایک اہم جغرافیائی خطہ ہے جو اپنی قدرتی ساخت، بارانی زراعت اور ثقافتی روایات کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں راولپنڈی، جہلم، چکوال اور اٹک کے اضلاع شامل ہیں۔ پوٹھوہار کا بیشتر علاقہ بارانی یعنی بارشوں پر انحصار کرنے والی زراعت پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں کی معیشت، ماحول اور معاشرتی زندگی براہ راست موسموں اور بارشوں کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر گزشتہ چند دہائیوں کے دوران موسمیاتی تبدیلی نے اس پورے خطے کے قدرتی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گرمی کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ، بے ترتیب بارشیں، زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی اور زمین کے کٹاؤ جیسے مسائل اس خطے کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی دراصل عالمی سطح پر ہونے والی ایک حقیقت ہے جس کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں، جنگلات کی کٹائی، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیسوں اور انسانی سرگرمیوں نے زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔ اس عمل کو عالمی حدت (Global Warming) کہا جاتا ہے۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں،

حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔ پوٹھوہار کا خطہ بھی انہی اثرات کی زد میں آ چکا ہے۔پوٹھوہار کی زراعت بنیادی طور پر بارانی نظام پر قائم ہے۔ یہاں گندم، مونگ پھلی، چنا، باجرہ اور چارہ جیسی فصلیں زیادہ کاشت کی جاتی ہیں۔ ان فصلوں کی پیداوار کا دارومدار موسم سرما اور بہار کی بارشوں پر ہوتا ہے۔ ماضی میں بارشوں کا ایک باقاعدہ نظام تھا جس کے تحت کسان اپنی کاشتکاری کا شیڈول طے کرتے تھے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب بارشیں وقت پر نہیں ہوتیں۔ کبھی طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی اچانک شدید بارشیں ہو جاتی ہیں۔

اس بے ترتیبی نے بارانی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔خاص طور پر گرمی کے دورانیے میں ہونے والی تبدیلیاں اس خطے کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں۔ پہلے پوٹھوہار میں گرمی کا موسم نسبتاً مختصر اور معتدل ہوتا تھا۔ اپریل اور مئی میں موسم گرم ضرور ہوتا تھا مگر جون کے آخر یا جولائی میں مون سون کی بارشیں شروع ہو جاتی تھیں جو موسم کی شدت کو کم کر دیتی تھیں۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ گرمی کا موسم پہلے سے زیادہ طویل اور شدید ہو گیا ہے۔ مارچ کے آخر سے ہی درجہ حرارت میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ شدت ستمبر تک برقرار رہتی ہے

۔ بعض اوقات درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جو اس خطے کے لیے غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی۔گرمی کے اس طویل دورانیے کے باعث نہ صرف انسانی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ جانوروں اور زراعت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی میں مویشیوں کی صحت متاثر ہوتی ہے، دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور جانور بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح گرمی کی شدت کے باعث زمین کی نمی تیزی سے ختم ہو جاتی ہے جس سے فصلوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔پانی کی قلت بھی پوٹھوہار کے بڑے مسائل میں شامل ہو چکی ہے۔

ماضی میں اس خطے میں زیر زمین پانی نسبتاً کم گہرائی پر دستیاب تھا۔ کئی علاقوں میں صرف 35 سے 40 فٹ کی گہرائی پر پانی نکل آتا تھا۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں کمی اور بے تحاشا ٹیوب ویلوں کے استعمال کے باعث زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ اب کئی علاقوں میں پانی 250 سے 300 فٹ کی گہرائی پر جا پہنچا ہے۔

اس صورتحال نے نہ صرف زراعت بلکہ گھریلو استعمال کے لیے پانی کی دستیابی کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔پوٹھوہار کی زمین چونکہ پہاڑی اور ناہموار ہے، اس لیے یہاں بارش کا پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے۔ جب بارشیں شدید اور مختصر وقت میں ہوتی ہیں تو اس سے زمین کا کٹاؤ بڑھ جاتا ہے۔ مٹی کے زرخیز ذرات بہہ کر ندی نالوں میں چلے جاتے ہیں جس سے زمین کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ زمین کے کٹاؤ کی یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے باعث مزید سنگین ہو گئی ہے۔

بے موسمی بارشیں بھی پوٹھوہار کے کسانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ کبھی فصل پکنے کے وقت بارشیں ہو جاتی ہیں جس سے گندم کی کٹائی متاثر ہوتی ہے، جبکہ مونگ پھلی کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات اچانک سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو کھیتوں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

شدید گرمی کے باعث ہیٹ ویو کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے اور محنت کش طبقہ خاص طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ گرمی کے باعث پانی کی کمی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی طرح جانوروں میں بھی مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔پوٹھوہار کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت کا دارومدار زراعت اور مویشی پالنے پر ہے۔ جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث فصلیں متاثر ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر لوگوں کی آمدنی اور معاشی حالت پر پڑتا ہے۔ کئی کسانوں کو اپنی زمینیں چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے دیہی معیشت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔

ان تمام مسائل کے باوجود اگر مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے پانی کے ذخیرے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پوٹھوہار میں چھوٹے ڈیم اور واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ زیر زمین پانی کی سطح کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق نئی زرعی تکنیکوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کی اقسام متعارف کروائی جا سکتی ہیں۔ جدید آبپاشی کے طریقے جیسے ڈرپ اور سپرنکلر سسٹم پانی کے ضیاع کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جنگلات اور درختوں کی افزائش بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پوٹھوہار میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جانی چاہیے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور درجہ حرارت میں اضافے کو کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکے۔

حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ماہرین ماحولیات، زرعی سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کو مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی چاہیے تاکہ پوٹھوہار کے بارانی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پوٹھوہار کا خطہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا واضح نمونہ بن چکا ہے۔ گرمی کے دورانیے میں اضافہ، پانی کی قلت، بے ترتیب بارشیں اور زمین کا کٹاؤ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس خطے کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے اجتماعی کوششیں کریں۔ اگر آج ہم نے ماحول کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال پر توجہ دی تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور خوشحال پوٹھوہار فراہم کیا جا سکتا ہے۔

تحریر
عبد البصیر ملک