وطن عزیز میں قوانین کی کمی نہیں، مگر اصل المیہ ان قوانین پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ جب بھی کسی ادارے کو لامحدود یا غیر مؤثر نگرانی کے بغیر اختیارات دیے جاتے ہیں، کچھ عرصے بعد وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ ابتدا میں موٹر وے پولیس اپنی دیانت اور نظم و ضبط کی علامت بنی، پھر وقت کے ساتھ اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اسی طرح پرویز الٰہی کے دور میں ٹریفک وارڈنز کا نظام ایک مثبت قدم محسوس ہوا، لیکن بعد ازاں بعض اہلکاروں کے رویوں نے عوام اور ادارے کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا کر دی۔
حالیہ دور میں سی سی ڈی پیرا فورس کاونٹر نارکوٹکس اور دیگر خصوصی فورسز کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے، مگر جب اختیارات کے ساتھ مؤثر احتساب نہ ہو تو وہی طاقت بعض اوقات ظلم اور زیادتی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ راولپنڈی ریجن کے ضلع چکوال میں ایک معصوم پھول جیسی بچی کی جان چلی جانا صرف ایک غلطی نہیں، بلکہ یہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جس نے لامحدود اختیارات تو دیے مگر ان کے استعمال پر قانون اور جوابدہی کی مضبوط گرفت قائم نہ کی۔
کسی بھی ماورائے قانون اور ماورائے عدالت اقدام کو خاموشی سے قبول کرنا یا اس کی تعریف کرنا درحقیقت ایسے سانحات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس لیے ذمہ داری صرف گولی چلانے والے اہلکار تک محدود نہیں رہتی بلکہ اختیار دینے والوں، نگرانی کرنے والوں، خاموش رہنے والوں اور ایسے اقدامات کو جائز قرار دینے والوں تک بھی پھیل جاتی ہے۔
اس معصوم بچی کا خون ہم سب سے سوال کرتا ہے کہ کیا طاقت قانون کی پابند ہوگی یا قانون طاقت کا محتاج رہے گا؟ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی عدالتوں میں اگر انصاف نہ بھی ملے تو ایک ایسی عدالت ضرور قائم ہوگی جہاں نہ عہدہ کام آئے گا، نہ اختیار، نہ سیاست اور نہ سفارش؛ وہاں صرف انصاف ہوگا اور ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ (نوٹ اس تحریر میں سینئر صحافی صالح مغل اور اصف شاہ کی تحریر کو بھی کوٹ کیا گیا ہے