
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ شناخت، خود اعتمادی اور طرزِ زندگی کو متاثر کرنے والی ایک طاقت بن چکا ہے، خصوصاً نوجوانوں کے لیے۔ اگرچہ یہ تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور روابط بڑھانے کا موقع دیتا ہے، مگر ایک اہم سوال ابھر رہا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کی لت نوجوانوں میں کھانے کی خرابیوں کو بڑھا رہی ہے؟
نوجوانی زندگی کا ایک حساس مرحلہ ہے جہاں شخصیت اور خودی کا تصور تشکیل پاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خوبصورتی کے غیر حقیقی معیار، ایڈیٹ شدہ تصاویر اور مصنوعی طرزِ زندگی نوجوان ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مسلسل ایسے مواد کو دیکھنے سے نوجوان خود کو دوسروں سے موازنہ کرنے لگتے ہیں، جس سے جسمانی عدم اطمینان جنم لیتا ہے۔
یہ احساس صرف سوچ تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات نقصان دہ رویوں میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے نوجوان کھانا چھوڑنے، ضرورت سے زیادہ ڈائٹنگ کرنے یا کیلوریز گننے کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی رویے بعدازاں انوریکسیا، بلیمیا اور بنج ایٹنگ جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ آن لائن خوبصورت نظر آنے کا دباو بعض اوقات صحت سے زیادہ اہم محسوس ہونے لگتا ہے۔
سوشل میڈیا کی لت اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے۔ جتنا زیادہ وقت نوجوان اسکرین پر گزارتے ہیں اتنا ہی زیادہ وہ جسمانی ساخت، ڈائٹ کلچر اور غیر صحت مند رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں۔ الگورتھمز بھی اسی قسم کا مواد بار بار دکھا کر ان خیالات کو تقویت دیتے ہیں، جس سے نقصان دہ عادات معمول بنتی چلی جاتی ہیں۔
ایک اور تشویش ناک پہلو فِٹ اسپائریشن اور آن لائن ڈائٹ ٹرینڈز کا فروغ ہے۔ اگرچہ کچھ مواد صحت مند طرزِ زندگی کی ترغیب دیتا ہے، لیکن بہت سا مشورہ غیر سائنسی اور انتہا پسندانہ ہوتا ہے۔ مناسب رہنمائی کے بغیر نوجوان ان رجحانات کی اندھی تقلید کرتے ہیں،
جو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔اگرچہ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار صرف سوشل میڈیا کو ٹھہرانا درست نہیں، کیونکہ خاندانی ماحول، دوستوں کا دبا¶ اور ذہنی صحت کے مسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا ان عدم تحفظات کو بڑھا کر نقصان دہ رویوں کو تیز ضرور کرتا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے کھلا مکالمہ رکھیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر متوازن نظر رکھیں۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آگاہی اور جسمانی مثبت سوچ سے متعلق پروگرام متعارف کرانے چاہییں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی نقصان دہ مواد کی روک تھام اور حقیقت پسندانہ جسمانی تصاویر کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
نوجوانوں کو بھی یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر تصویر حقیقت نہیں ہوتی اور ہر رجحان صحت مند نہیں ہوتا۔ خود اعتمادی کو لائکس اور فالوورز سے جوڑنے کے بجائے حقیقی صلاحیتوں اور شخصیت سے وابستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کی لت محض ایک عادت نہیں بلکہ نوجوانوں کی صحت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ذہنی اور جسمانی طور پر محفوظ رہے تو ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا ان کی زندگی سنوارے، بگاڑے نہیں۔