کتاب: انسانی شعور کی معراج اور تسخیرِ کائنات کا ابدی راستہ

کائنات کی تخلیق کے بعد جب انسان نے شعور کی آنکھ کھولی تو اسے سب سے پہلے جس شے کی ضرورت محسوس ہوئی وہ “علم” تھا اور یہی علم جب حرف کی صورت میں کاغذ پر منتقل ہوا تو “کتاب” وجود میں آئی جو صدیوں سے انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے، کتاب محض کاغذ کے بے جان ٹکڑوں یا سیاہی کے دھبوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک زندہ جاوید حقیقت اور وہ روح ہے جو انسان کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ستاروں کی گزرگاہوں تک لے جاتی ہے، تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جس معاشرے نے کتاب کی قدر کی اس نے دنیا پر حکمرانی کی اور جس نے اسے پسِ پشت ڈال دیا وہ زوال کی گہری کھائیوں میں جا گرا، آج کے اس مادی دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے وہاں کتاب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے

کیونکہ یہ وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو شور و غل سے نکال کر سکونِ قلب اور گہرائی عطا کرتا ہے، ایک متاثر کن تحریر اور ایک جامع ورک بک انسان کے اندر چھپی ہوئی ان صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہے جن سے وہ خود بھی ناواقف ہوتا ہے، مطالعہ صرف معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ورزش ہے جو انسانی دماغ کو وسعت دیتی ہے اور اسے مشکل سے مشکل حالات میں بھی راستہ تلاش کرنے کے قابل بناتی ہے، اگر ہم عظیم فاتحین، سائنسدانوں اور دانشوروں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے

کہ ان سب کا کتاب کے ساتھ ایک والہانہ عشق تھا، وہ تنہائی میں بھی اکیلے نہیں ہوتے تھے کیونکہ ان کے پاس کتابوں کی صورت میں وہ عظیم دماغ موجود ہوتے تھے جنہوں نے انسانیت کے لیے علم کے دریا بہا دیے، ایک بہترین کتاب آپ کی زندگی میں وہ تبدیلی لا سکتی ہے جو ہزاروں مشورے نہیں لا سکتے، یہ آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور آپ کو یہ یقین دلاتی ہے کہ کائنات کی کوئی بھی طاقت آپ کو منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی اگر آپ کے پاس علم کا ہتھیار موجود ہے،

ورک بکس کی اہمیت اس لیے بھی مسلم ہے کہ یہ نظریاتی علم کو عملی شکل میں تبدیل کرتی ہیں اور انسان کو نظم و ضبط کا پابند بناتی ہیں، جس طرح ایک پودے کو پروان چڑھنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسانی روح کی بالیدگی کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے، آج کی نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی سکرولنگ آپ کو وقتی معلومات تو دے سکتی ہے مگر وہ پختگی اور دانش عطا نہیں کر سکتی جو ایک ضخیم کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے، کتاب آپ کو صبر سکھاتی ہے، یہ آپ کو دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام کرنا سکھاتی ہے اور آپ کے لہجے میں وہ ٹھہراو لاتی ہے جو ایک پڑھے لکھے انسان کی پہچان ہوتا ہے، عالمی یومِ کتاب کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں کتاب کو دوبارہ وہی مقام دیں گے جو اسے حاصل تھا، ہم اپنے گھروں میں چھوٹے ہی سہی مگر علمی گوشے قائم کریں گے جہاں ہماری آنے والی نسلیں بیٹھ کر اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف ہو سکیں، یہ کتاب ہی ہے

جو نسل در نسل علم منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس کے بغیر انسانی ارتقاءکا تصور بھی محال ہے، جب آپ ایک کتاب کھولتے ہیں تو دراصل آپ ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتے ہیں جہاں وقت اور مکان کی کوئی قید نہیں ہوتی، آپ صدیوں پرانے یونان کے فلسفیوں سے بھی مل سکتے ہیں اور مستقبل کے خواب دیکھنے والے سائنسدانوں کے ساتھ بھی سفر کر سکتے ہیں، یہ وہ جادوئی طاقت ہے

جو صرف ایک قاری کے پاس ہوتی ہے، لہٰذا اپنی زندگی کو مقصدیت دینے کے لیے، اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اور معاشرے میں ایک معزز مقام حاصل کرنے کے لیے کتاب سے اپنا رشتہ استوار کریں، کیونکہ کتاب پڑھنے والا انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کبھی شکست تسلیم کرتا ہے، وہ ہر ناکامی کو ایک سبق کے طور پر لیتا ہے اور اپنی منزل کی طرف مزید تیزی سے قدم بڑھاتا ہے، یہی وہ پیغام ہے جو آج کی اس تحریر کا لبِ لباب ہے کہ کتاب تھامنے والا ہاتھ کبھی کسی کے آگے نہیں پھیلتا اور علم کی شمع روشن کرنے والا ذہن کبھی اندھیروں کا شکار نہیں ہوتا۔