
ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ بری طرح ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیمی پالیسیوں اور معاشی استحکام پر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاشی بحران یا پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کا پہلا اور براہ راست نشانہ تعلیم بنتی ہے۔ اسکولوں کی بندش کو ایک انتظامی حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ حل نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل پر خودکش حملہ ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے جس نے غریب آدمی سے دو وقت کا نوالہ چھین لیا ہے اور دوسری طرف تعلیم کی یہ قلت ہے جو اسے شعور کی روشنی سے دور کر رہی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ایک بچہ اسکول جانے کے بجائے پٹرول کی لائنوں میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا ہے
یا گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چھوٹی عمر میں مزدوری شروع کر دیتا ہے، تو اس وقت صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورا ملک پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔پاکستان کا مستقبل ان بند اسکولوں کے کمروں میں قید ہو کر رہ گیا ہے جہاں کبھی خواب دیکھے جاتے تھے۔ آج کا عام آدمی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنی بقا اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ جب آٹا، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی تو ایک غریب باپ کے لیے اسکول کی فیس اور کتابوں کا خرچ اٹھانا ناممکن ہو جائے گا۔ ریاست کا کام عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے،
لیکن یہاں عوام کو ہی ریاست کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگر تیل کی کمی ہے تو اس کا حل شاہانہ پروٹوکولز کو ختم کرنا، بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگانا اور سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہونا چاہیے تھا، نہ کہ اسکولوں کو تالے لگا کر بچوں کو گھروں میں بٹھا دینا۔ یہ فیصلہ سازی کی وہ بدترین شکل ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری ترجیحات میں تعلیم کا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے۔تعلیمی نظام میں آنے والا یہ تعطل صرف چند دنوں کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اس نفسیاتی شکست کا پیش خیمہ ہے جو طلبا کو مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ جب ایک طالب علم دیکھتا ہے کہ اس کا تعلیمی سال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے،
تو اس کا علم سے رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم کو ایک “ایمرجنسی سروس” کا درجہ حاصل ہے، جہاں جنگوں کے دوران بھی زیر زمین بنکرز میں کلاسز لگائی جاتی ہیں تاکہ قوم کا فکری تسلسل نہ ٹوٹے۔ مگر ہمارے ہاں معمولی معاشی دباو¿ پر بھی سب سے پہلے اسکولوں کی قربانی دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب عوام خود یہ فیصلہ کریں کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔ کیا ایسا پاکستان جہاں صرف اشرافیہ کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھلے ہوں یا ایسا معاشرہ جہاں ریاست ہر بچے کو برابر کے مواقع فراہم کرے۔آج کا کالم دراصل اس عام آدمی کی پکار ہے
جو فاقوں اور جہالت کے درمیان پستا جا رہا ہے۔ غریب عوام کا جینا پہلے ہی محال تھا، اب ان سے ان کے بچوں کی آنکھوں کے نور یعنی تعلیم کو بھی چھینا جا رہا ہے۔ اگر آج ہم نے اس خاموش قاتل یعنی “تعلیمی قلت” کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان کا مستقبل ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھنے کے بجائے پتھر کے دور کی طرف لوٹتا دکھائی دیتا ہے اگر تعلیم کی یہی صورتحال رہی۔ اب یہ فیصلہ عوام کا ہے کہ وہ اس نظام کے آگے سر تسلیم خم کریں گے یا اپنے بچوں کے حق کے لیے ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کریں گے جہاں قلم اور کتاب کو پٹرول اور مہنگائی پر فوقیت حاصل ہو۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا
کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک عظیم نہیں بن سکتی جب تک اس کے اسکول کھلے نہ ہوں اور اس کے بچے بھوکے پیٹ علم حاصل کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ ریاست کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، ورنہ یہ معاشرتی اور تعلیمی خلا ایسا گہرا ہو جائے گا جسے پُر کرنے میں صدیاں لگ جائیں گی۔ پاکستان کی بقا صرف ایٹمی طاقت ہونے میں نہیں، بلکہ ایک تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مستحکم قوم بننے میں ہے، اور اس خواب کی تعبیر صرف اس وقت ممکن ہے جب اسکولوں کے گیٹ پٹرول کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف چھٹی کے وقت کھلیں اور بند ہوں۔