کلرسیداں ٹی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی میں تعینات نرس کی شہری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی

کلرسیداں(پنڈی پوسٹ نیوز)کلرسیداں کے نواحی علاقے تل خالصہ کے رہائشی قمر وارثی نے بتایا کے گزشتہ شام ان کی بیٹی کو کتے نے کاٹ لیا تو وہ اسے فوری طور پر لے کر ٹی ایج کیو کلرسیداں ایمرجنسی میں گئے جہاں عملے کی جانب سے بچی کا ب فارم طلب کیا گیا تو انھوں نے بتایا کے جلدبازی میں وہ ب فارم لانا بھول گئے ہیں گھر فون کال کر کے بذریعہ وٹس ایپ منگوا لیتے ہیں اور اپنا اصل شناختی کارڈ بطور ضمانت جمع کروا دیتے ہیں اگر فوٹو کاپی جمع کروانی ہے تو مہلت دیں صبح جمع کروا دیں گے

تاہم بذریعہ وٹس ایپ بچی کا ب فارم منگوانے کے بعد بچی کی انٹری ہو گئی اور ڈاکٹر صاحب نے چیک اپ کر کے انجکشن لکھ دیئے تو انجکشن لگانے والی نرس نے انجکشن لگانے سے انکار کر دیا اور بچی کا ب فارم طلب کر لیا اور ضد پر اتر آئی کے مجھے فارم چیک کرواو گے تو انجکشن لگاوں گی ورنہ نہیں لگاتی جو کرنا ہے کر لو قمر وارثی کا کہنا ہے کے انھوں نے ایمرجنسی میں موجود ڈیوٹی نرس کی منت سماجت کی کے بچی تکلیف میں ہے اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے براہ مہربانی بچی کو انجکشن لگا دیں اور وٹس ایپ پر موجود ب فارم بھی چیک کروایا مگر اس نے ایک نہ سنی اور ضد پر اتر آئی اور علاج کرنے سے انکار کر دیا

قمر وارثی کے مطابق بچی کی تکلیف ان سے برداشت نہ ہوئی وہ اسے ہسپتال میں چھوڑ کر اپنے گھر واقع تل خالصہ گئے اور اصل ب فارم لے کر آئے جس کے بعد بچی کو نرس کی جانب سے ٹیکہ لگایا گیا قمر وارثی نے اس واقع پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کے وہ پاکستانی شہری ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں سرکاری ہسپتال میں ان کے ساتھ ہتک امیز رویہ اختیار کرنا ایک پاکستانی شہری کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ایمرجنسی میں لائی گئی معصوم بچی کے علاج کے بجائے نامناسب رویہ اختیار کرنے اور علاج سے انکار کرنے والی نرس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور ان کو انسانیت کا درس دیا جائے.