تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں، ایک مستحکم سمت کی ضرورت

پاکستان میں تعلیمی نصاب ہمیشہ سے ایک حساس اور اہم موضوع رہا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ زیادہ تر تعلیمی ضرورت کے بجائے سیاسی ترجیحات کا شکار بنتا رہا ہے۔ ہر نئی حکومت آتے ہی نصاب میں تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔ کہیں نئی کتابیں متعارف کروائی جاتی ہیں، کہیں مضامین کا اضافہ یا کمی کی جاتی ہے، اور کہیں پورا ڈھانچہ ہی بدل دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اساتذہ، طلبہ اور والدین سب ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہتے ہیں۔ تعلیم جیسے سنجیدہ اور طویل المدتی شعبے میں یہ مسلسل تجربات کسی طور بھی مفید ثابت نہیں ہوتے۔
نصاب کی بار بار تبدیلی سے سب سے بڑا نقصان طلبہ کو ہوتا ہے۔ ایک طالب علم جو کسی خاص نظام کے تحت تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے، اچانک نئے نصاب، نئے امتحانی طریقہ کار اور نئی کتابوں کا سامنا کرتا ہے۔ اس سے اس کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اس کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو مناسب تربیت دیے بغیر نصاب تبدیل کر دینا تدریسی معیار کو مزید گرا دیتا ہے۔ کتابیں تبدیل ہو جاتی ہیں، مگر پڑھانے کا طریقہ وہی رہتا ہے، جس سے مقاصد حاصل نہیں ہو پاتے۔
پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں۔ سرکاری اسکول، نجی اسکول، مدارس، کیمبرج سسٹم اور دیگر بورڈز۔ پہلے ہی ایک تقسیم پیدا کیے ہوئے ہیں۔ جب ان سب کے درمیان نصاب کے حوالے سے ہم آہنگی نہ ہو اور اوپر سے بار بار تبدیلیاں کی جائیں تو تعلیمی ناہمواری مزید بڑھ جاتی ہے۔ کبھی یکساں نصاب کے نام پر اصلاحات کی جاتی ہیں، تو کبھی صوبائی خودمختاری کے تحت الگ الگ سمتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ اس عدم تسلسل سے ایک واضح قومی تعلیمی وژن تشکیل نہیں پا سکا۔
نصاب کی تبدیلی کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اکثر فیصلے زمینی حقائق اور ماہرین کی جامع مشاورت کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اصلاحات محض کتابوں کے ابواب بدلنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظام کی بہتری کا تقاضا کرتی ہیں، جس میں اساتذہ کی تربیت، امتحانی نظام، طلبہ کی نفسیاتی ضروریات اور مستقبل کی معاشی منڈی کی ضروریات سب شامل ہیں۔ اگر نصاب روزگار سے ہم آہنگ نہ ہو، سائنسی اور فکری صلاحیت پیدا نہ کرے اور قومی شناخت کے ساتھ عالمی شعور بھی نہ دے سکے، تو وہ مؤثر نہیں کہلا سکتا۔
ایک مؤثر نصاب کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی قوموں کی فکری بنیاد تیار کرتا ہے۔ نصاب صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ سوچنے کا انداز، تجزیاتی صلاحیت، اخلاقی اقدار اور قومی شعور بھی تشکیل دیتا ہے۔ جدید دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جنہوں نے اپنے نصاب کو تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارت سے جوڑ دیا ہے۔ ہمارے ہاں اب بھی رٹّا سسٹم غالب ہے، جس میں طلبہ امتحان تو پاس کر لیتے ہیں مگر عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔
تو پھر حل کیا ہے؟ سب سے پہلے تعلیم کو سیاسی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کا معاملہ بنایا جائے۔ ایک خودمختار اور ماہرین پر مشتمل قومی تعلیمی کمیشن قائم کیا جائے جو طویل المدتی پالیسی مرتب کرے اور حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔ نصاب میں تبدیلی اگر ناگزیر ہو تو اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے اور اساتذہ کی مکمل تربیت کے بعد عملی شکل دی جائے۔ ساتھ ہی نصاب کو جدید سائنسی تقاضوں، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اخلاقی تربیت سے ہم آہنگ کیا جائے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نصاب کی تیاری میں مقامی زبانوں، ثقافت اور علاقائی تنوع کو بھی مناسب جگہ دی جائے۔ پاکستان ایک کثیرالثقافتی معاشرہ ہے جہاں مختلف صوبوں اور علاقوں کی اپنی تاریخ، ادب اور سماجی روایات ہیں۔ اگر نصاب ان پہلوؤں کو نظرانداز کرے گا تو طلبہ اپنی شناخت سے دور ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح قومی تاریخ کو متوازن اور تحقیقی انداز میں پیش کرنا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ پیدا ہو، نہ کہ محض یک طرفہ بیانیہ۔ ایک ایسا نصاب جو اپنی جڑوں سے جڑا ہو اور ساتھ ہی عالمی حقائق سے ہم آہنگ ہو، زیادہ پائیدار اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ ہمیں امتحانی نظام میں بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ نصاب اور امتحان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب تک امتحانات رٹے بازی پر مبنی رہیں گے، بہترین نصاب بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔ پراجیکٹ بیسڈ لرننگ، تحقیق، پریزنٹیشن اور عملی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ طلبہ کی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتیں نکھر سکیں۔ اگر ہم نصاب، تدریس اور امتحان تینوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت بہتر بنا لیں تو تعلیم واقعی قومی ترقی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مضبوط نصاب کے بغیر مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ تعلیمی استحکام ہی معاشی، سماجی اور فکری استحکام کی بنیاد ہے۔ ہمیں فوری سیاسی فائدے کے بجائے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے نصاب کو مستقل مزاجی، تحقیق اور قومی ضرورت کے مطابق ترتیب دے دیا تو یہی قدم پاکستان کی ترقی کی سمت میں سب سے بڑا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ

Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.