سڑکوں پر چلنے والی مختلف قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت کو ٹریفک کہا جاتا ہے۔ جس طرح پوری کائنات کا نظام قانونِ قدرت کے تحت چل رہا ہے، مثلاً سورج، چاند اور ستاروں کا آنا جانا، موسموں کا بدلنا وغیرہ، یہ سب ایک قانون کے تابع ہیں۔ اسی وجہ سے سب ایک دوسرے سے نہ ٹکراتے ہیں، نہ حادثے کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ان کے کسی عمل سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے۔ بالکل اسی طرح سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بھی انسانوں نے قوانین ترتیب دیے ہیں تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آ سکے۔
مگر بدقسمتی سے ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنے کا شعور کا فقدان ہے۔ قانونی پیچیدگیوں سے قطع نظر اگر ہم اخلاقی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو ٹریفک قوانین کی پابندی نہایت ضروری ہے، ورنہ بہت سی جانوں کا نقصان بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار کا ہیلمٹ ہو یا کار سوار کی سیٹ بیلٹ، دورانِ سفر موبائل کا استعمال ترک کرنا ہو، اور اپنی لائن میں چلنے سے لے کر ٹریفک سگنل کی پابندی تک، ہر چند ناگزیر ہے۔ مہذب ممالک اور مہذب شہری ہمیشہ قانون کا احترام کرتے ہیں۔
فرانس میں ایک جادوئی سڑک ہے جو عموماً دن میں دو بار نظر آتی ہے۔ اس سڑک کا نام پیسج دی گووا ہے۔ یہ سڑک خلیج برزینف نامی علاقے کو ایک جزیرے سے جوڑنے کے کام آتی ہے۔ یہ سڑک سمندر کی لہروں میں ڈوبی رہتی ہے اور دن میں چند ہی گھنٹوں کے لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ سڑک منفرد ہونے کے ساتھ خطرناک بھی ہے۔ اس سڑک کی لمبائی 2.58 میل ہے۔ اس سڑک پر اگر کبھی دورانِ سفر پانی کی سطح بلند ہو جائے اور لوگ پھنس جائیں تو وہاں لوگوں کے لیے حفاظتی مینار بنائے گئے ہیں،
جس پر چڑھ کر جان بچائی جا سکتی ہے اور پانی کے کم ہو جانے پر اس مینار سے اتر کر اپنا سفر مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سفر بہت چھوٹا ضرور ہوتا ہے، مگر یہاں ہر وقت چوکنہ ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ ذرا سی لاپرواہی اور اگنورنس سے مسافر ایکسیڈنٹ سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔
بالکل اسی طرح چھوٹی سے چھوٹی لاپرواہی سے بچنے کے لیے سمجھدار لوگ ہر کام کے کچھ ایس او پیز، (حرفِ عام میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) ضرور بناتے ہیں تاکہ پیش آنے والے حادثات سے بچا جا سکے۔
ذرا سی لاپرواہی بھوپال ٹریجڈی جیسی بڑی آفت بن سکتی ہے۔ 1984 کی رات ایسا ہی ایک حادثہ رونما ہوا جس میں ٹائٹینک، سونامی، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور 2005 کے زلزلے سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ اس حادثے میں لوگ سانس کے ذریعے تیزاب اور کیمیکل پھیپڑوں میں لینے لگے اور چشمِ زدن میں 75 فیصد بھوپال تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ ایک معمولی سی غلطی سے لوگوں کی اپنی سانسوں نے ہی انہیں مارنا شروع کر دیا۔
اس دن لوگوں نے اپنی سانسیں خود روکنا شروع کر دیں۔ لوگ شہر چھوڑ کر بھاگنا چاہ رہے تھے، مگر ناکام رہے اور دو گھنٹے کے اندر شہریوں کی لاشیں سڑکوں اور بس اسٹینڈز پر پڑی سڑنے لگیں۔ ہر ہاسپٹل ایمرجنسی الارم دے رہا تھا۔ اس حادثے میں تقریباً تین ہزار سے زیادہ لوگ مر گئے۔ یہ حادثہ ایک دن میں نہیں ہوا، اس کی شروعات 1976 میں ہوئی۔ بھوپال ٹریجڈی کو انویسٹیگیٹ کیا گیا تو پتہ چلا کہ گیس لیک پہلے بھی ہوئی تھی۔ 1976 میں جس میں دو مزدوروں کی سانس میں کیمیکل جانے سے موت ہوئی تھی۔
انتظامیہ نے آنکھیں موند لیں۔ یہی واقعہ 1977 میں پھر ہوا، جس میں ایک ورکر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ اور پھر 1982 میں 24 افراد سانس میں کیمیکل آنے سے مر گئے۔ اس حادثے کے بعد باقاعدہ اخبار میں رپورٹ پیش کی گئی، جو کہ شاید وارننگ بھی تھی کہ والکینو (آتش فشاں) سر پر کھڑا ہے۔ قابل اجمیری کا ایک شعر ہے:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔
یہ خبر اخباروں کی شہ سرخیوں کا حصہ بن گئی۔ لوگ 24 افراد کی موت اور ہلاکت کو بھول کر اس والکینوں کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ اسمبلی میں مباحثہ ہوتا رہا اور یہ 24 افراد کی ہلاکت کی رپورٹ بھی ایک ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی۔ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے سے کبوتر کی موت ٹل نہیں جاتی، بلکہ ہلاکت کو اور آسان بنا دیتی ہے۔
دو سال بعد پھر وہی حادثہ ہوا، جس کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تین دسمبر 1984 میں یونین کاربائٹ انڈیا لمیٹڈ بھوپال کے ایک پیسٹی سائیڈ پلانٹ میں ایک انتہائی مہلک گیس میتھائل آئیسوسائینیٹ کے لیک ہونے سے 5 لاکھ 58 ہزار 125 افراد کی انجری ہوئی، 39 ہزار افراد معذور ہوئے اور تقریباً 38 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ اور دو ہفتے بعد مزید تقریباً 8 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ میتھائل آئیسوسائینیٹ گیس آکسیجن میں شامل ہو کر پورے بھوپال میں قابض ہو چکی تھی۔ جو شخص سانس لیتا تھا وہ مر جاتا۔ حشر کا سماں تھا۔ ہر شخص مرنے کی تمنا کرنے لگا تھا۔ سانس کی گھٹن اس قدر تھی کہ لوگ آرزو مند تھے کہ انہیں موت آسان لگنے لگی تھی۔
یہ مہذب انسانوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو نہ دہرانے کا عزم کرتے ہوئے تدابیر کرتے ہیں، جسے حرفِ عام میں اور پروفیشنل زبان میں مینول اور ایس او پیز کے نام سے جانتے ہیں۔ فرانس نے ایک چھوٹی سی سڑک کے کھلنے اور بند کرنے کے لیے ایس او پیز وضع کیں تاکہ کسی ایک شخص کی بھی جان کا ضیاع نہ ہو، جبکہ بھوپال حادثے نے ثابت کیا کہ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔
آج بھی ایشیائی ممالک میں بے شمار فیکٹریاں موجود ہیں جہاں علی الاعلان غلط پریکٹسز ہو رہی ہیں۔ اگر کہیں چھاپہ مارا جاتا ہے تو مک مکاؤ کا کلچر اس قدر عام ہے کہ اسے معیوب سمجھا ہی نہیں جاتا۔ سانحہ لیاقت آباد ہو جہاں 300 کے قریب لڑکیاں فیکٹری میں زندہ جل گئیں، یا سانحہ گل پلازہ جہاں آگ لگانے کے بعد پتہ چلا کہ یہاں تو فائر ایکسٹنگشرز کا نام و نشان تک نہ تھا۔
مہذب ممالک میں سائیکل چلانے سے لے کر جہاز چلانے تک کے کچھ آداب، کچھ ایس او پیز ہیں۔ اور یہاں فیکٹریاں بغیر ایس او پیز کے پیسہ کمانے میں لگی ہوتی ہیں، مہذب ممالک میں سائیکل سوار بھی ہیلمٹ پہن کر نکلتا ہے، جبکہ یہاں موٹرسائیکل سوار بھی زلفیں لہرا کر چلانا پسند کرتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھ کر سیٹ بیلٹ تو درکنار، ہم ٹریفک سگنل کو بھی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ جب معاشرتی برائیاں اور ہٹ دھرمی علی الاعلان ہونے لگیں تو معاشرے کو والکینو (آتش فشاں) کا انتظار نہیں، بھوپال حادثے کا انتظار ہوتا ہے۔ (جمیل احمد)