
کہوٹہ کی فضا میں ان دنوں ایک عجیب سی بے چینی گھلی ہوئی ہے۔ کاغذوں میں کروڑوں روپے کی گرانٹس، اعلانات اور افتتاحی تقاریب کی چمک دمک اپنی جگہ، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ایک تلخ داستان سناتی ہے۔ تحصیل کے تقریباً ستر فیصد علاقے آج بھی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ ترجیحات کے بگاڑ کی واضح علامت ہے۔یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں، بلکہ برسوں سے پنپتی ہوئی وہ محرومی ہے جس نے اب ایک اجتماعی غصے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ گرڈ، دھپری، بلوہا، نواز کالونی اور فاروق کالونی جیسے علاقے، جن کے نام پر واٹر سپلائی اسکیمیں منظور ہوئیں، آج بھی پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ منصوبے بنے، فنڈز جاری ہوئے، افتتاح بھی ہوئے،
مگر پانی آج تک ان کے گھروں تک نہیں پہنچ سکا۔اہل علاقہ کے مطابق اصل مسئلہ صرف سہولت کی عدم فراہمی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جڑی بدانتظامی اور مبینہ کرپشن ہے۔ شکایات کے مطابق من پسند افراد کو کنکشن دے کر نہ صرف میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں بلکہ سرکاری وسائل کا بھی بے دریغ ضیاع ہوا۔ کئی گلیاں صرف کھدائی تک محدود رہیں، جہاں پائپ لائن ڈالنے کے نام پر زمین تو اکھاڑ دی گئی مگر کام ادھورا چھوڑ دیا گیا۔
نتیجتاً وہ گلیاں آج مٹی، کیچڑ اور کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں، جو شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی کو مزید اذیت ناک بنا رہی ہیں۔یہ صورتحال صرف شہری مسائل تک محدود نہیں، بلکہ ایک بڑے انتظامی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بارہا متعلقہ محکموں، خصوصاً پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، کو شکایات درج کروائی گئیں مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ ٹھیکیداروں کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر رفوچکر ہونے میں عافیت جانی۔کہوٹہ کے باسی اس رویے کو “سوتیلی ماں جیسا سلوک” قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق ٹاو¿ن کے چند مخصوص علاقوں کو نوازنے کے لیے باقی ماندہ آبادی کو نظر انداز کیا گیا، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ایک جدید دور میں، جہاں بنیادی سہولیات ہر شہری کا حق ہیں، وہاں پانی جیسی ضرورت کا نہ ملنا انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شہر بھر کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ذخیرہ آب (ڈیم) کے اطراف بھی صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ کچرے کے ڈھیر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ پانی کے معیار پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ یہ منظر کسی بھی ذمہ دار ادارے کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔اب حالات اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اہل علاقہ نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں عوام اپنے بنیادی حق کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ ان کا مطالبہ واضح ہے: واٹر سپلائی اسکیموں سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا شفاف آڈٹ کیا جائے، ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور تمام علاقوں کو بلا امتیاز پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی بھی کڑی تنقید کی زد میں ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر نقشوں کے مطابق کنکشن نہیں دیے گئے اور منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے
تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ اور کب تک عوام کو محض وعدوں اور اعلانات پر ٹرخایا جاتا رہے گا؟یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر فوری طور پر صورتحال کو سنبھالا نہ گیا تو یہ مسئلہ صرف پانی کی قلت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے سماجی و انتظامی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت اور اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے شفافیت، جوابدہی اور موثر عملدرآمد ناگزیر ہیں۔کہوٹہ کے شہری اب صرف وعدے نہیں، عملی تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ پانی محض ایک سہولت نہیں، زندگی کی بنیاد ہے۔