پٹرول سستا، مگر عوام کے لیے نہیں!

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان اب صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ عوام کے صبر کا امتحان بن چکا ہے۔ حالیہ فیصلے میں حکومت نے ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا، حالانکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ قیمتیں برقرار رکھنے سے حاصل ہونے والا مالیاتی فرق سڑکوں اور دیگر منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا، مگر عام شہری کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ جب مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام نے اٹھایا ہے تو ریلیف بھی براہِ راست انہیں کیوں نہیں دیا جا رہا؟
چند روز قبل ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والا ایک کارٹون سوشل میڈیا پر بھی خاصا مقبول ہوا۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ جب حکومت پٹرول مہنگا کرتی ہے تو وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتی ہے، لیکن جب قیمتیں کم کرنے کی باری آتی ہے تو کچھوے کی رفتار بھی تیز معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طنزیہ خاکہ تھا، مگر اس نے عوامی احساسات کی بھرپور ترجمانی کی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی سا تناؤ پیدا ہوتے ہی ہمارے ہاں قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک میزائل گرے تو قیمتیں بڑھ گئیں، دوسرا حملہ ہوا تو مزید اضافہ ہو گیا، لیکن جب جنگی کشیدگی کم ہوئی، خام تیل کی قیمتیں نیچے آئیں اور عالمی منڈی میں مسلسل کمی دیکھی گئی تو حکومت کی رفتار اچانک سست پڑ گئی۔ عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں وہی عجلت کہیں دکھائی نہیں دیتی جو قیمتیں بڑھاتے وقت دکھائی جاتی ہے۔
پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، کرایے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے، سبزیاں، پھل، آٹا، چینی، دودھ، ادویات اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ یوں پٹرول پمپ پر ہونے والا ایک فیصلہ لاکھوں گھروں کے ماہانہ بجٹ کو بدل دیتا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم، ایک طالب علم، ایک رکشہ ڈرائیور اور ایک چھوٹا تاجر سب اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ ان کی آمدنی میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں ہوتا۔
پاکستانی عوام کا شکوہ صرف قیمتوں سے نہیں بلکہ اس دوہرے معیار سے ہے جس کے تحت عالمی منڈی میں اضافہ فوراً منتقل کر دیا جاتا ہے لیکن کمی کو مختلف مالیاتی وجوہات، ٹیکسوں اور پالیسیوں کی آڑ میں روک لیا جاتا ہے۔ اگر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو بنیاد بنا کر قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو پھر اسی اصول کے تحت کمی بھی فوری طور پر عوام تک پہنچنی چاہیے۔ یکطرفہ فارمولہ نہ معاشی انصاف ہے اور نہ ہی عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔
سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایران اور خلیجی ممالک کے انتہائی قریب واقع ہے، مگر اس کے باوجود یہاں ایندھن کی قیمتیں کئی ایسے ممالک سے زیادہ ہیں جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر یہی تیل درآمد کرتے ہیں۔ یقیناً ہر ملک کے ٹیکس، سبسڈیز، کرنسی کی قدر اور پالیسیوں میں فرق ہوتا ہے، اس لیے صرف فاصلے کی بنیاد پر قیمتوں کا براہِ راست موازنہ درست نہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ ہماری جغرافیائی اہمیت، ایران کے ساتھ زمینی سرحد اور خلیجی ممالک سے قریبی روابط کو عوامی ریلیف میں کیوں تبدیل نہیں کیا جا سکا؟ اگر یہ محلِ وقوع ہماری معیشت کے لیے ایک قدرتی نعمت ہے تو اس کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچنے چاہئیں۔
یہاں حکومت کے لیے چند سنجیدہ نکات قابلِ غور ہیں۔ سب سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار مکمل شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ عالمی قیمت، ٹیکس، لیوی، ڈیلر مارجن اور دیگر اخراجات میں کتنا حصہ شامل ہے۔ دوسرا، جب عالمی منڈی میں مسلسل کمی آئے تو اس کا فائدہ بروقت عوام تک منتقل کیا جائے۔ تیسرا، توانائی کی پالیسی کو صرف درآمدی تیل تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی وسائل، ریفائننگ کی صلاحیت، متبادل توانائی اور علاقائی توانائی تعاون پر بھی توجہ دی جائے۔ چوتھا، ہمسایہ ممالک اور خطے کے توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ ایسے معاشی اور تجارتی انتظامات تلاش کیے جائیں جو پاکستان کے قومی مفاد، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اقتصادی استحکام—تینوں کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام کو ریلیف دینا صرف سیاسی مقبولیت کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کا بھی ایک مؤثر طریقہ ہے۔ جب ایندھن سستا ہوگا تو نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی، صنعت کو سہولت ملے گی، زرعی پیداوار کی لاگت گھٹے گی، مہنگائی میں کمی آئے گی اور خریداری کی قوت بہتر ہوگی۔ اس کا مثبت اثر مجموعی معیشت پر بھی پڑے گا۔
عوام یہ نہیں چاہتے کہ حکومت معاشی حقائق سے آنکھیں بند کر لے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جس رفتار سے ان پر بوجھ ڈالا جاتا ہے، اسی رفتار سے آسانی بھی فراہم کی جائے۔ اگر عالمی منڈی میں اضافے کا اثر پاکستان تک چند دنوں میں پہنچ سکتا ہے تو کمی کا اثر بھی مہینوں تک فائلوں میں نہیں رکا رہنا چاہیے۔
ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو روزمرہ زندگی میں کتنا ریلیف دے سکتی ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے پٹرولیم پالیسی میں شفافیت، بروقت فیصلوں اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ بصورتِ دیگر وہ کارٹون، جس میں قیمتیں بڑھانے کے لیے حکمران ہوا کے گھوڑے پر اور کم کرنے کے لیے کچھوے پر سوار دکھائے گئے تھے، محض طنز نہیں بلکہ عوامی احساسات کی مستقل تصویر بن کر رہ جائے گا۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ