عشرہئ فاروق و حسینؓ — عدل و حق کی دو درخشاں مثالیں

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کی عظمت صرف فتوحات، حکومتوں اور وسیع سلطنتوں کی مرہونِ منت نہیں رہی بلکہ ان عظیم شخصیات کی بدولت قائم ہوئی جنہوں نے اپنے کردار، اخلاص اور قربانیوں سے اسلام کے اصولوں کو زندہ رکھا۔ ان شخصیات میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام نہایت منفرد ہے۔ اگر حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں عدل، مساوات، احتساب اور فلاحِ عامہ کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال آج بھی دنیا دیتی ہے تو حضرت امام حسینؓ نے اسی نظامِ عدل اور اسلامی اقدار کو بچانے کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی پیش کر دی۔ گویا اسلامی تاریخ میں فاروقی عدل اور حسینی قربانی ایک ہی زنجیر کی دو مضبوط کڑیاں ہیں۔
ایک نے اسلام کے سیاسی و معاشرتی نظام کی بنیادوں کو استحکام بخشا اور دوسرے نے ان بنیادوں کو ظلم و استبداد کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے کربلا کے میدان میں لازوال قربانی دی۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ کا ذکر ایک ساتھ کیا جاتا ہے تو یہ صرف دو عظیم ہستیوں کا تذکرہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کے ان دو بنیادی اصولوں ”عدل اور حق پر استقامت“کی یاد تازہ ہوتی ہے جن کے بغیر نہ کوئی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ کوئی امت اپنے وقار کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔ آپؓ کی زندگی اسلام کی سربلندی، حق کے غلبے اور مظلوموں کی داد رسی کی روشن مثال ہے۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست تاریخ کی عظیم ترین فلاحی ریاستوں میں شمار ہونے لگی۔ انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک عام شہری بھی خلیفہ ئوقت سے سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ خود کو جواب دہ سمجھتا تھا۔ آج بھی دنیا میں عدل و انصاف کی مثال دینی ہو تو حضرت عمر فاروقؓ کا نام سرفہرست آتا ہے۔
دوسری طرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نواسہ ئ رسول ﷺ، جگر گوش? فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ کے فرزند تھے۔ آپؓ نے اپنے نانا جان ﷺ کی امت کو یہ درس دیا کہ حق اور باطل کے معرکے میں خاموش تماشائی بننا مؤمن کی شان نہیں۔ کربلا کی سرزمین پر آپؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ ایسی قربانی پیش کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپؓ نے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ دین کی سربلندی، عدل کے تحفظ اور حق کی بقا کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت امام حسینؓ کے درمیان تعلق صرف ایک خلیفہ اور ایک صحابی کے فرزند کا نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور خاندانی قربت کا بھی تھا۔ حضرت عمرؓ اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ تاریخ میں آتا ہے کہ آپؓ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو خاص عزت و احترام دیتے، ان کے لیے وظائف مقرر فرماتے اور انہیں اہلِ بدر کے مجاہدین کے برابر عطیات عطا کرتے تھے، حالانکہ ان کی عمر اس وقت کم تھی۔ جب بعض لوگوں نے اس پر سوال کیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حسن اور حسینؓ کا مقام رسول اللہ ﷺ سے نسبت کی وجہ سے سب سے بلند ہے۔
حضرت حسینؓ بھی حضرت عمرؓ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ آپؓ نے اپنے بچپن اور جوانی میں حضرت عمرؓ کی دیانت، عدل اور تقویٰ کو قریب سے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب آپؓ نے ظلم اور جبر کے خلاف قیام کیا تو اس کے پس منظر میں وہی اسلامی اصول کارفرما تھے جنہیں حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں عملی شکل دی تھی۔ گویا حضرت عمرؓ نے عدل کی جو بنیادیں قائم کیں، حضرت حسینؓ نے انہی اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانی دی۔
بدقسمتی سے بعض لوگ ان عظیم شخصیات کو امت کے اتحاد کے بجائے اختلاف کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ دونوں حق، عدل، تقویٰ اور اسلام کی سربلندی کے علمبردار تھے۔ ایک نے اسلامی ریاست کو عدل و انصاف کا نمونہ بنایا اور دوسرے نے اس عدل و حق کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔ ان دونوں کی زندگیاں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی نظر آتی ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کے مقابل۔
آج امتِ مسلمہ جن سیاسی، سماجی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، ان کا حل بھی فاروقی عدل اور حسینی کردار میں پوشیدہ ہے۔ حکمران حضرت عمرؓ کی جواب دہی، دیانت اور انصاف کو اپنائیں اور عوام حضرت حسینؓ کی حق پسندی، استقامت اور قربانی کے جذبے کو اپنے اندر پیدا کریں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
عشرہئ فاروق و حسینؓ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ عدل، حق، امانت، شجاعت اور قربانی کا دین ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ حق کے راستے پر چلنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، خواہ انہیں اقتدار ملے یا قربانی دینی پڑے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے آج کے مسلمان کو سمجھنے اور اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

ضیائالرحمن ضیاءؔ