والدین بچوں کی خود حفاظت کریں

کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے بچے ہوتے ہیں۔ اگر بچے محفوظ ہوں تو قوم کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے، اور اگر ان کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی حفاظت خطرے میں پڑ جائے تو کوئی بھی ترقی، کوئی بھی معاشی منصوبہ اور کوئی بھی سیاسی کامیابی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جن میں معصوم بچے جنسی استحصال، ہراسانی، اغوا اور آن لائن جرائم کا شکار بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر والدین کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ بچوں کی حفاظت کی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی ہے۔
والدین کی ایک معمولی سی غفلت بعض اوقات پوری زندگی کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔ کم عمر بچوں کو اکیلے بازار بھیج دینا، انہیں کسی کے گھر تنہا چھوڑ دینا، یا یہ سمجھ لینا کہ چونکہ فلاں شخص قریبی رشتہ دار یا جاننے والا ہے اس لیے کوئی خطرہ نہیں، ایک خطرناک سوچ ثابت ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جرم کسی رشتے کا محتاج نہیں ہوتا۔ اکثر مجرم بچوں کے اعتماد، معصومیت اور تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے اندھا اعتماد کرنے کے بجائے دانشمندانہ احتیاط ضروری ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر رشتہ دار مشکوک ہے بلکہ یہ کہ بچے کی حفاظت کے معاملے میں احتیاط کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جہاں علم اور رابطوں کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں بے حیائی، فحاشی اور اخلاقی انحطاط کے بھی بے شمار راستے پیدا کیے ہیں۔ مختصر ویڈیوز پر مبنی بعض پلیٹ فارمز، جن میں ٹک ٹاک سمیت دیگر ایپس شامل ہیں، پر غیر اخلاقی مواد، نامناسب رجحانات اور کم عمر صارفین کے لیے نقصان دہ مواد کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث ہوتی رہی ہے۔ پاکستان میں بھی متعلقہ ادارے متعدد مواقع پر ایسے مواد کے خلاف کارروائی اور پلیٹ فارمز کو مؤثر نگرانی کے لیے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔
ماہرین اور بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آن لائن دنیا میں بچوں کو صرف نامناسب مواد ہی نہیں بلکہ ایسے افراد سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے جو دھوکے، دوستی یا مختلف بہانوں سے ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر والدین کی نگرانی، مناسب رہنمائی اور کھلی گفتگو انتہائی ضروری ہے۔
اسلام نے بھی بچوں کی حفاظت کو محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ والدین اپنے بچوں کے نگہبان ہیں، اس لیے ان کی حفاظت، تربیت اور نگرانی ان کی دینی ذمہ داری بھی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق قائم کریں کہ اگر کسی نے انہیں غلط انداز میں چھونے کی کوشش کی ہو، ڈرایا ہو، یا کوئی نامناسب بات کہی ہو تو وہ بلا خوف اپنے والدین کو بتا سکیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی بچے صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں ڈانٹ، شرمندگی یا کسی کے ناراض ہونے کا خوف ہوتا ہے۔ یہ خاموشی ہی مجرم کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
یہاں حکومت کی ذمہ داری بھی کسی صورت کم نہیں ہوتی۔ ریاست کو چاہیے کہ انٹرنیٹ پر پھیلنے والے فحش، غیر اخلاقی اور بچوں کے لیے نقصان دہ مواد کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور سخت قانونی اقدامات کو مزید مضبوط بنائے۔ متعلقہ اداروں کو صرف شکایات کا انتظار کرنے کے بجائے فعال انداز میں ایسے مواد کی نشاندہی اور روک تھام کرنی چاہیے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی پاکستان کے قوانین کے مطابق بچوں کے تحفظ اور غیر قانونی مواد کی فوری نگرانی کا پابند بنایا جانا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کے خلاف، جن پر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے، قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزا کا مؤثر نفاذ بھی ناگزیر ہے تاکہ یہ سزا معاشرے میں دوسروں کے لیے بھی تنبیہ بنے۔ صرف گرفتاریاں یا مقدمات کافی نہیں، بلکہ انصاف کا بروقت اور مؤثر نفاذ ہی جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اسکولوں، مدارس، مساجد اور میڈیا کے ذریعے بچوں کے تحفظ سے متعلق مستقل آگاہی مہم چلائی جائے۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق یہ سکھایا جائے کہ ان کے جسم کی حرمت کیا ہے، کون سا رویہ قابلِ قبول نہیں، اور کسی بھی مشتبہ صورت حال میں انہیں فوراً کس سے رابطہ کرنا چاہیے۔ یہ تعلیم انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ محفوظ بنانے کے لیے ہے۔
آخر میں ہر والدین سے یہی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی حفاظت کو محض قسمت یا دوسروں کی دیانت پر نہ چھوڑیں۔ انہیں اکیلا بھیجنے، غیر ضروری طور پر تنہا چھوڑنے یا ان کی آن لائن زندگی سے بے خبر رہنے کی عادت ترک کیجیے۔ بچوں کو دین، حیا، اعتماد اور احتیاط کی ایسی تربیت دیجیے جو انہیں زندگی بھر محفوظ رکھ سکے کیونکہ یاد رکھیے، ایک لمحے کی غفلت کبھی کبھی پوری زندگی کے آنسو بن جاتی ہے، جبکہ ایک لمحے کی احتیاط ایک معصوم زندگی کو تباہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ