پاکستان میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کوئی نئی بات نہیں۔ تقریباً ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی شہر میں بلڈوزر چلتے ہیں، مارکیٹیں مسمار ہوتی ہیں، دکانیں گرائی جاتی ہیں، ہوٹل ختم کر دیے جاتے ہیں، رہائشی مکانات غیر قانونی قرار دے دیے جاتے ہیں اور کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کارروائیوں کو قانون کی عملداری قرار دیتے ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال ہر بار اپنی جگہ باقی رہ جاتا ہے کہ کیا تجاوزات کے خلاف کارروائی کا واحد حل عمارتوں کو گرانا ہی ہے، یا ایسا کوئی متبادل نظام بھی بنایا جا سکتا ہے جس سے قانون بھی برقرار رہے، قومی خزانے کو بھی فائدہ ہو اور عوام کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان نہ اٹھانا پڑے؟
قانون کی عملداری ہر مہذب ریاست کی بنیاد ہے، اس لیے ناجائز قبضوں اور حقیقی تجاوزات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ سرکاری سڑکوں، نالوں، پارکوں، فٹ پاتھوں یا ایسی زمینوں پر قائم تعمیرات جو عوامی مفاد، ٹریفک، نکاسی? آب یا شہری سلامتی کے لیے خطرہ ہوں، ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ لیکن تمام معاملات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت سی ایسی عمارتیں بھی ہوتی ہیں جو صرف اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دی جاتی ہیں کہ وہ سرکاری زمین پر قائم ہیں، حالانکہ وہ نہ ٹریفک میں رکاوٹ بنتی ہیں، نہ عوام کے لیے خطرہ ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی بنیادی منصوبے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات میں بلڈوزر ہی پہلا اور آخری حل کیوں بن جاتا ہے؟
اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ماضی میں کئی بڑے ہوٹل، پلازے اور تجارتی عمارتیں تجاوزات کے نام پر مسمار کی گئیں۔ آج بھی بعض مقامات پر ان کی جگہ ملبے کے ڈھیر یا ویران پلاٹ موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہی عمارتوں کو قانونی طریقے سے حکومتی تحویل میں لے کر ان کے مالکان سے باقاعدہ لیز یا کرایہ وصول کیا جاتا، یا نئے معاہدے کے تحت انہیں چلانے کی اجازت دی جاتی، تو کیا اس سے ریاست کو زیادہ فائدہ نہ ہوتا؟ ایک طرف قومی خزانے کو مسلسل آمدنی حاصل ہوتی، دوسری طرف سینکڑوں ملازمین کا روزگار محفوظ رہتا، کاروبار جاری رہتے اور معیشت کو بھی نقصان نہ پہنچتا۔
اسی طرح جب کسی رہائشی علاقے میں سینکڑوں مکانات تعمیر ہو جاتے ہیں اور برسوں بعد انہیں غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے بڑا نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی یا قرض لے کر ایک گھر بنایا، وہ اکثر یہ سمجھ کر سرمایہ کاری کرتا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے ہوں گے۔ اگر تعمیرات غیر قانونی تھیں تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، دیواریں اٹھ رہی تھیں اور چھتیں ڈال دی گئیں، تب متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو نہ کروڑوں روپے ضائع ہوتے اور نہ ہی لوگ بے گھر ہوتے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا ہے۔ آج پاکستان کے مختلف شہروں میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی پلاٹ خریدنے میں لگا دی، مگر چند سال بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ سوسائٹی غیر منظور شدہ تھی یا اس کے این او سی میں مسائل تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام شہری آخر کیسے معلوم کرے کہ کون سی سوسائٹی قانونی ہے اور کون سی نہیں؟ یہ ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہے، عوام کی نہیں۔ اگر کوئی سوسائٹی عوام کو دھوکا دے کر پلاٹ فروخت کر رہی ہے تو متعلقہ ادارے ابتدا ہی میں اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ اشتہارات شائع ہوتے رہتے ہیں، دفاتر کھلے رہتے ہیں، کروڑوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن سرکاری ادارے خاموش رہتے ہیں۔ پھر جب ہزاروں لوگ سرمایہ کاری کر چکے ہوتے ہیں تو اچانک اعلان کر دیا جاتا ہے کہ یہ سوسائٹی غیر قانونی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان فراڈ کرنے والوں کو نہیں بلکہ عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کے لیے ایک جدید، شفاف اور مستقل نظام تشکیل دے۔ ہر شہر میں تمام سرکاری اور نجی اراضی کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ ہر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی فہرست سرکاری ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز اور ضلعی دفاتر میں نمایاں طور پر موجود ہو تاکہ کوئی بھی شہری سرمایہ کاری سے پہلے آسانی سے تصدیق کر سکے۔ اگر کوئی سوسائٹی یا منصوبہ غیر قانونی ہو تو اس کے اشتہارات، بکنگ اور فروخت کو ابتدا ہی میں روک دیا جائے، نہ کہ ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی ڈوبنے کے بعد کارروائی کی جائے۔
اسی طرح حکومت کو تجاوزات کے معاملے میں ”ایک ہی حل سب پر لاگو” کی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔ جہاں واقعی عوامی مفاد، سیکیورٹی یا شہری منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن جہاں عمارت کو محفوظ رکھتے ہوئے قانونی اور مالیاتی حل ممکن ہو، وہاں لیز، جرمانے، کرایہ یا دیگر قانونی انتظامات کے ذریعے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف قومی وسائل محفوظ رہیں گے بلکہ حکومت کو مستقل آمدنی بھی حاصل ہوگی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جن سرکاری اہلکاروں کی غفلت یا بدعنوانی کے باعث غیر قانونی تعمیرات برسوں تک جاری رہتی ہیں، انہیں بھی قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ اگر صرف عام شہری نقصان اٹھائے اور وہ افسران جنہوں نے آنکھیں بند رکھیں یا غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی، کسی احتساب سے بچ جائیں، تو یہ انصاف نہیں بلکہ انتظامی ناکامی ہے۔
ایک مہذب ریاست کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ غیر قانونی تعمیرات گرا دے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہونے دے جن میں عوام دھوکے کا شکار ہوں۔ قانون کی اصل روح سزا سے پہلے احتیاط، نگرانی اور بروقت عملدرآمد میں ہے۔ اگر ادارے ابتدا ہی میں اپنا کردار ادا کریں، شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کریں اور شفاف نظام قائم کریں تو نہ بلڈوزروں کی ضرورت پڑے گی، نہ لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی ملبے کا ڈھیر بنے گی، اور نہ ہی ریاست کو اپنے ہی شہریوں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ