انسانیت کا بے لوث مسافر: مہر غلام حیدر بھروانہ اور خدماتِ خلق تنظیم کا سفرِ عشق

عبادتِ الٰہی کا ایک رخ اگر سجدہ و رکوع ہے، تو دوسرا اور حسین ترین رخ مخلوقِ خدا کی خدمت ہے۔ اسی پاکیزہ جذبے کے ساتھ سنہ 2000ء میں شروع ہونے والا ایک عزم، آج ایک تناور اور سایہ دار درخت بن چکا ہے۔ بانی و سربراہ خدماتِ خلق تنظیم (PWO) قائم بھروانہ، مہر غلام حیدر بھروانہ نے آج سے 26 سال پہلے عوامی خدمت کا جو پودا لگایا تھا، وہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ سسکتی ہوئی انسانیت کو ٹھنڈی چھاؤں فراہم کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک تنظیم کا نام نہیں، بلکہ ایک جنون کا نام ہے؛ ایک ایسے لازوال جذبے کا نام ہے جو مہر غلام حیدر بھروانہ کے دل میں بچپن سے موجزن تھا اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں کے باوجود آج بھی اسی معصومیت، خلوص اور پوری شدت کے ساتھ زندہ و جاوید ہے۔

میدانِ کربلا کی یاد اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ
جب دس محرم الحرام کو فضا سوگوار ہوتی ہے اور عاشقانِ حسینؑ زنجیر زنی اور ماتم کے ذریعے مولا پاک کی بارگاہ میں اپنا نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں، تو مہر غلام حیدر بھروانہ اور ان کی ٹیم ایک سچے حسینی کردار کی صورت میدانِ عمل میں موجود ہوتی ہے۔ تپتی دھوپ، پیاس کی شدت اور غمِ حسینؑ میں ڈوبے ماتمی جوانوں کو فوری ریسکیو اور طبی امداد فراہم کرنا کوئی معمولی کام نہیں، یہ اہلِ بیتؑ سے سچی محبت کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔
اس عظیم مشن میں شہر کے معروف ڈاکٹرز، اور ملک صاحبان کھوکھر برادری کا مخلصانہ تعاون اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب نیت سچی اور مقصد نیک ہو تو پورا معاشرہ آپ کی پشت پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ مہر غلام حیدر بھروانہ کا ہمیشہ یہ ماننا رہا ہے کہ سید غضنفر عباس شاہ اور تمام ساداتِ کرام کی خصوصی شفقت اور دعا بھری محبت ان کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہی ہے، اور ان بزرگوں کی تھپکی اور حوصلہ افزائی نے ان کے قدموں کو کبھی ڈگمگانے نہیں دیا۔
آفات میں فرشتۂ رحمت: سیلاب سے زلزلوں تک
جب بھی آسمان سے کوئی آفت اتری یا زمین نے اپنے ہی بیٹوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا—چاہے وہ سندھ اور پنجاب کے ہولناک سیلاب ہوں یا کوئی بھی قدرتی آفت—مہر غلام حیدر بھروانہ اور پی ڈبلیو او کے جاں نثار رضا کاروں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر لاچار، بے بس اور لاوارث انسانوں کو گلے سے لگایا۔

جہاں حکومتیں اور بڑے بڑے ادارے پہنچنے سے ہچکچاتے ہیں، وہاں پی ڈبلیو او کا پرچم انسانیت کی لاج رکھتے ہوئے سب سے آگے لہراتا دکھائی دیتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، بے گھروں کو چھت دینا اور بیماروں تک دوائی پہنچانا اس تنظیم کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔

تعصب سے بالاتر، بلڈ بینک اور عزمِ صمیم کا جاری سفر
خدماتِ خلق تنظیم کی سب سے خوبصورت خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی رنگ، نسل، ذات پات یا مذہبی و مسلکی تعصب سے بالکل پاک ہو کر کام کر رہی ہے۔ یہاں رنگ دیکھا جاتا ہے نہ کوئی عقیدہ، سامنے والا صرف اور صرف مخلوقِ خدا ہوتا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر اس کی خدمت کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں پی ڈبلیو او کا قائم کردہ بلڈ بینک ایک انقلاب سے کم نہیں، جہاں دن ہو یا رات، امیر ہو یا غریب، ہر ضرورت مند کے لیے خون کی فراہمی کو ممکن بنا کر اب تک ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا چکا ہے اور یہ بے لوث خدمت بلا تفریق آج بھی پوری تندہی سے جاری ہے۔
آج ڈھائی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ کارواں کسی صلے، ستائش یا دنیاوی نام و نمود کی تمنا کے بغیر، انتہائی اطمینان اور خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے مشن پر گامزن ہے۔ مہر غلام حیدر بھروانہ کا یہ طویل سفر دنیا کو سکھاتا ہے کہ دنیاوی عہدے، طاقت اور منصب عارضی اور فانی ہیں، لیکن جو مقام اور مرتبہ انسانوں کے دلوں میں بے لوث خدمت سے ملتا ہے، اسے کبھی زوال نہیں آ سکتا۔

لازوال کارواں کے ہراول دستے
اس عظیم اور بے لوث سفر میں درج ذیل مخلص ساتھیوں نے ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، جن کی خدمات اور انسانیت کے درد کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا:

رائے عنصر عباس بھٹی
نصیر شاد موہانہ
(جنرل سیکرٹری پی ڈبلیو او)

بشیر حسین بھٹی
آرائیں فیملی

رضوان حیدر بھٹی
پیر مظہر شاہ
تصویر عباس کھوکھر

ملک وجاہت حسین کھوکھر
ملک مہدی حسن کھوکھر
ملک خاور عباس کھوکھر
سلام ہے مہر غلام حیدر بھروانہ اور خدماتِ خلق تنظیم (PWO) کے اس لازوال اور پاکیزہ جذبے کو! یہ کارواں یوں ہی سسکتے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہوا آگے بڑھتا رہے گا، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دلِ درد مند کے ساتھ مخلوقِ خدا کی خدمت کرنا ہی اصل بندگی اور کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے