پرائیویٹ حج سکیم کی عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی!

حج2026ءکا پوسٹ حج آپریشن مکمل ہو چکا ہے سرکاری حج سکیم کے ایک لاکھ18ہزار اور پرائیویٹ سکیم کے 60ہزار کے قریب حجاج کرام حج کی سعادت کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔ سعودی حکومت نے گزشتہ سال کی طرح حج 2027ءکے لئے 14ذوالحج کو مناسک حج کی تکمیل کے دوسرے دن سعودی تعلیمات اور ٹائم لائن جاری کر دی ہیں اس لئے وزارت مذہبی امور نے حج کے دوران ہی حج پالیسی کی تیاری جاری رکھی اور اب حج پالیسی ایک سال کی بجائے تین سال کی منظوری کے لئے کابینہ کو بھیج دی ہے منظوری کے ساتھ اعلان ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے گزشتہ سال کی طرح رجسٹریشن کا خود ساختہ عمل جاری ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے رجسٹریشن بھی صرف حج2027ءکی نہیں ہو رہی بلکہ آئندہ تین سال کی ہو رہی ہے۔ سرکاری سکیم کا حج 2026ءکیسا رہا اس پر سارے گواہوں کے روبرو کالم تحریر کروں گا۔ وزارت کے یکطرفہ وسائل کے استعمال کے باوجود ٹارگٹ کا حصول ممکن کیوں نہیں ہو سکا؟ اس پر کم از کم دو کالم لکھنے کا ذہن بنا چکا ہوں۔ سعودی تعلیمات کے مطابق 2005ءسے شروع ہونے والی پرائیویٹ حج سکیم کے وزارت مذہبی امور میں موجود افسر اور اہلکار کیوں خلاف ہیں؟پرائیویٹ سکیم کے حوالے سے اسے منافع بخش قرار دینے اور پھر اس کا کام کرنے والوںکے لئے جزا سزا کا نظام بنانے کی بجائے آج تک سزا کا نظام کیوں مسلط ہے، لوٹ مار صرف پرائیویٹ سکیم میں ہے؟ سرکاری سکیم میں سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟ سارا نظام شفاف ہے؟ تب یہ بات ہو گی اور تفصیل کے ساتھ ہو گی انشاءاللہ۔


آج صرف حج2026ءمیں دنیا بھر سے پرائیویٹ سکیم کے1016 منظمین کی بات کرنی ہے جنہوں نے سعودی تعلیمات اور ٹائم لائن کے پل صراط کو عبور کرتے ہوئے حج2026ءجسے ذاتی طور پر آسان قرار نہیں دے سکتا یقینا آسان حج نہیں تھا اس سے بھی بڑھ کر حج 2026ءکی انفرادیت پر بھی ہے اس میں بڑی تعداد ان عازمین کی بھی ہے جو ٹائم لائن کی وجہ سے حج2025ءکی سعادت سے محروم رہے اور پاکستانی وزارت مذہبی امور نے سعودی تعلیمات کو جواز بنا کر ان محروم رہنے والے عازمین کا ذمہ دار بھی پاکستانی حج آرگنائزر کو قرار دیا اور ساتھ شرط رکھ دی2025ءکے لئے وصول کی گئی پیکیج کی رقم میں آپ انہیں حج2026ءکرائیںگے مزید پیسے بھی نہیں لیں گے۔ ایران،امریکہ اسرائیل کشیدگی کی وجہ سے فیول مہنگا ہونے کے باعث حج ٹکٹ کتنی مہنگی ہوئی سعودی طوافہ کمپنیوں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ہوٹلز نے2025ءکے مقابلے میں حج2026ءکے لئے قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا۔ وزارت مذہبی امور کو اس سے کوئی سروکار نہیںتھا

ان کا تو واضح اور دو ٹوک موقف تھا ٹائم لائن پر عملدرآمد نہ ہونے کے بھی آپ ذمہ دار ہیں اور اس کی سزا آپ کو ہی دی جاتی ہے آپ کا کوٹہ50فیصد سے کم کر کے30فیصد کر دیا گیا ہے۔ 2025ءکے عازمین کو بھی بہرصورت آپ نے حج کرانا ہے یا مطمئن کرنا ہے رقم واپس کرنا ہے۔ 904حج آرگنائزر جو 2005ءسے پروفیشنلزم میں اپنے آپ کو منوا چکے تھے ان کے لئے دو راستے تھے وزارت کا یکطرفہ مسلط کیا گیا فیصلہ مسترد کر دیں اور عدالت کا سہارا لے لیں یا پھر دوسرا مشکل اور کٹھن فیصلہ تھا پرائیویٹ سکیم کے خلاف سازش کو ناکام بنائیں اور کم وسائل اور بڑی مشکلات میں اپنے تجربے کو بروکار لاتے ہوئے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا کر حج آپریشن کی کامیابی کےلئے لگ جائیں۔

حج آرگنائزر اور ان کی نمائندہ ہوپ نے متفقہ طور پر وزارت مذہبی امور کے مسلط کردہ فیصلے کے آگے سر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا اور وزارت نے تمام حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے2025ءکی ناکامی کا ذمہ دار 904 حج آرگنائزر کو قرار دیتے ہوئے اپنا کوٹہ 50فیصد سے بڑھا کر70فیصد کر لیا اور50فیصد کے سٹیک ہولڈر نے30فیصد کوٹہ ہونے کی وجہ سے20فیصد عازمین کی منتیں کر کے رقوم واپس کیں اور باقی30فیصد میں 2025ءکے عازمین کو بھی یقینی بناتے ہوئے حج 2026ءکا آپریشن تاریخ ساز بنانے میں کامیاب رہے۔ سرکاری سکیم کا کوٹہ50فیصد سے بڑھا کر70 فیصد کرنے سے بعض افراد کے مفادات تو بہتر ہوئے ہوںگے مگر عملاً استعداد سے زیادہ کا فیصلہ وزارت مذہبی امور کو خاصا مہنگا پڑا، تاریخ بھی بتائے گی اور میں بھی حج میں موجود تھا انشاءاللہ بتاﺅںگا۔


وزارت مذہبی امور نے سرکاری حج سکیم2026ءکے لئے اسلام آباد، جدہ، مکہ مدینہ دفاتر کے سارے وسائل لگانے کے باوجود کیا حاصل کیا اس کے لئے حج پالیسی کے اعلان کا انتظار کرنا پڑے گا بات دوسری طرف چلی گئی حج2026ءیقینا دنیا بھر کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کی طرح پاکستان کے لئے کٹھن اور مشکل حج تھا۔ سعودیہ کے جدید ڈیجیٹلائز نظام نے بھی کچھ سازشوں کو ناکام بنایا ہے،نئے نظام میں سعودی وزارت الحج نے دنیا بھر سے آنے والے حج مشن کے عازمین اور پرائیویٹ سیکٹر کے2026ءکے 1016 منظمین کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے کوئی انسانی کمیٹی نہیں بنائی اور کسی فرد کو اختیار نہ دیا کہ وہ فیصلہ کر دے بلکہ انہوں نے نسک کے نظام کو اس انداز میں ترتیب دے دیا وہ14ذوالحج 2026ءکی تکمیل کے دوسرے دن جاری ہونے والی سعودی تعلیمات اور ٹائم لائن کو پہلے دن سے مشاعر کی تکمیل تک ایک ایک مرحلے کو خود مانیٹر کرتا رہا

اور پھر اس سے12ذوالحج کو ہی کمپیوٹرائزڈ نتائج کا اعلان کر دیا جس کے مطابق پاکستان کی2005ءمیں شروع ہونے والی پرائیویٹ حج سکیم نے2026ءمیں اپنے آپ کو پھر بہترین ہونے کا لوہا منوایا اور1016منظمین میں سے پاکستان کے تین منظمین محترم عفان ذیشان، محترم شاہد رفیق اور محترم زعیم صدیقی نے پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشنیںحاصل کر لیں اور2015ءسے2018ءتک دنیا بھر میں نمایاں قرار پانے والے904 حج آرگنائزر نے 2026ءمیں بھی خدمت اور پروفیشنلزم کا سکہ جمایا۔ ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو چوتھی اور وزارت مذہبی امور کی پہلی شخصیت تھے جو پرائیویٹ سکیم کے تین منظمین کے ساتھ لیتھم ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے۔


وزارت مذہبی امور کے میڈیا سیل نے ڈی جی صاحب کے ایوارڈ کو سرکاری سکیم سے جوڑنے کی بڑی کوشش کی سرکاری وسائل سے جانے والے ٹِک ٹاکر بھی کچھ نہ کر سکے اس میں2005ءسے2026ءتک تمام حج آپریشن کور کرنے کے ساتھ خود حج کی سعادت حاصل کر چکا ہوںاس میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں:


مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
اللہ حج ٹریڈ کو محفوظ رکھے اور عازمین حج کے لئے نیک نیتی سے کام کرنے والے وہ سرکاری سکیم کے لئے ہوں یا پرائیویٹ سکیم کے سب کی کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔پاکستان کی پرائیویٹ سکیم کو حج2026ءمیں پرائیویٹ سکیم کو تین اور ڈی جی حج کو ایک سعودی لیتھم ایوارڈ مبارک ہوں۔