
ڈستے رہے ماحول کی یکسانیت کے ساتھ
یہ اژدہے کسی کے بھی اپنے نہیں ہوئے
سنپولیے کو روزانہ دودھ پلایا جائے جب ڈسنے کے قابل ہو گا تو موقع پا کر مالک کو ڈس لے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ”یہ اژدہے کسی کے بھی اپنے نہیں ہوئے”کسی کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے آپ کا عمل قابلِ غور نہیں بلکہ سامنے والے کا ردِعمل قابلِ غور ہے آپ کسی غیرت مند کا بھلا کریں گے تو ہمیشہ آپ کا ممنون رہے گا اس کے برعکس گھٹیا شخص سے اچھائی کے بدلے اچھائی کی توقع بھی بے وقوفی ہے یونہی کسی ظالم کے ساتھ بھلائی کرنا یا اسے طاقت فراہم کرنا دراصل مظلوم کو کمزور سے کمزور ترین بنانا اور اس کے ساتھ برائی کرنے کے مترادف ہے
حضرت عمر فاروق (رضی اللّٰہ عنہ) کا مبارک قول ہے کہ:ظالم کو معاف کرنا درحقیقت مظلوم پہ ظلم ہے”۔سوچیے اگر ظالم کو معاف کرنا ظلم ہے تو ظالم کو طاقتور بنانا یا اس کا ساتھ دینا کتنا بڑا جرم ہو گا المیہ یہ ہے کہ حیرت انگیز طور پر کئی دانشور کہلائے جانے والے اپنے علم اور قلم کے ذریعے سانپوں کی افزائش کا کام کر رہے ہیں یہ سانپوں کو دودھ پلا کر نہ صرف اپنی بلکہ کئی اوروں کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں
اگر سپیرے سانپوں کو دودھ پلا رہے تو کتنے تماش بین بھی پلانے میں مصروف ہیں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جاہل سے لے کر عالم تک اور کاتب سے لے کر واعظ تک ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق جانے انجانے میں سانپوں کو فروغ دے رہا ہے ۔جاہل،سادہ لوح،اور بکاؤ طبقے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر سنپولیے سے سانپ اور سانپ سے اژدہا تیار کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اول تو کسی کو کوئی شخص آئینہ دکھانے کو تیار نہیں اور اگر کوئی کوشش کرتا بھی ہے تو اسے خاموش کروا دیا یا روک دیا جاتا ہے
اگر ان سانپوں کی نسل کشی نہ کئی گئی اور کوئی سدباب نہ کیا گیا تو یہ ڈستے ڈستے ہماری آستین تک بھی پہنچ سکتے ہیں اگرچہ ہم خود ہی انہیں خطرناک حد تک طاقتور بنا چکے ہیں لیکن ان کا ادراک ممکن ہے لیکن اسکے لیے کئی لاٹھیاں ٹوٹیں گی تو کتنے ان کے زہر کی زد میں بھی آئیں گے بہر کیف مستقبل کے لیے نجات ہو جائے گی
اگر کوئی پھنکارنے والوں کو روک سکتا ہے تو کوئی دودھ کی ترسیل ناکام بنا سکتا ہے الغرض جو جتنی کوشش کر سکتا ہے اس کے لیے ان کا ادراک لازم ہے ان زہریلے شیش ناگ اور اژدہوں سے نجات کے لیے مکمل اتحاد،اخلاص،محنت اور جرأت کی ضرورت ہے ۔مشہور کہاوت ہے کہ”چڑیاں اگر متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال اتار سکتی ہیں” اس کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے ان سادہ لوح اور جاہلوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ جو ان سانپوں کو مددگار یا خیر خواہ تسلیم کیے ہوئے ہیں ان کو یہ بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ “یہ اژدہے کسی کے بھی اپنے نہیں ہوئے