خطہ پوٹھوہار میں گندم کی کٹائی

گندم کی تیار فصل کسان کی زندگی کیلئے ایک امید کی کرن ہوتی ہے جس کے گرد اس کی معیشت معاشرت اور خوشیاں گھومتی ہیں کسان اپنی فصل کو کھیت میں بونے سے لے کر سمیٹنے تک اپنی اولاد کی طرح پرورش کرتا ہے جب گندم کی بالیاں تیز ہوا میں لہراتی ہیں تو ان میں کسان کو زندگی کی امنگ دکھائی دیتی ہے اور یہ لمحات کسان کے لیے جینے کی امید دلاتے ہیں کہ آنے والا وقت بیتے وقت سے بہتر ہوگاجہاں یہ فصل امید کی کرن ہے وہی فصل کو پروان چڑھنے میں درپیش خدشات بھی کسان کے دماغ میں گھومتے ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلیاں سر فہرست ہیں کٹائی کے وقت اچانک بارش یا ژالہ باری کی صورت میں گندم کی فصل پر پڑنے والے منفی اثرات کسان کو افسردہ کر دیتے ہیں رواں ماہ بھی خطہ پوٹھوہار کے اکثر علاقوں میں بارش کیساتھ ژالہ باری کی وجہ سے گندم کی فصل متاثر ہوئی ہے جس سے پیداوار میں فی کنال کے حساب سے کمی واقع ہوئی ہے

دوسری طرف مہنگے داموں بیج کی خریداری فصل کی وافر مقدار ہونے کے باوجود کم قیمت پر کھاد کی عدم دستیابی بھی کسان کے لیے ایک بڑا المیہ ہوتا ہے تاہم ان تمام مالی مشکلات کے باوجود کسان اللہ پر بھروسہ کیے بیج زمین کے سپرد کرتا ہے صلے میں اچھی پیداوار بھی مل جاتی ہے چونکہ خطہ پوٹھوہار کا علاقہ بارانی ہے فصل کا دارومدار قدرتی بارش پر ہے وقت پر بارش کا برسنا فصل کی اچھی پیداوار کیلئے بڑی کار آمد ثابت ہوتی ہے فصل تیار ہوتی ہے تو گندم کی سنہری بالیاں جب ہوا میں لہراتی ہیں تو وہ کسان کی خوشحالی کی نوید سناتی ہیں تاریخی طور پر گندم کی کٹائی کا موسم بیساکھی کے تہوار سے جڑا ہوا ہے

فصل کٹنے کے بعد جب بار دانہ کی فروخت سے کسان کے پاس پیسہ آتا ہے تو دیہاتوں میں میلے لگتے ہیں جہاں گھڑ دوڑ، نیزہ بازی اور کبڈی کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں گندم کی کٹائی کا وقت آتے ہی گاو¿ں کا نقشہ بدل جاتا ہے مرد، خواتین اور بچے سب مل کر کھیتوں کا رخ کرتے ہیں 70 کی دہائی میں درانتی سے فصل کی کٹائی عروج پر تھی پھر رفتہ رفتہ جدید زرعی آلات کی ایجاد سے اب گندم کی فصل کی کٹائی کے طور طریقے بدل چکے ہیں اگرچہ جدید دور میں کمبائن ہارویسٹر نے گندم کی فصل کی کٹائی کا کام آسان کر دیا ہے لیکن دیہی سطح پر درانتی سے کٹائی کی روایت ابھی باقی ہے جو کسان کی مشقت محنت اور ہم آہنگی کی علامت ہے

اس وقت خطہ پوٹھوہار میں گندم کی کٹائی اور گہائی زورو شور سے جاری ہے تاہم امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے گندم کی کٹائی اور فصل سمیٹنے کے مراحل میں کسانوں کو مالی مشکلات درپیش ہیں ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ گندم کی کٹائی کے اخراجات پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ موجودہ دور میں ملک میں گندم کی کٹائی کا زیادہ تر انحصار کمبائن ہارویسٹرز اور تھریشرز پر ہے تحصیل کلرسیداں چوکپنڈوڑی یوسی بشندوٹ کے دیہات میں تھریشر مالکان گندم کی گہائی فی گھنٹہ کسانوں سے 6000 روپے وصول کیے جا رہے ہیں

جو کہ گزشتہ سال کی نسبت یہ ریٹ کہیں زیادہ ہیں اپریل 2026 کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سالوں کی نسبت ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گندم کی کٹائی کے فی ایکڑ اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کٹائی اور گہائی کے اخراجاات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے ایک اندازے کے مطابق ایک کمبائن ہارویسٹر فی ایکڑ کٹائی کے لیے تقریباً 3 سے 5 لیٹر ڈیزل استعمال کرتا ہے جبکہ تھریشر کا استعمال اس سے بھی ادہ ہے ڈیزل مہنگا ہونے سے مشین مالکان اپنا منافع برقرار رکھنے کے لیے کرایوں میں فوری اضافہ کر دیتے ہیں اپریل 2026 میں ڈیزل کی قیمتوں میں کچھ ریلیف بھی دیکھنے میں آیا ہے 18 اپریل 2026 سے ڈیزل کی قیمت 353.43 روپے فی لیٹر مقرر ہے اپریل کے آغاز میں ڈیزل 520 روپے کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا تھا

جس نے کٹائی کے سیزن کے آغاز میں کسانوں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کی تھیں اگرچہ اب قیمت کم ہوئی ہے لیکن مجموعی طور پر یہ اب بھی گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ ڈیزل کے دام زیادہ ہیں تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے یہ بحث ایک طرف دنیا میں قدرتی آفات کا رونما ہونا سائنس کی رو سے موسمیاتی تبدیلیوں کو ٹھہرایا جاتا ہے تاہم دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جب روئے زمین پر انسان ظلم، ناانصافی اور اخلاقی پستی کا شکار ہوتا ہے تو فطرت اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے تنبیہ کرتی ہے

جب ہم زمین کے وسائل کا بے دریغ اور بے رحمانہ استعمال کرتے ہیں تو جواب میں فطرت کا ردِعمل بھی مدمقابل بڑا شدید ہوتا ہے جسکو برداشت کرنا انسان کے بس کی بات نہیں بہت سے لوگ قدرتی آفات کو انسانی سرکشی کے نتیجے میں ایک خدائی تنبیہ کے طور پر بھی دیکھتے ہیں تاکہ انسان اپنے طرزِ عمل پر سوچ بچار کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرئے کیونکہ مال و دولت کا غرور تکبر اور اقتدار گھوڑے کی طرح ہوتا ہے یہ ہمیشہ اپنے سوار تبدیل کرتا رہتا ہے کل اس پر آپ سوار تھے توآج کوئی اور ہے اور کل پھر کوئی اور ہوگا،لہذا انسانی دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا میں رب کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے کیونکہ فقط یہی ایک نقطہ ہے جس پر عمل کرنا انسانی فلاح کا دارومدار ہے