
میرا ریل سے باقاعدہ تعارف اس وقت ہوا جب میں 18نومبر 1985ءکو پاک بحریہ میں ملازمت اختیار کرکے راولپنڈی سے شہرِ قائد کراچی کیلئے عازمِ سفر ہوا۔مجھے بحریہ کے بھرتی دفتر سِکتھ روڈ راولپنڈی سے ریل گاڑی کے سفر کیلئے مفت واوچر دیا گیا ،اس واوچر میں ٹکٹ کے ساتھ ایک برتھ یعنی آرام کرنے اور سونے کیلئے مخصوص چارپائی نما لکڑی ایک تختہ تھا،مجھے درجہ دوم کا واوچر ملا جومیں نے ریلوے بکنگ آفس میں دے کر اس کی جگہ ٹکٹ طلب کیا ۔ کھڑکی پر موجود شخص نے بتایا کہ صرف تیزرو میں سفر کیلئے ٹکٹ مل سکتا ہے ،چنانچہ تیزرو کیلئے ہی ٹکٹ اور برتھ کروالی ۔اس وقت درجہ دوم کی نشستیں لکڑی کی بنی ہوتی تھیں اور درجہ اول کی نشستوں میں فوم لگا ہوتا تھا ۔ بعض ڈبوں میں ائیرکنڈیشنر لگا ہوتا تھا جس کا ٹکٹ کافی رقم کا متقاضی تھا ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ایک ہی گاڑی میں درجہ اول ،درجہ دوم اور ائیرکنڈیشنر لگے ڈبوں کے مسافر سفر کرتے ہیں اور ان سب کو ایک ہی انجن کھیچتا ہے۔ پشاور سے روانہ ریل گاڑی میں راولپنڈی اور پھر لاہور سے مزید ڈبے لگائے گئے ،ریل کا انجن کسی مسافر کو الگ درجے کی وجہ سے راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا بلکہ سب کو منزل تک پہنچاتا ہے ۔ریلوے اسٹیشن میں داخلے کیلئے الوداع کہنے والوں کو پلیٹ فارم ٹکٹ لینا پڑتا ہے۔
ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی ہر طرف سے چائے، جوس، کھانے کی اشیاءوغیرہ فروخت کرنے والوں کی صدائیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ لال رنگ کی جیکٹ پہنے دائیں بازو پر پیتل کا مخصوص نمبر والا بیج باندھے کچھ افراد سامان اٹھوانے کیلئے آپ کو راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیںقلی کہتے ہیں حالانکہ ان کے مخصوص لباس میں سامنے جِلی حروف میں ان کی مخصوص مزدوری لکھی ہوتی ہے مگر وہ اس سے کہیں زیادہ اجرت طلب کرتے ہیں ۔تیزرو میں میرا پہلا سفر ہی یادگار تھا ۔ گاڑی روانہ ہوئی تو آس پاس کے ڈھابے اور ریلوے اسٹیشن پیچھے بھاگتے محسوس ہوئے ۔اس کے بعد چھوٹے بڑے اسٹیشنوں پر گاڑی رکتی اور چلتی رہی ۔ہر اسٹیشن پر بھکاری، ڈھابے والے اور بغیر نشست حاصل کرنے والے یا بغیر ٹکٹ کے افراد کی ڈبے پر یلغار ۔یہ سب پہلے تو بڑا عجیب لگا مگر پھر معمول لگنے لگا ۔
ہر جگہ لوگوں نے اپنا سامان اور بعض نے تو اپنے پرندے اور جانور بھی رکھ چھوڑے تھے حتٰی کہ جائے حاجت کی راہ بھی بند کردی۔اسی طرح راولپنڈی تا کراچی رنگ رنگ کے لوگ گاڑی میں سوار ہوتے اور اترتے رہے ۔میں دوسرے دن رات نو بجے کراچی چھاونی کے ریلوے اسٹیشن پر تیزرو سے اپنا پہلا سفر تمام کرکے نیچے اترا اور وہیں ایک جگہ کرسی میز بچھائے وردی میں ملبوس بحریہ کے اہلکارموجود تھے ۔میں اپنا بھرتی کا حکم نامہ لے کر ان کے پاس گیا اور انہیں یہ اطلاع دی کہ میں راولپنڈی سے بحریہ میں بھرتی ہو کر آیا ہوں ۔ انہوں نے میرا حکم نامہ اپنے پاس رکھ لیا اور مجھے وہیں ریلوے اسٹیشن پر انتظار کرنے کیلئےکہا ، وہاں مجھ سے پہلے دیگرشہروں سے نئے بھرتی ہو کر آنے والے نوجوان بھی موجود تھے ۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد پاک بحریہ کا ٹرک ہمیں لینے کیلئے کراچی چھاونی ریلوے اسٹیشن پر موجود تھا جس میں ہمیں سوار کروا کر تربیتی مرکز پی این ایس ہمالیہ براستہ ماڑی پور لے جایا گیا۔اس سفر کے بعد اپنی دو عشروں پر محیط بحری زندگی کے دوران تقریباً ہر سال راولپنڈی سے کراچی آمد و رفت کیلئےمیں نے ریل گاڑی میں سفر کیا۔ اس عرصہ میں شاید ہی کبھی گاڑی اپنے مقررہ وقت پر منزل تک پہنچی ہو ۔
بعض دفعہ تو چھ چھ گھنٹے گاڑی دیر سے پہنچتی تھی ۔اس کی وجہ ریلوے ٹریک کا ایک ہونا تھا۔ جب کسی اسٹیشن سے گاڑی روانہ ہو تی تو اگلے اسٹیشن پر دوسری سمت سے آنے والی گاڑی اس کی آمد کے انتظار میں کھڑی رہتی وہیں پر یہ ایک دوسرے کو کراس کرتیں بعض اوقات تو گاڑی کو کسی ویران علاقے میں روک لیا جاتا جہاں دور دور تک کوئی آبادی دکھائی نہیں دیتی تھی ۔میں ایک بار تیز گام ایکسپریس میں کراچی سے راولپنڈی آ رہا تھا ، لاہور اسٹیشن پر گاڑی رکی تو میں اسٹیشن سے باہر نکل گیا اور قریبی ہوٹل پر چائے نوشی کے بعد جب اسٹیشن واپس آیا تو اسی وقت گاڑی کا آخری ڈبہ پلیٹ فارم سے نکل گیا ۔
میں سمجھا کہ گاڑی کے رکنے کا وقت نصف گھنٹہ ہے مگر اس کا وقت بیس منٹ تھا ، مجھے بڑی پریشانی لاحق ہو گئی اور میں جلدی سے لاہور اسٹیشن سے باہر نکل کر راولپنڈی کی جانب روانہ ہونے والی بس میں سوار ہوا اور ڈرائیور سے درخواست کی کہ مجھے جلد ازجلد گوجرانولہ پہنچا دو تاکہ میں ریل گاڑی پکڑ سکوں مگر راولپنڈی تک میں ریل گاڑی تک نہ پہنچ سکا ، میرا سامان والا بیگ جس میں کپڑے اور گھر والوں کیلئے خریدی گئی دیگر اشیاءموجود تھیں اس ڈبے میں رہ گیا ، میں نے اسٹیشن جا کر پتا کیا مگر وہ بیگ نہ مل سکا ۔اسی طرح ایک بار میں کراچی سے راولپنڈی آ رہا تھا تو روات کے نواحی گاو¿ں مانکیالہ ریلوے اسٹیشن پر گاڑی آہستہ ہوئی تو میں نے اپنا سامان والا بیگ پلیٹ فارم پر لڑھکا دیا اس دوران گاڑی نے اپنی رفتار بڑھا دی تو میں جلدی سے پلیٹ فارم پر کود گیا مگر اس وقت پلیٹ فارم کی حد ختم ہو چکی تھی ، میرا دایاں ہاتھ کا وزن ایک گول پتھر پر پڑا وہ پتھر اپنی جگہ سے کھسک گیا جس کی وجہ سے میرے دائیں ہاتھ میں موچ آگئی جس کی وجہ سے مجھے کئی بار بحریہ ہسپتال جا کر فزیو تھراپی کروانا پڑی ۔
اسی طرح 1988 میں میرا انتخاب یومِ پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی مسلح افواج کی پریڈ کیلئے ہو گیا تو اس وقت بحریہ کے دستے کو کراچی سے راولپنڈی تک خصوصی ریل گاڑی میں سوار کروا کر روانہ کیا گیا ۔ گاڑی اپنے مخصوص چھوٹے اسٹیشن پر رکتی جہاں طعام و قیام کے بعد دوبارہ منزل کی جانب روانہ ہو جاتی ، یہ سفر بھی میرے لیے یادگار سفر رہا ۔ریل گاڑی کے ڈبے میں مختلف اشیاءفروخت کرنے والوں کی بھرمار ہوتی ہے ، ہر جانب سے چائے ، جوس ، کیلا ، آم ، شربت ، دالیں ، ٹھنڈی بوتل کی صدائیں آتی ہیں ۔ حیدرآباد کی چوڑیاں تو میں ہر مرتبہ ضرور خریدا کرتا ۔ سندھ میں عجیب بات دیکھی کہ مالٹے اور کیلے کلوگرام کے حساب سے فروخت کئے جاتے تھے ۔ لاہور اسٹیشن کے کتابوں کے ٹھیلے سے میں ماہ نو ادبی جریدے کا نیا شمارہ ضرور خریدا کرتا ، ریل گاڑی میں موجود ڈائننگ ہال سے بھی کھانا ملتا تھا مگر اس کیلئے رقم زیادہ ادا کرنا پڑتی تھی ۔ بہت سے لوگ یہاں سے بھی کھانا منگوا لیا کرتے تھے مگر میں بہت کم ڈائننگ ہال کا کھانا کھایا کرتا تھا ۔ریل گاڑی میں بے شمار افراد بنا ٹکٹ بھی سوار ہو جاتے ہیں اور اپنے مقررہ اسٹیشن سے تھوڑا پہلے جب گاڑی کی رفتار کم ہونا شروع ہوتی ہے یہ اترنے کی کوشش کرتے ہیں اور زیادہ تر کامیاب ہو جاتے ہیں ،
بعض اوقات ان کے ٹکٹ چیک کر کے ان پر جرمانہ عائد کردیا جاتا تھا ، ٹکٹ کی قیمت الگ بھی وصول کی جاتی تھی ۔ایک بار راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پرخیبر میل ایکسپریس رات کے ڈیڑھ بجے پہنچی ، سخت جاڑے کی سردی اور ابھی نصف شب باقی تھی ، میں نے اپنے گاوں چک بیلی خان جانا تھا جس کیلئے پہلی بس صبح چھے بجے راولپنڈی صدر پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ سے آنا تھی جس کیلئے تقریباً چار گھنٹے باقی تھے ،میرے پاس سردی سے بچنے کیلئےگرم چادر بھی اس وقت موجود نہیں تھی کیوں کہ کراچی اور راولپنڈی کے موسم میں بڑا فرق تھا ، وہ وقت میں نے پلیٹ فارم پر گزارا ، یہ میری زندگی کا ایک اوریادگار واقعہ ہے۔ایک بار جب میں کراچی سے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن آیا تو اسٹیشن کے باہر کی جانب پشاور سے آ نے والی گاڑی کھڑی تھی اس لیے ہماری گاڑی کو درمیان کے پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا گیا جہاں سے ایک فولادسے بنے پل سے گزر کر ہی باہر آ یا جا سکتا تھا
اس وقت میرے پاس سامان زیادہ تھا جو میں ایک بار اٹھا کر باہر نہیں نکل سکتا تھا اس موقع کا قلیوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور مسافروں سے منہ مانگی رقم وصول کی میں نے بھی مجبوراً ایک قلی سے رقم طے کی جس نے بڑی چابک دستی سے ایک ہی بار سارا سامان اٹھا لیا ۔ جب اسٹیشن سے باہر نکلے تو ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی مجھے گھیر لیا اور صدر بس اسٹاپ تک پہنچانے کی بڑی رقم کا مطالبہ کیا مگر میں ان کی باتوں میں نہیں آ یا کچھ دیر انتظار کیا اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایک روپیہ ادا کرنے کے بعد مطوبہ اسٹاپ تک پہنچ گیا ۔ریل گاڑی میں سفر کی کہانی اتنی طویل ہے کہ اس پر پوری کتاب تحریر کی جا سکتی ہے۔