امریکی دفاع کا دھوکہ اور عرب ممالک

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے کئی پردے چاک کر دیے ہیں۔ ایک طرف ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا، تو دوسری طرف عرب ممالک کو ایک مرتبہ پھر یہ احساس دلایا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی معاہدے ہمیشہ حقیقی تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اس بحران میں سب سے زیادہ خوف، عدم استحکام اور معاشی نقصان مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے برداشت کیا، جبکہ امریکہ ہزاروں میل دور بیٹھا نسبتاً محفوظ رہا۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک اور دیگر عرب ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ دفاعی معاہدوں، فوجی اڈوں اور اربوں ڈالر کے اسلحہ جاتی سودوں کو اس بنیاد پر درست قرار دیا جاتا رہا کہ امریکہ خطے کے اتحادی ممالک کے دفاع کو یقینی بنائے گا۔ لیکن حالیہ بحران نے یہ سوال ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے تو اس کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ عرب عوام یا واشنگٹن؟
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی جنگ کا سب سے بڑا نقصان وہاں کی معیشتوں، سرمایہ کاری، تجارت اور عوامی زندگی کو ہوتا ہے۔ تیل کی تنصیبات خطرے میں آ جاتی ہیں، فضائی حدود متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور ترقیاتی منصوبے سست پڑ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بڑی طاقتیں اکثر اپنے جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے براہِ راست نقصانات سے محفوظ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب دنیا میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا خطے کی سلامتی کا انحصار بیرونی طاقتوں پر رہنا چاہیے یا علاقائی ممالک کو خود اپنی اجتماعی دفاعی حکمتِ عملی تشکیل دینی چاہیے۔
آج عرب دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال اسلحے کی خریداری نہیں بلکہ اسٹریٹجک خودمختاری کا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں، مصر، اردن اور دیگر مسلم ممالک باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیں تو وہ ایک ایسا علاقائی سلامتی کا نظام قائم کر سکتے ہیں جو بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کر دے۔ یورپی ممالک نے بھی اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کے مختلف ماڈلز اختیار کیے ہیں۔ مسلم دنیا بھی اسی سمت میں پیش رفت کر سکتی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان دنیا کی بڑی مسلم عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے پاس پیشہ ور افواج، دفاعی صنعت، ایٹمی صلاحیت اور انسدادِ دہشت گردی کا وسیع تجربہ موجود ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی عرب ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کیا ہے۔ اگر مسلم دنیا باہمی اعتماد کی بنیاد پر ایک مؤثر دفاعی تعاون کا فریم ورک تشکیل دے تو پاکستان اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم اصل ضرورت صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر عرب ممالک اپنی بے پناہ مالی صلاحیت اور پاکستان اپنی افرادی قوت، جغرافیائی اہمیت اور دفاعی مہارت کو یکجا کریں تو ایک نئی معاشی شراکت داری وجود میں آ سکتی ہے۔ خلیجی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی، زراعت، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آ سکتی ہے، جبکہ پاکستان ان ممالک کو تربیت یافتہ افرادی قوت، دفاعی تعاون اور تجارتی روابط فراہم کر سکتا ہے۔
مزید برآں، مسلم دنیا کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت، مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز، توانائی کے منصوبے اور سائنسی تعاون ایسے اقدامات ہیں جو معاشی خودمختاری کو فروغ دے سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن علاقائی تجارت میں متبادل انتظامات پر غور کرنا بھی وقت کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
اس سارے منظرنامے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت صرف اسلحے کے انبار کا نام نہیں بلکہ سیاسی اتحاد، معاشی استحکام اور مشترکہ حکمتِ عملی کا نام ہے۔ جب تک مسلم دنیا منتشر رہے گی، بیرونی طاقتیں اس کے معاملات میں اثر و رسوخ برقرار رکھیں گی۔ لیکن اگر مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف سلامتی بلکہ ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
آج مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مسلم دنیا کب اپنے اجتماعی مفادات کو ترجیح دے گی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے عملی اتحاد، معاشی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے نظام کی طرف سنجیدہ پیش رفت کی جائے۔ یہی راستہ خطے کے امن، استحکام اور خودمختاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔

ضیا ء الرحمن ضیاءؔ