جب زمین اپنی آواز مانگے: گرین جرنلزم اور پاکستان کی ماحولیاتی ذمہ داری

پاکستان اس وقت عالمی موسمیاتی بحران کے خطرناک ترین محاذ پر کھڑا ہے۔ تباہ کن سیلاب، شدید ہیٹ ویوز، بڑھتی ہوئی اسموگ، جنگلات کی کٹائی، پانی کی قلت اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں اب محض سائنسی مباحث یا بین الاقوامی کانفرنسوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عوامی زندگی کا تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ یہ بحران صحت، زراعت، تعلیم، روزگار اور قومی معیشت سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں نہایت معمولی حصہ رکھتا ہے، اس کے باوجود یہ دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی پالیسیاں اور سائنسی تحقیق کافی نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی شعور کی بیداری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس جدوجہد میں میڈیا ایک انتہائی اہم اور طاقتور کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی قومی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ ابلاغِ عامہ نے کامسٹیک کے ایس ٹی آئی پالیسی ریسرچ سینٹر کے اشتراک سے 11 جون 2026 کو اسلام آباد میں کامسٹیک سیکریٹریٹ میں “گرین جرنلزم: میڈیا، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی ذمہ داری” کے عنوان سے ایک روزہ قومی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

یہ کانفرنس ایسے تاریخی وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور معاشرے اجتماعی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ محض ایک علمی تقریب نہیں بلکہ ذمہ دار صحافت، ماحولیاتی شعور اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے ایک قومی آواز ہے۔

پاکستان میں کئی دہائیوں تک ماحولیاتی صحافت زیادہ تر سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات کی وقتی رپورٹنگ تک محدود رہی۔ جیسے ہی بحران ختم ہوتا، ماحولیات کا مسئلہ عوامی بحث سے غائب ہو جاتا۔ حالانکہ ماحولیاتی تباہی کوئی وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل انسانی بحران ہے جو غربت، ہجرت، غذائی عدم تحفظ، صحتِ عامہ اور سماجی ناہمواری سے جڑا ہوا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “گرین جرنلزم” کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

گرین جرنلزم صرف ماحولیاتی آفات کی رپورٹنگ کا نام نہیں بلکہ یہ سائنسی حقائق کو عوامی شعور میں تبدیل کرنے، پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینے، متاثرہ طبقات کی آواز بلند کرنے اور اداروں کو جواب دہ بنانے کا عمل ہے۔ یہ اعدادوشمار کو انسانی کہانیوں میں اور آگاہی کو اجتماعی عمل میں تبدیل کرتا ہے۔

کانفرنس کا مقصد پاکستان میں ماحولیاتی صحافت کو جدید میڈیا کا ایک بنیادی ستون بنانا ہے۔ اس سلسلے میں موسمیاتی رپورٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا اور ماحولیاتی آگاہی، صحافتی اخلاقیات اور جامعات میں گرین جرنلزم کو باقاعدہ تعلیمی مضمون کے طور پر شامل کرنے جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔

کانفرنس کا ایک اہم پہلو ماحولیاتی ابلاغ کو اعلیٰ تعلیم کا حصہ بنانا بھی ہے۔ مستقبل کے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو ایسے علمی اور اخلاقی اوزار فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ موسمیاتی مسائل کو درست، ذمہ دارانہ اور تحقیقی انداز میں رپورٹ کر سکیں۔ غلط معلومات اور سنسنی خیز ڈیجیٹل مواد کے اس دور میں شواہد پر مبنی صحافت ناگزیر بن چکی ہے۔

یہ کانفرنس ان ممتاز ماہرینِ تعلیم اور منتظمین کی علمی بصیرت اور قیادت کا مظہر ہے جو میڈیا کے ذریعے پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری، پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید خورشید، ڈاکٹر فیصل جاوید اور ڈاکٹر سکندر علی زرن کی خدمات قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے سائنس، صحافت اور سماجی ذمہ داری کے درمیان ایک مؤثر پل قائم کیا۔

اسی طرح راجہ رضوان کی قیادت میں انتظامی اور آرگنائزنگ ٹیم کی محنت اور لگن بھی قابلِ ستائش ہے جن کی کاوشوں نے اس کانفرنس کو ایک اہم قومی اقدام میں تبدیل کر دیا۔ رضاکاروں، اساتذہ، محققین اور میڈیا کوآرڈینیٹرز کی بھرپور شرکت ماحولیاتی شعور کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

خصوصی طور پر ایف یو یو اے ایس ٹی میڈیا ٹیم، زیرِ نگرانی ثقلین نعیم، مبارکباد کی مستحق ہے جو مؤثر ڈیجیٹل مہمات اور تخلیقی ابلاغ کے ذریعے یہ ثابت کر رہی ہے کہ میڈیا خود بھی ماحولیاتی تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔

کانفرنس میں علمی مقالات، پینل مباحثے، پوسٹر نمائشیں اور انٹرایکٹو سیشنز شامل ہوں گے جن میں پاکستان بھر سے صحافی، ماہرینِ ماحولیات، محققین اور طلبہ شریک ہوں گے۔ نوجوانوں کی بھرپور شرکت اس حقیقت کی علامت ہے کہ نئی نسل موسمیاتی انصاف اور پائیدار ترقی کے حوالے سے پہلے سے زیادہ باشعور ہو رہی ہے۔

ماحولیاتی بحران اب محض قدرتی مسائل نہیں رہے بلکہ یہ عوامی صحت، زراعت، معیشت اور سماجی استحکام سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ متاثر وہ طبقات ہوتے ہیں جن کا ماحولیاتی تباہی میں سب سے کم حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے ذمہ دار صحافت نہ صرف ایک پیشہ ورانہ فریضہ بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی بن چکی ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کا شعبہ ابلاغِ عامہ خصوصی طور پر مبارکباد کا مستحق ہے جس نے تعلیمی سطح پر گرین جرنلزم کے فروغ کے لیے مختلف آگاہی مہمات اور علمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام ایک ایسی ترقی پسند تعلیمی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو قومی ترجیحات اور عالمی پائیدار اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

کامسٹیک کے ساتھ اشتراک نے اس کانفرنس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ یہ ماحولیاتی ابلاغ کو سائنسی تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور پالیسی سازی سے جوڑتا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا موسمیاتی مسائل کے عملی حل تلاش کر رہی ہے، جامعات، میڈیا اور سائنسی اداروں کے درمیان شراکت داری ناگزیر ہو چکی ہے۔

اس قومی کانفرنس میں راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی شرکت بھی قابلِ ذکر ہے۔ یونیورسٹی کی نمائندگی ڈاکٹر محمد احسن اقبال، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، بطور پیپر پریزنٹر کریں گے جبکہ مس حفصہ اقبال، ایم ایس اسکالر، بھی اس علمی فورم میں شریک ہوں گی۔ ان کی شرکت ماحولیاتی ابلاغ اور پائیدار میڈیا ڈسکورس میں یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی علمی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔

کانفرنس میں چار اہم موضوعات پر خصوصی سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن میں پاکستانی میڈیا کی ماحولیاتی بحرانوں کی رپورٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا کا ماحولیاتی آگاہی میں کردار، صحافیوں کی اخلاقی ذمہ داریاں اور گرین جرنلزم کو میڈیا اسٹڈیز کے نصاب کا مستقل حصہ بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

تقریب میں ڈاکٹر حسنین سید، ڈاکٹر نازیہ رحمان، سائرہ کاظمی اور ڈاکٹر نائلہ رفیق جیسے ممتاز اسکالرز اپنے تحقیقی مقالات پیش کریں گے جبکہ مسٹر عارف گوہر اور ڈاکٹر عاطف افتخار کی علمی رہنمائی کانفرنس کو مزید مؤثر بنائے گی۔ اس کے علاوہ انڈرگریجویٹ پوسٹر کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی جہاں طلبہ اپنے ماحولیاتی تحقیقی منصوبے اور آگاہی مہمات پیش کریں گے۔

اس کانفرنس کا بنیادی پیغام نہایت واضح ہے کہ گرین جرنلزم صرف ماحولیات کے تحفظ کا نام نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ معروف مصنف ڈیوڈ والیس ویلز کے الفاظ میں “مستحکم موسم کا تصور ختم ہو چکا ہے”، اور یہی حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ صحافت صرف خبر رسانی تک محدود نہ رہے بلکہ شعور، احتساب اور سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنے۔

خصوصی خراجِ تحسین آرگنائزنگ کمیٹی کے اُن تمام اراکین کے لیے بھی ہے جن کی فکری قیادت اور انتھک محنت نے اس کانفرنس کو قومی سطح کا ایک اہم علمی اقدام بنا دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کی بصیرت افروز قیادت نے اس تقریب کو غیر معمولی علمی وقار عطا کیا۔

اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید خورشید کی سائنسی ابلاغ اور علمی سفارت کاری کے فروغ کے لیے خدمات بھی قابلِ قدر ہیں۔ کانفرنس چیئرمین ڈاکٹر فیصل جاوید نے گرین جرنلزم کے تصور کو ایک عملی اور مؤثر تحریک میں تبدیل کیا جبکہ کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر سکندر علی زرن کی تنظیمی صلاحیتوں اور مسلسل محنت نے اس عظیم الشان تقریب کے کامیاب انعقاد کو ممکن بنایا۔

یہ کانفرنس اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ماحولیاتی تباہی کے اس دور میں صحافت غیر جانبدار تماشائی نہیں رہ سکتی۔ میڈیا کو محض مشاہدے سے آگے بڑھ کر شعور، احتساب اور مثبت سماجی تبدیلی کا فعال ذریعہ بننا ہوگا۔

جب زمین سیلابوں، بڑھتے درجہ حرارت، ختم ہوتے جنگلات اور آلودہ فضاؤں کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے، تو صحافت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آواز کو معاشرے تک پہنچائے تاکہ انسانیت اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔