جنگ یا امن کی آنکھ مچولی سے دنیا پر یشان

عالمی سیاست بھی عجیب کھیل ہے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کہانی کو کسی کھیل سے تشبیہ دی جائے تو یہ سیدھی سادی کرکٹ نہیں بلکہ بچوں کی آنکھ مچولی معلوم ہوتی ہے۔ ایک چھپتا ہے تو دوسرا ڈھونڈنے سے انکار کر دیتا ہے، اور جب دوسرا سامنے آتا ہے تو پہلا کہتا ہے میں تو ابھی کھیل ہی نہیں رہا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ پہلے ایران نے اشارہ دیا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا، پاکستان نے بھی سفارتی فائلیں جھاڑ پونچھ کر تیار کر لیں، چائے کے کپ گرم کیے گئے اور ثالثی کی میز پر رومال بھی رکھ دیا گیا۔مگر جیسے ہی ماحول بنا، امریکہ نے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ابھی نہیں، ابھی موڈ نہیں ہےپھر کچھ دن گزرے، امریکہ نے کہا چلو بات کرتے ہیں تو ایران نے فوراً جواب دیاہمیں کوئی جلدی نہیں!گویا یہ مذاکرات نہیں بلکہ رشتے کی وہ بات ہو گئی ہے جس میں ایک فریق تیار ہو تو دوسرا کہتا ہے ہم سوچ کر بتائیں گے اور جب وہ سوچ لے تو پہلا غائب اب بیچ میں پاکستان ہے، جس کی حالت کسی ایسے امپائر جیسی ہو گئی ہے جس کے پاس نہ کھلاڑی سنجیدہ ہیں نہ میچ کا کوئی وقت طے ہے۔ پاکستان پوری کوشش کر رہا ہے

کہ دونوں کو ایک ہی وقت پر ایک ہی میز پر بٹھا دیا جائے، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ ایک دروازے سے آتا ہے تو دوسرا کھڑکی سے نکل جاتا ہے۔دنیا کے بڑے تجزیہ کار بھی اب کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ایک دن کہتے ہیں کہ امن قریب ہے اگلے دن کہتے ہیں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔عوام بیچاری سوچ رہی ہے کہ آخر یہ مذاکرات ہیں یا کوئی ڈرامہ سیریل جس کی ہر قسط میں نیا ٹوئسٹ آتا ہے؟امریکہ چونکہ خود کو سپر پاور سمجھتا ہے، اس لیے اس کا انداز بھی ویسا ہی ہے۔ہم جب چاہیں گے تب بات ہوگی! جبکہ ایران کا اپنا ایک الگ ہی انداز ہے۔ہم اپنی شرائط پر بات کریں گے، ورنہ نہیں کریں گے یوں لگتا ہے جیسے دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آنے سے زیاد ہ نہ آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ادھر پاکستان ہے، جو خلوص نیت سے ثالثی کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سفارتی محاذ پر دوڑ دھوپ جاری ہے،

پیغامات ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر جا رہے ہیں، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کبھی ایران ناراض، کبھی امریکہ مصروف، اور کبھی دونوں ہی ایک دوسرے سے خفا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان واقعی ان دونوں کے درمیان مذاکرات کامیاب کروا دے تو عالمی سطح پر اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ مگر فی الحال تو صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی استاد دو شرارتی بچوں کو لڑائی سے روکنے کی کوشش کر رہا ہو،

اور دونوں بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر زبانیں نکال رہے ہوں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی سنجیدہ ہیں یا صرف عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کا سامان؟کیونکہ جس انداز میں ایک ہاں کرتا ہے تو دوسرا ناں، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ کھیل ابھی لمبا چلے گا۔فی الحال دنیا انتظار میں ہے، پاکستان کوشش میں ہے، اور ایران و امریکہ اپنی اپنی ٹائمنگ کے حساب سے فیصلے کر رہے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ آنکھ مچولی کب ختم ہوتی ہے اور کیا واقعی کبھی وہ لمحہ بھی آئے گا جب دونوں ایک ہی وقت پر ہم تیار ہیں کہیں گے۔تب تک کے لیے، سفارتی میدان میں آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے بغیر کسی نتیجے کے۔