ایک درخت، ایک ذمہ داری: ماحول کی حفاظت حکومت سے پہلے ہماری ذمہ داری

ہم اکثر اپنے اردگرد بدلتے موسم، بڑھتی ہوئی گرمی، آلودہ ہوا، پانی کی کمی اور درختوں کی تیزی سے کم ہوتی تعداد کو دیکھ کر حکومت، اداروں اور انتظامیہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ایک سوال ہمیں خود سے بھی کرنا چاہیے: کیا ماحول کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری ہے؟

حکومتیں پالیسی بناتی ہیں، شجرکاری مہمات شروع کرتی ہیں، پارکس بناتی ہیں اور ماحولیاتی قوانین نافذ کرتی ہیں، مگر ماحول صرف سرکاری منصوبوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے لیے ہر شہری کا کردار ضروری ہے۔ اگر ایک شخص اپنے گھر، گلی، اسکول، دفتر یا محلے میں ایک درخت لگاتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن لاکھوں افراد کے یہی چھوٹے قدم ایک بڑی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔

درخت صرف زمین کی خوبصورتی نہیں بڑھاتے۔ وہ ہمارے ماحول کا بنیادی حصہ ہیں۔ درخت سایہ فراہم کرتے ہیں، فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے توازن میں کردار ادا کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں اور شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لیے درخت لگانا صرف شجرکاری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں شجرکاری کو اکثر ایک دن کی سرگرمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ تصویر بنائی، پودا لگایا اور کام ختم۔ لیکن اصل شجرکاری اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم اس ننھے پودے کو پانی دیتے ہیں، اسے جانوروں اور نقصان سے بچاتے ہیں اور اسے ایک درخت بننے تک زندہ رکھتے ہیں۔

خاص طور پر اسکول ماحول کی حفاظت کی تربیت کے لیے بہترین جگہ ہیں۔ اگر ہر طالب علم کو صرف ایک پودا لگانے کے بجائے اس کی ذمہ داری بھی دی جائے تو شجرکاری ایک رسمی سرگرمی کے بجائے عملی تعلیم بن سکتی ہے۔ بچے جب اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے کو بڑا ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر فطرت سے تعلق اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ماحولیات صرف کتاب کا ایک باب نہیں۔ صاف ہوا، صاف پانی، درخت، زمین اور قدرتی وسائل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں، اسی طرح اپنی گلی، محلے اور شہر کو صاف رکھنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

ہم حکومت سے بہتر ماحولیاتی پالیسی، مؤثر قانون سازی اور شجرکاری کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ ضرور کریں، لیکن ساتھ ہی اپنے حصے کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ ہم ایک درخت لگا سکتے ہیں، پانی ضائع ہونے سے روک سکتے ہیں، کچرا مناسب جگہ پر ڈال سکتے ہیں، پلاسٹک کا استعمال کم کر سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس عمل کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

آج لگایا گیا ایک درخت شاید ہمیں فوری فائدہ نہ دے، مگر آنے والے برسوں میں وہ کسی بچے کو سایہ دے سکتا ہے، کسی پرندے کو گھر دے سکتا ہے اور کسی خاندان کے لیے صاف اور بہتر ماحول کا حصہ بن سکتا ہے۔اصل تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی تبدیلی ایک چھوٹے سے پودے سے شروع ہوتی ہے۔

ایک شخص، ایک پودا، ایک ذمہ داری۔اگر ہم ہر سال صرف حکومت سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ “کتنے درخت لگائے گئے؟” خود سے یہ پوچھنا شروع کر دیں کہ “میں نے کتنے درخت لگائے اور ان میں سے کتنے بچائے؟” تو شاید ہمارے ماحول کی تصویر واقعی بدلنا شروع ہو جائے۔

کیونکہ زمین ہمیں وراثت میں صرف رہنے کے لیے نہیں ملی، بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ایک درخت لگائیں، اسے زندہ رکھیں، اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔