ذوالفقار احمد چیمہ:عزم سے قلم تک ایک جہدِ مسلسل

اسلام آباد کلب میں جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب کی گراں قدر تصانیف ’’جہدِ مسلسل‘‘اور ’’افکارِ تازہ‘‘کی تقریبِ پذیرائی میں شرکت میرے لیے ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات کا باعث بنی۔ دوسری مرتبہ ان سے کراؤن پلازا ہوٹل، اسلام آباد میں ’’ہم کہاں کھڑے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک نہایت بامقصد، فکرانگیز اور علمی نشست میں ملاقات ہوئی۔ دونوں مواقع پر ان کا پُرمغز اور بصیرت افروز خطاب سننے کا موقع ملا تو محسوس ہوا کہ ان کی گفتگو محض الفاظ کا خوش نما آہنگ یا خیالات کا بے ربط سلسلہ نہیں، بلکہ عمر بھر کے تجربات، وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے، فکری ریاضت اور قومی درد سے کشید کیا ہوا وہ نچوڑ ہے، جو سامع کے ذہن کو بھی مہمیز دیتا ہے اور دل کو بھی متوجہ کرتا ہے۔

ان کے لہجے کی بے ساختگی، فکر کی پختگی اور اظہار کی برجستگی میں ایک ایسی فکری بالیدگی نمایاں تھی جو محض کثرتِ مطالعہ سے نہیں، بلکہ زندگی کو قریب سے دیکھنے، حالات کو گہرائی سے پرکھنے اور اپنے تجربات کو شعوری طور پر فکر و نظر کا حصہ بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ ان سے ہونے والی یہ دونوں ملاقاتیں میرے لیے محض رسمی ملاقاتیں نہیں، بلکہ ایک ایسی صاحبِ نظر شخصیت کو قریب سے سننے اور سمجھنے کے مواقع تھیں، جس کے ہاں علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں، کردار کی تعمیر کا وسیلہ ہے؛ قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ اصلاحِ احوال کی ذمہ داری ہے؛ اور گفتگو محض الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ قومی شعور کو بیدار کرنے کی ایک سنجیدہ کاوش ہے۔

اہلِ قلم کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اقوام کی تقدیر صرف ایوانِ سیاست اور میدانِ معیشت میں رقم نہیں ہوتی، بلکہ قوموں کے فکری مزاج، تہذیبی شعور اور مستقبل کی سمت کا تعین اہلِ علم و دانش کے افکار، تجربات، بصیرت اور مخلصانہ رہنمائی سے بھی ہوتا ہے۔ اہلِ قلم اپنے عہد کے محض تماشائی نہیں ہوتے؛ وہ قلم و قرطاس اور فکر و کردار کے ذریعے زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھتے، فکری انحرافات کی نشان دہی کرتے اور قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں وقت کے شور میں گم نہیں ہوتیں، بلکہ نسلوں کے ذہنوں کو مہمیز دیتی، شعور کو بیدار کرتی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب کی تصانیف جہدِ مسلسلاورافکارِ تازہ بھی اسی فکری و اصلاحی روایت کی روشن کڑیاں ہیں۔ ان کی دیگر قابلِ ذکر کتابوں میں ’’سمجھتا ہوں جسے حق‘‘، ’’دوٹوک باتیں‘‘، ’’پسِ پردہ‘‘ اور ‘‘Straight Talk’’یسی تصانیف شامل ہیں، جو شائع ہو کر علمی و ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں اور اہلِ ذوق سے بھرپور پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ ان تصانیف کا یہ مسلسل سفر اس امر کا غماز ہے کہ چیمہ صاحب نے اپنے وسیع عملی تجربے، عمیق مشاہدے اور قومی احساس کو محض ذاتی تجربات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے قلم کے ذریعے ایک ایسے علمی و فکری اثاثے میں ڈھال دیا ہے جو آج کے قاری کے لیے رہنمائی کا وسیلہ بھی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی فکری سرمایہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

پنجاب کے ایک خوب صورت ضلع وزیرآباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں کٹھوڑ میں جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب نے ایک زمیندار چوہدری محمد اسلم خان کے گھر آنکھ کھولی۔ اُس زمانے میں یہ گاؤں اپنی پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث کئی محرومیوں سے دوچار تھا؛ یہاں تک کہ وہاں بنیادی تعلیم کے لیے بھی کوئی باقاعدہ ادارہ موجود نہ تھا۔ چنانچہ حصولِ علم کی ابتدائی منزل ہی سے انہیں دشوار راستوں کا مسافر بننا پڑا اور علم کی جستجو میں کئی رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑا۔
ابتدائی تعلیم کے لیے وہ روزانہ اپنے گاؤں سے تقریباً ڈیڑھ، دو کلومیٹر کی مسافت پیدل طے کرکے منصور والی کے پرائمری اسکول پہنچتے۔

چھٹی جماعت سے میٹرک تک گورنمنٹ ایم سی ہائی اسکول وزیرآباد کے طالب علم رہے۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کیڈٹ کالج حسن ابدال سے، گریجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سے اور ایل ایل بی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے حاصل کی۔ ان تینوں ممتاز تعلیمی اداروں میں انہوں نے نہ صرف ایک ذہین، محنتی اور لائق طالب علم کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، بلکہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں خطیبانہ صلاحیت، شعلہ بیانی اور جرأتِ اظہار کے باعث بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔

1983ء میں سی ایس ایس کا امتحان نمایاں پوزیشن کے ساتھ کامیابی سے پاس کرکے جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب پولیس سروس آف پاکستان کا حصہ بنے۔ سول سروس اکیڈمی لاہور میں کامن ٹریننگ کی تکمیل کے بعد ان کی پہلی تعیناتی بلوچستان کی تحصیل سبّی میں ہوئی۔ عملی زندگی کے آغاز ہی سے انہوں نے اصول، قانون اور انصاف کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی شعار بنا لیا اور پھر پوری ملازمت کے دوران اسی راستے پر ثابت قدمی سے گامزن رہے۔ ان کے لیے قانون محض منصبی تقاضا نہیں، بلکہ ایک اصولی عہد تھا؛ چنانچہ منصب کی ہر منزل پر انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دیانت، بے باکی اور حق پسندی کو مقدم رکھا اور کسی مصلحت یا دباؤ کو اپنے اصولوں پر غالب نہیں آنے دیا۔

مختلف حکومتوں نے وقتاً فوقتاً انہیں ایسے کٹھن اور دشوار فرائض سونپے جنہیں انجام دینا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی، مگر انہوں نے ہر آزمائش کا سامنا عزم، حوصلے، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ کیا۔ مشکل سے مشکل ذمہ داری کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر امتحان میں سرخرو ہو کر نکلے۔ انہوں نے کسی بھی حکمران، خواہ وہ سول ہو یا عسکری، کا کوئی غیر قانونی حکم قبول نہیں کیا اور نامساعد ترین حالات میں بھی قانون کی بالادستی، انصاف کے تقاضوں اور اصولوں کی پاس داری کو ہر مصلحت پر مقدم رکھا۔ یہی اصول پسندی اور استقامت ان کے پورے پیشہ ورانہ سفر کی نمایاں شناخت بن گئی۔

ان کی ابتدائی پولیس تعیناتیوں میں پاکپتن، مظفرگڑھ اور بھلوال میں بطور اے ایس پی خدمات شامل ہیں۔ بعد ازاں راولپنڈی، لاہور اور رحیم یار خان میں اہم پولیس ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وفاقی سطح پر وہ وزیرِ اعظم کے پرسنل اسٹاف آفیسر بھی رہے، جہاں انہیں قومی سطح کے انتظامی امور اور امن و امان سے متعلق معاملات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔

خیبر پختونخوا میں ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان کی حیثیت سے ان کی خدمات خصوصی اہمیت کی حامل رہیں۔ بدترین بدامنی اور دہشت گردی کے پرآشوب ماحول میں نوجوان افسران پر مشتمل ٹیم کی مؤثر قیادت کرتے ہوئے انہوں نے مختصر مدت میں امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور اپنے پیشہ ورانہ تجربے، انتظامی صلاحیت اور قائدانہ بصیرت کے نقوش ثبت کیے۔

2008ء میں آر پی او گوجرانوالہ کی حیثیت سے انہوں نے لاقانونیت اور سنگین جرائم کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کیے، جن کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2012ء میں شیخوپورہ ریجن میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتِ حال کو مؤثر حکمتِ عملی اور انتظامی بصیرت کے ذریعے سنبھالنا بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اہم مظہر تھا۔گریڈ 21 میں ترقی کے بعد وہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مقرر ہوئے،

جہاں ادارے کے بحران زدہ نظام کو مختصر مدت میں سنبھالا اور انتظامی امور کو مؤثر خطوط پر استوار کیا۔ بعد ازاں جون 2013ء میں آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ذمہ داری سنبھالی۔ یہاں انہوں نے دیانت داری، شائستگی، میرٹ اور قانون کی یکساں عمل داری کو ادارے کی بنیادی شناخت بنانے پر خصوصی توجہ دی اور ایک ایسے انتظامی کلچر کے فروغ کی کوشش کی جس میں فرض شناسی، عوامی خدمت اور قانون پسندی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو۔

نیشنل پولیس اکیڈمی میں کورس کمانڈر اور ڈائریکٹر ٹریننگ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر NAVTTC کے منصب پر بھی فائز رہے۔ یوں جناب ذوالفقار احمد چیمہ کا پورا کیریئر محض عہدوں اور مناصب کی ایک فہرست نہیں، بلکہ مشکل حالات میں قیادت، اداروں کی اصلاح، اصول پسندی، خدمتِ خلق اور کردار کی سربلندی کا ایک قابلِ تقلید سفر ہے۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر کی اصل قدر و قیمت ان عہدوں میں نہیں جو انہیں ملے، بلکہ ان اصولوں اور اقدار میں ہے جنہیں انہوں نے ہر منصب پر پوری استقامت کے ساتھ مقدم رکھا۔

اُن کے بارے میں یہ بات بجا طور پر کہی جاتی ہے کہ وہ پولیس سروس کے ماتھے کا جھومر تھے۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اپنی دیانت داری، جرأتِ کردار، اصول پسندی اور فرض شناسی کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں جو آج بھی ان کی شخصیت کا مستقل حوالہ ہیں۔ منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے میرٹ، انصاف اور قانون کی بالادستی کو ہمیشہ مقدم رکھا اور کسی سفارش، مصلحت یا بیرونی دباؤ کو اپنے فیصلوں کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا۔

پولیس کی وردی میں انہوں نے اپنے کردار اور پیشہ ورانہ دیانت کی دھاک بٹھائی، اور جب ریٹائرمنٹ کے بعد قلم ہاتھ میں لیا تو اسی عزم، بے باکی، حق گوئی اور جرأتِ اظہار کے ساتھ میدانِ قلم میں بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ یوں ان کا سفر وردی سے قلم تک دراصل کردار کی اسی پائیداری کا تسلسل ہے، جس نے انہیں دونوں میدانوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔

ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جو شخص میدانِ عمل میں اپنے کردار، اصول پسندی اور خدمت سے پہچانا جائے، وہ جب قلم اٹھاتا ہے تو اس کے الفاظ بھی تجربے کی حرارت، صداقت کی قوت اور خدمتِ وطن کے جذبے سے منور ہو جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک نہایت خوب صورت پہلو یہ ہے کہ جو اوصاف ان کی عملی زندگی کا امتیاز رہے،

وہی آج ان کے قلم کی جولانی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کی تحریر محض الفاظ کا خوش نما مجموعہ نہیں، بلکہ تجربے کی آنچ، مشاہدے کی گہرائی، کردار کی پختگی اور احساسِ ذمہ داری سے پھوٹنے والی ایسی فکری صدا ہے جو قاری کو محض متاثر ہی نہیں کرتی، بلکہ اسے غور و فکر، خود احتسابی اور اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کی دعوت بھی دیتی ہے۔

’’جہدِ مسلسل‘‘اگرچہ آپ کی آپ بیتی ہے، تاہم اس کی دل کشی کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ آپ نے اپنی داستانِ حیات میں خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے واقعات کو سادگی، توازن اور حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ نہ اپنی شخصیت کے گرد غیر معمولی عظمت کا ہالہ قائم کرتے ہیں اور نہ اختلاف رکھنے والوں کو منفی کرداروں کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

یہی اعتدال، بے ساختگی اور دیانت دارانہ طرزِ بیان اس کتاب کے بیانیے کو صداقت، وقار اور تاثیر عطا کرتا ہے۔ آپ کی اصل توجہ محض واقعات کے بیان پر نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والے اسباق، تجربات اور ان کی معنویت کو اجاگر کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ یہی متوازن، حقیقت پسندانہ اور بے تکلف اسلوبِ تحریر اس کتاب کو محض ایک آپ بیتی تک محدود نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے شخصیت سازی، کردار کی تعمیر اور زندگی کے نشیب و فراز سے سیکھنے کی ایک مؤثر دستاویز بنا دیتا ہے۔

قلم کے ساتھ ساتھ وہ آج بھی سخن و فکر کے وسیلے سے شعور و آگہی کے پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ان کے اسلوب میں آج بھی وہی جرأتِ اظہار نمایاں ہے جو ان کے کردار کا امتیاز رہی، وہی اصول پسندی جلوہ گر ہے جو ان کے عملی فیصلوں کی بنیاد رہی، اور وہی قومی درد محسوس ہوتا ہے جو ان کی عملی زندگی میں قدم قدم پر ان کے ساتھ رہا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی عملی جدوجہد، مشاہدات اور تجربات کو محض ماضی کی یادوں کے طور پر محفوظ نہیں کیا، بلکہ انہیں الفاظ کا پیکر عطا کرکے ایک ایسے فکری ورثے میں ڈھال دیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا وسیلہ بن سکتا ہے؛ ایسا ورثہ جس میں تجربے کی روشنی، کردار کی خوشبو، فکر کی پختگی اور زندگی سے سیکھنے کا سلیقہ یکجا ہو گیا ہے۔

ایسے علمی و فکری آثار کسی بھی قوم کے لیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف اجتماعی شعور کو بیدار کرتے اور قومی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرتے ہیں، بلکہ نئی نسل کے دلوں میں کردار کی بلندی، فرض شناسی، خدمتِ وطن اور حب الوطنی کے جذبات کو بھی مہمیز دیتے ہیں۔ خصوصاً وہ تحریریں جو مسائل کی تلخیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ اصلاح کی امید، مایوسی کے مقابل امکانات اور تنقید کے ساتھ تعمیر کی راہ بھی دکھاتی ہیں،

معاشروں کی فکری تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی تحریریں محض اپنے عہد کی ترجمان نہیں ہوتیں، بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے فکر و عمل کی رہنمائی کے چراغ بن کر نسلوں کے ذہنوں کو منور کرتی اور انہیں مستقبل کی سمت متعین کرنے کا شعور عطا کرتی ہیں۔