سرکاری استاد: قوم کے مستقبل کا معمار

ہمارے معاشرے میں تعلیم کے حوالے سے ایک دلچسپ اور اہم رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کروانے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں کو عموماً ان بچوں کے لیے سمجھا جاتا ہے جن کے والدین نجی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معیاری تعلیم صرف نجی اداروں کا حق ہے؟ اور کیا سرکاری اسکول کا طالب علم کم صلاحیت رکھتا ہے؟یقیناً ایسا نہیں ہے۔

بچے کی کامیابی صرف اسکول کی عمارت، یونیفارم یا فیس سے طے نہیں ہوتی۔ ایک بچے کی شخصیت اور تعلیمی کامیابی میں اسکول، استاد، والدین، گھر کا ماحول، محنت اور مسلسل رہنمائی سب کا کردار ہوتا ہے۔نجی اسکولوں میں پڑھنے والے بہت سے بچوں کو والدین کی اضافی توجہ حاصل ہوتی ہے۔ ان کے لیے گھر میں پڑھائی کا ماحول بنایا جاتا ہے، ہوم ورک باقاعدگی سے چیک کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ٹیوشن یا اضافی تعلیمی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس مسلسل توجہ کا اثر بچے کی تعلیمی کارکردگی پر ضرور پڑتا ہے۔

دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں ایسے بچے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود آگے بڑھنے کا خواب رکھتے ہیں۔ ان کے والدین شاید اضافی ٹیوشن کا خرچ برداشت نہ کر سکیں، لیکن ان بچوں میں صلاحیت، ذہانت اور کامیابی کی خواہش کسی سے کم نہیں۔

اصل ضرورت یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ والدین سرکاری اسکولوں پر مکمل اعتماد کیوں نہیں کرتے؟ کیا اس کی وجہ ماضی کے تجربات ہیں؟ کیا انہیں اساتذہ کی حاضری، تدریس کے معیار، نظم و ضبط یا نتائج کے حوالے سے تحفظات ہیں؟ یا پھر معاشرے میں یہ تصور مضبوط ہو چکا ہے کہ نجی ادارہ لازماً بہتر تعلیم فراہم کرتا ہے؟ان سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ہمیں ان پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔

سرکاری اسکولوں کے اساتذہ بھی معاشرے کے اہم معمار ہیں۔ ان کے پاس محدود وسائل میں بڑی تعداد میں بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ایک استاد اپنی ذمہ داری کو صرف ملازمت نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھ کر ادا کرے، کلاس روم میں جدید تدریسی طریقے اختیار کرے، ہر بچے کی انفرادی ضرورت کو سمجھے اور والدین کے ساتھ رابطہ مضبوط رکھے تو ایک عام سا سرکاری اسکول بھی بچوں کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔

لیکن ذمہ داری صرف استاد کی بھی نہیں۔والدین کو بھی اپنے بچے کی تعلیم کو صرف اسکول کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ بچہ نجی اسکول میں پڑھتا ہو یا سرکاری اسکول میں، گھر میں والدین کی دلچسپی، روزانہ کی نگرانی، مطالعے کی عادت اور حوصلہ افزائی انتہائی ضروری ہے۔

اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید تعلیمی وسائل اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو یقینی بنائے۔ صرف اسکول کی عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں؛ اصل سرمایہ کاری استاد اور طالب علم پر ہونی چاہیے۔ہمیں نجی اور سرکاری تعلیم کو ایک دوسرے کا مقابل سمجھنے کے بجائے معیارِ تعلیم کو اصل مقصد بنانا ہوگا۔ اچھا استاد جہاں بھی ہو، وہ اچھا استاد ہے؛ اور محنتی طالب علم کسی بھی ادارے سے تعلق رکھتا ہو، وہ کامیابی کا حق رکھتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے کم وسائل رکھنے والے بچوں کو بھی بہترین مواقع ملیں تو ہمیں سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ یہ اعتماد صرف نعروں سے نہیں بلکہ اچھے نتائج، شفاف نظام، ذمہ دار تدریس اور والدین کے فعال تعاون سے پیدا ہوگا۔ایک قوم اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے ہر بچے کو، چاہے وہ نجی اسکول میں پڑھتا ہو یا سرکاری اسکول میں، اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ کس اسکول میں پڑھ رہا ہے؟

اصل سوال یہ ہونا چاہیے:کیا ہم اس بچے کو وہ تعلیم، توجہ اور تربیت دے رہے ہیں جس کا وہ حق دار ہے؟کیونکہ قوم کا مستقبل صرف مہنگے اسکولوں میں نہیں، بلکہ ہر اس کلاس روم میں تشکیل پا رہا ہے جہاں ایک استاد پوری ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ اپنے طالب علم کو پڑھا رہا ہے۔استاد اگر معمار ہے تو والدین اس تعمیر کے شریکِ کار ہیں، اور بچہ وہ مستقبل ہے جس کی بنیاد آج رکھی جا رہی ہے۔