
معزز قارئین بفضلِ رب العالمین ، صدقہ مصطفی کریم ﷺ آج اپنا 1000 واں کالم جسکا عنوان ہے کرسی بڑی ہے یا انسان، جس میں تمام تحریر اچھا لہجہ، اعلیٰ ظرفی اور سکونِ دل کے محیط مکمل کرکے آپ جملہ قارئین کی سیمابِ نظر کرنے لگا ہوں ۔ ایک دن ایک سرکاری دفتر میں ایک افسر نے اپنے ماتحت کو سب کے سامنے سخت لہجے میں ڈانٹ دیا۔ غلطی معمولی تھی، مگر الفاظ غیر معمولی سخت۔ چند لمحوں کے لیے پورا کمرہ خاموش ہوگیا۔ ملازم نے سر جھکا لیا، فائل اٹھائی اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ افسر نے شاید اسے ایک معمولی انتظامی معاملہ سمجھا، مگر باہر نکلنے والے اس شخص کے لیے وہ چند جملے پورے دن کا بوجھ بن چکے تھے۔
شاید ہم میں سے اکثر لوگ ایسے مناظر سے گزرے ہیں۔ کسی دفتر میں، کسی ادارے میں، کسی کلاس روم میں، کسی ہسپتال میں، کسی دکان پر یا حتیٰ کہ اپنے گھر میں۔ اور شاید ہم نے کبھی خود سے یہ سوال نہیں کیا”میں نے اپنا کام تو کروا لیا، مگر کیا میں نے ایک انسان کا دل بھی توڑ دیا؟”یہی وہ سوال ہے جو آج کے انسان کو اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔
ہم ترقی کے اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے، مصنوعی ذہانت ہے، تیز رفتار مواصلات ہیں، بلند عمارتیں ہیں، بڑے عہدے ہیں، وسیع دفاتر ہیں، مگر اس سب کے باوجود ایک چیز مسلسل کم ہوتی محسوس ہوتی ہے: انسانی گفتگو میں انسانیت۔ہم الفاظ بولتے ہیں، مگر احساس کے بغیر۔ہم ہدایات دیتے ہیں، مگر احترام کے بغیر۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، مگر تہذیب کے بغیر۔ہم اصلاح کرتے ہیں، مگر عزتِ نفس کا خیال کیے بغیر۔اور کبھی کبھی ہم ایک کرسی پر بیٹھ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ کرسی ہمیں اختیار دیتی ہے، انسانوں سے برتری نہیں۔
عہدہ انسان کو بڑا نہیں بناتازندگی کا ایک عجیب المیہ ہے کہ انسان کو جب معمولی سا اختیار ملتا ہے تو بعض اوقات اس کا لہجہ اس کے اختیار سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ کل تک جو شخص دوسروں کے دروازے پر کھڑا ہوتا تھا، آج کسی دفتر کی کرسی پر بیٹھ کر آنے والوں کو انتظار کرواتا ہے۔ کل تک جو خود کسی افسر کے سخت لہجے سے شکوہ کرتا تھا، آج وہی ماتحت کے ساتھ وہی رویہ اختیار کر لیتا ہے۔یہ انسانی کمزوری ہے کہ بعض لوگ عہدے کو اپنی شخصیت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
حالانکہ عہدہ عارضی ہے۔کرسی عارضی ہے۔اختیار عارضی ہے۔شہرت عارضی ہے۔مگر انسان کا اخلاق اس کی مستقل پہچان بن جاتا ہے۔ آپ کی کرسی آپ کے دفتر میں رہ جائے گی، مگر آپ کا لہجہ لوگوں کے دل میں رہ جائے گا۔ آپ کا عہدہ ایک دن ختم ہو جائے گا، مگر آپ نے جس انسان کو عزت دی یا جسے بے عزت کیا، اس کی یاد شاید بہت دیر تک زندہ رہے۔
اسی لیے حقیقی عظمت یہ نہیں کہ لوگ آپ سے ڈریں؛ حقیقی عظمت یہ ہے کہ لوگ آپ کے سامنے محفوظ محسوس کریں۔قرآن ہمیں “بہتر” بات کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے گفتگو کو محض معاشرتی آداب کا معاملہ نہیں بنایا بلکہ اسے اخلاقی اور روحانی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں “یعنی میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ وہی بات کہیں جو سب سے بہتر ہو۔(سورۃ الاسراء: 53)غور کیجیے، قرآن صرف یہ نہیں کہتا کہ اچھی بات کہو؛ بلکہ “الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ” فرماتا ہے، یعنی ایسا انداز اختیار کرو جو بہترین ہو۔ اس میں صرف الفاظ نہیں آتے، لہجہ بھی آتا ہے۔ بات کی حقیقت بھی آتی ہے اور بات کرنے کا طریقہ بھی۔ موقف بھی آتا ہے اور مخاطب کی عزتِ نفس بھی۔یہی وجہ ہے کہ ایک ہی بات دو مختلف لہجوں میں بالکل مختلف اثر پیدا کرتی ہے۔”یہ کام ابھی مکمل کریں” ایک انتظامی ہدایت ہے۔ مگر “آپ سے گزارش ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر دیجیے” ایک مہذب انتظامی ہدایت ہے۔ اصول دونوں میں موجود ہے، مگر انسانیت دوسرے جملے میں زیادہ نمایاں ہے۔
نرم لہجہ کمزوری نہیں ہمارے معاشرے میں ایک عجیب غلط فہمی بھی پیدا ہو گئی ہے کہ سخت لہجہ اختیار کرنا مضبوط شخصیت کی علامت ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔ سخت آواز بلند کرنا آسان ہے؛ اپنے غصے کو قابو میں رکھنا مشکل ہے۔کسی کو سب کے سامنے ڈانٹ دینا آسان ہے؛ تنہائی میں بلا کر سمجھانا مشکل ہے۔کسی کی غلطی پر طنز کرنا آسان ہے؛ اسے اصلاح کا موقع دینا مشکل ہے۔ اور یہی مشکل کام اعلیٰ ظرفی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“یعنی نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جائے اسے بدنما کر دیتی ہے۔صحیح مسلمیہ حدیث ہمارے گھروں سے لے کر دفاتر تک، ہر تعلق کے لیے ایک مکمل ضابطۂ اخلاق ہے۔نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ غلطی کو نظر انداز کر دیا جائے۔ نرمی کا مطلب یہ ہے کہ غلطی کی اصلاح انسان کی تذلیل کے بغیر کی جائے۔دفتر میں انسان بھی ہوتے ہیں، صرف ملازم نہیںہمارے دفتری نظام میں اکثر انسان کو اس کے عہدے، گریڈ، فائل، ٹارگٹ اور کارکردگی کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ مگر ہر میز کے پیچھے ایک انسان بیٹھا ہے۔ اس انسان کے گھر کے مسائل ہیں۔ اس کی اپنی پریشانیاں ہیں۔ اس کی اپنی امیدیں ہیں۔ اس کے بچے ہیں۔ اس کے والدین ہیں۔اس کے خواب ہیں۔
اور کبھی کبھی وہ دفتر میں مسکرا رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کے اندر کوئی ایسی جنگ جاری ہوتی ہے جس سے ہم بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔اس لیے کسی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ فرض کر لینا کہ سامنے والا صرف “ایک ملازم” ہے، انسانی حقیقت کو محدود کر دینا ہے۔ایک اچھا سربراہ صرف کام نہیں دیکھتا؛ کام کرنے والے انسان کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خوف سے کام لیا جا سکتا ہے، مگر اعتماد سے صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی قیادت: دل جیتنے کا فنقرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت کے ایک بنیادی وصف کو یوں بیان کیا:یعنی اللہ کی رحمت ہی کے باعث آپ ان کے لیے نرم ہوگئے۔پھر فرمایا: یعنی اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔(آل عمران: 159)یہ آیت قیادت کا ایسا اصول بیان کرتی ہے جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی اتنا ہی زندہ ہے۔ لوگ صرف حکم سے نہیں جڑتے۔لوگ احترام سے جڑتے ہیں۔لوگ صرف اختیار سے نہیں جڑتے۔لوگ اعتماد سے جڑتے ہیں۔ معزز قارئین ،لوگ خوف سے وقتی طور پر کام کر سکتے ہیں، مگر دل سے کام کرنے کے لیے انہیں عزت، اعتماد اور مقصد چاہیے۔
ایک اچھا جملہ بھی صدقۂ دل ہو سکتا ہے۔کبھی کسی تھکے ہوئے ملازم سے صرف یہ کہہ دینا: “آپ نے کوشش اچھی کی ہے، اب اسے مزید بہتر کر لیتے ہیں۔”کسی جونیئر سے کہنا”آپ کی رائے اہم ہے، وضاحت سے بتائیے۔” کسی طالب علم سے کہنا:”غلطی ہوگئی ہے، مگر آپ اسے دوبارہ بہتر کر سکتے ہیں۔”کسی ساتھی سے کہنا “اگر آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائیے۔” یہ چھوٹے جملے بظاہر معمولی ہیں، مگر انسانی تعلقات میں ان کی قیمت بہت بڑی ہے۔ کبھی کبھی انسان کو بڑے انعام کی نہیں، صرف عزت کے ایک جملے کی ضرورت ہوتی ہے۔
خاموشی بھی کردار ہےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ہم اگر اس ایک اصول کو اپنی دفتری زندگی کا حصہ بنا لیں تو کتنے ہی تنازعات ختم ہو سکتے ہیں۔ ہر بات کا جواب ضروری نہیں۔ ہر اختلاف کو جنگ بنانا ضروری نہیں۔ ہر غلطی کو سب کے سامنے بیان کرنا ضروری نہیں۔
ہر اشتعال کا جواب اشتعال سے دینا ضروری نہیں۔بعض اوقات خاموشی شکست نہیں ہوتی؛ خاموشی اعلیٰ ظرفی کی سب سے بلند شکل ہوتی ہے۔تکبر کی سب سے خطرناک شکل تکبر ہمیشہ بڑے دعوے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔کبھی یہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ہم کسی غریب سے مختلف لہجے میں بات کرتے ہیں۔کبھی اس وقت جب ہم اپنے سے کم عہدے والے شخص کو سلام کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ کبھی اس وقت جب کسی جونیئر کی رائے کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ وہ جونیئر ہے۔
کبھی اس وقت جب ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اور کبھی اس وقت جب ہم سمجھتے ہیں: “میں افسر ہوں، اس لیے میری بات ہی آخری بات ہے۔”یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک کر سوچنا چاہیے کہ آخر افسر کون ہے اور انسان کون؟ جو آج افسر ہے، وہ کل ریٹائر ہو سکتا ہے۔جو آج سربراہ ہے، کل عام ملازم کی طرح دفتر سے باہر نکل سکتا ہے۔جو آج طاقتور ہے، کل اسے بھی کسی دوسرے کے دروازے پر کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔ زندگی کا نظام ہمیں بار بار یہ سکھاتا ہے کہ اختیار گردش کرتا ہے، مگر کردار انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
ادارے قوانین سے نہیں، رویّوں سے خوبصورت بنتے ہیں۔
معزز قارئین! کسی بھی ادارے کی اصل ثقافت اس کی عمارت، لوگو یا پالیسی دستاویز میں نہیں ہوتی۔ وہ اس وقت نظر آتی ہے جب ایک جونیئر افسر اپنے سینئر کے سامنے اپنی رائے دیتا ہے۔ وہ اس وقت نظر آتی ہے جب ایک ملازم غلطی کرتا ہے۔ وہ اس وقت نظر آتی ہے جب کسی شخص سے اختلاف کیا جاتا ہے۔وہ اس وقت نظر آتی ہے جب کوئی کمزور شخص مدد مانگتا ہے۔ اور وہ اس وقت بھی نظر آتی ہے جب سربراہ کے پاس کسی کو ذلیل کرنے کا مکمل اختیار موجود ہو، مگر وہ اسے معاف کرنے، سمجھانے یا اصلاح کا موقع دینے کو ترجیح دے۔
یہی ادارہ جاتی انسانیت ہے۔ آج ہمیں کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ ہمیں مزید بلند عمارتوں سے زیادہ بلند کردار کی ضرورت ہے۔مزید طاقتور عہدوں سے زیادہ نرم دل قیادت کی ضرورت ہے۔ مزید تقریروں سے زیادہ مہذب گفتگو کی ضرورت ہے۔ مزید احکامات سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ مزید ظاہری کامیابیوں سے زیادہ اندرونی سکون کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سب انسان ہیں۔
کسی کا گریڈ بڑا ہے، کسی کا چھوٹا۔ کسی کا عہدہ بڑا ہے، کسی کا معمولی۔ کسی کے پاس اختیار زیادہ ہے، کسی کے پاس کم۔مگر عزتِ نفس ہر انسان کے پاس برابر ہے۔ آخر میں کبھی اپنے دفتر سے واپس جاتے ہوئے چند لمحوں کے لیے رک کر سوچیے: آج میری وجہ سے کتنے لوگوں کو سکون ملا؟ کتنے لوگوں نے میرے ساتھ بات کرتے ہوئے خود کو باعزت محسوس کیا؟ کیا میری گفتگو نے کسی انسان کو بہتر بننے کا حوصلہ دیا یا اسے اندر سے توڑ دیا؟ کیا میرے ماتحت مجھ سے صرف ڈرتے ہیں یا مجھ پر اعتماد بھی کرتے ہیں؟
اور سب سے اہم سوال: اگر آج میرے عہدے، میری کرسی اور میرا اختیار مجھ سے لے لیا جائے تو کیا میری انسانیت پھر بھی میرے ساتھ باقی رہے گی؟ یہی سوال انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یاد رکھیے، کرسی پر بیٹھنا کوئی کمال نہیں؛ کرسی پر بیٹھ کر بھی انسان رہنا کمال ہے۔
لوگ آپ کے الفاظ بھول سکتے ہیں، مگر آپ نے انہیں کیسا محسوس کروایا، یہ اکثر نہیں بھولتے۔ اس لیے لہجہ ایسا رکھیے کہ اختلاف میں بھی احترام باقی رہے۔ فیصلہ ایسا کیجیے کہ کسی کی عزتِ نفس محفوظ رہے۔ تنقید ایسی کیجیے کہ اصلاح کا دروازہ کھلے۔ قیادت ایسی کیجیے کہ لوگ آپ کے جانے کے بعد بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ اور زندگی ایسی گزاریے کہ جب آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے دولت، عہدہ یا اختیار نہ بھی ہو، تب بھی آپ کے پاس ایک نرم لفظ، ایک مسکراہٹ، ایک دعا اور ایک باعزت رویّہ ضرور موجود ہو۔
کیونکہ انسان کی اصل بلندی اس مقام میں نہیں جہاں وہ دوسروں سے اوپر کھڑا ہو؛اصل بلندی اس کردار میں ہے جہاں وہ بلند مقام پر پہنچ کر بھی کسی دوسرے انسان کو اپنے سے کمتر نہ سمجھے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اچھا لہجہ اعلیٰ ظرفی بن جاتا ہے، اعلیٰ ظرفی سکون بن جاتی ہے، اور انسان کی موجودگی دوسروں کے لیے راحت کی مثال بن جاتی ہے۔