انسان کےلئے عادلانہ نظام کی ضرورت

انسان اشرف المخلوقات ہے اس کے لیے ایک فلاحی و عادلانہ معاشرے کی ضرورت لازم ہے۔اس کے بغیر انسان بے سکونی اور بے چینی کی زندگی میں رہے گا،جو اس کی فطرت کے خلاف ہے۔دینِ فطرت صرف اسلام ہے۔اس کے اصول و قوانین آفاقی ہیں۔انسان کو اللّہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں برتری عطا کی اور اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ یہ شرف محض جسمانی یا ظاہری خوبیوں کی بنا پر نہیں بلکہ علم و عقل، شعور و بیداری، سمجھ بوجھ اور ادراک،بصیرت، اخلاق اور اختیار کی وجہ سے ہے۔خواجہ الطاف حسن حالیٓ نے کیا خوب کہا ہے:
”فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ“
اللّہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کر کے،یوں ہی چھوڑ نہیں دیا ہے۔سب سے پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں ان کو اللّہ نے دینی اور دنیاوی علوم ودیعت فرمائے۔ہدایت و راہنمائی کا علم انبیا و رسل کے ذریعے انسان کو عطا کیے۔دنیاوی علم اولادِ آدم میں تقسیم کر دیے گئے۔دنیاوی تعلیم و تحقیق کا علم ہر ایک مسلم اور غیر مسلم کو ودیعت کر دیا گئے ہیں۔

جس علم کی جب اور جس وقت ضرورت ہوتی ہے کسی بھی انسان سے ظاہر ہو جاتا ہے۔جس سے سبھی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں۔لیکن ہدایت و راہ نمائی،تربیت و تذکیہ،اخلاق و ہمدردی کے علوم، اب اللّہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمدﷺ کے لائے ہوئے دینِ اسلام سے رجوع کرنے سے ملیں گے،جو اس وقت قرآن اور آحادیثِ نبوی ﷺ کی صورت میں موجود ہیں۔اسی دین میں انسان کی بھلائی کامیابی اور فلاح ہے۔
انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر اس پر ایک عظیم ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے تاکہ وہ عدل، انصاف اور رحم و کرم کے اصولوں کو قائم کرے۔اب بھی اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے یہی دین رحمت ہے۔ان شاءاللہ یہ سلامتی اور امن والا دین قائم ہو کررہے گا۔اس میں ہر انسان کے لیے بھلائی و خیرخواہی اور کامیابی ہے۔علامہ فرماتے ہیں:
نہیں ہے نااُمید اقبالٓ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!


مگر تاریخ کے مختلف ادوار میں انسان نے کبھی اپنے اس مقام کو پہچانا اور کبھی اس سے انحراف بھی کیا۔ جس کی وجہ سے کبھی عروج ملا اور کبھی زوال۔ہم نے بھی من حیث القوم اپنی مقدس قدریں و روایات اور بابرکت رسم و رواج،جو دینِ اسلام سے اخذ کیے اور اپنائے تھے،پسِ پشت ڈال دیے۔غیروں کی نقالی شروع کر دی،جس کی وجہ سے اپنی اہمیت و حثییت کھودی۔جو کچھ حاصل کیا،اسے بھی نقالی میں ضائع کر دیا۔جیسے”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“۔اسلام نے سب سے پہلے انسان کی حرمت کو واضح انداز میں بیان کیا۔ قرآن کریم میں اللّہ کاارشاد ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ نبی کریم محمد ﷺ کے خطبہ حجة الوداع میں انسانی جان، مال اور عزت کو کعبہ کی حرمت کے برابر قرار دیا گیا۔ یہ ایک ایسا تاریخی اعلان تھا جس نے انسانیت کو مساوات، انصاف اور بھائی چارے کا درس دیا۔ تمام انسان برابر ہیں،نسل، زبان، علاقہ، قبیلہ، رنگ اور قوم کی وجہ سے کو?ی فضیلت نہیں۔برتری اور بڑھا?ی صرف علم و عمل اور تقویٰ و پرہیز گاری اور اعلی اخلاق کی وجہ سے ہے۔ اقبالؒ نے فرمایا ہے:
”خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا“


اس کے بعد اسلامی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کا دور ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے اور عدل و انصاف کو عملی طور پر نافذ کیا گیا۔ظلم کو ظلم کہا،مظلوم کی دادرسی کی،اسے ظلم سے نجات دلائے۔ظالم کو سرِ عام عبرت ناک سزا دی گئی یہی وجہ تھی کہ جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔کھی زہر کو تریاق نہ کہا۔ہمیشہ اللّہ کی ناراضی سے بچنے کی کوشش کی۔ان کے اس رویے کو علامہ اقبالؒ اس طرح بیان کیا ہے:
”اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں،بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند!“
ایک دوسرے شعر میں علامہ اقبالؒ ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند!“


دنیا میں امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر فرد کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں۔ خوراک، لباس، علاج، رہائش اور روزگار انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ اگر ایک انسان بھوکا ہو،
بے گھر ہو یا بے روزگار ہو تو وہ نہ صرف خود پریشان ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی بے چینی اور بدامنی کو جنم دیتا ہے۔ فلاحی ریاست کا تصور اسی لیے پیش کیا گیا کہ ہر فرد کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ صرف قانون کی کتاب میں نہیں بلکہ عملاً انسان کو ملیں اور نظر آ?یں۔ہر فرد،ہر انسان قیمتی اکا?ی ہے،قومیں افراد سے بنتی ہیں۔کچھ انفرادی اور کچھ اجتماعی ذمہ داریاں ہیں جنہیں ادا کرنے میں فلاح ہے۔کوئی فرد ناکارہ یا بے کار نہیں۔وہ اسی طرح اہمیت کا حامل ہے جس طرح ایک لیڈر احترام کے قابل ہے۔لیڈر اور قائد ان افراد کے تعاون سے بنتے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے:
”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا“


جدید دنیا میں بھی کئی ممالک نے اسی اصول کو اپنایا اور ترقی کی منازل طے کیں۔ہمارے سامنے برطانیہ ملک کا جائزہ لیا جا سکتا ہے،دیگر یورپی ممالک میں بھی انسان کو بنیادی حقوق عملاً حاصل ہیں۔
اس کے برعکس جب قوانین ظالمانہ اور غلامانہ ہوں، جہاں طاقتور کمزور کو دباتا ہو اور انصاف صرف امیروں تک محدود ہو، وہاں بدامنی، کرپشن اور ناانصافی جنم لیتی ہے۔ ایسے معاشرے میں انسان سکون کی زندگی کیسے گزار سکتاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جائے، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے۔ظالمانہ اور غلامانہ قانون فوری طور پر ختم کر کے،انسان کے تحفظ،خیر خواہی کے قانون جاری کیے جاییں۔جس کے عملاً نفاذ سے ہر انسان اپنے آپ کو محفوظ پائے،مجرم اور ظالم کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو،وہ قانون کی گرفت سے باہر نہ جاسکے، اپنے کیے کی سزا پا کر رہے۔ اسلامی تعلیمات بھی اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ انصاف میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، خواہ معاملہ اپنے ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔بے شک انسانی معاشرہ عدل و انصاف پر قائم رہ سکتا ہے۔


آج کے دور میں انسانیت کو سب سے بڑا چیلنج یہی درپیش ہے کہ وہ اپنے اصل مقام کو پہچانے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے جہاں ظلم و جبر کا خاتمہ ہو۔ درندہ صفت انسانوں کا دَور ختم ہو اور محبت، اخوت اور ہمدردی کا فروغ ہو۔ تعلیم، شعور اور اخلاقی تربیت کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جہاں ہر فرد دوسرے کے حقوق کا احترام کرے۔زبانی کلامی احترام کچھ نہیں،جس طرح اپنے حقوق لینے کے لیے جہدِ مسلسل کرتا ہے اسی طرح دوسروں کے بھی حقوق ادا کرے۔وقت کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ ذمہ داری پوری کرے۔