
پاکستان کی ترقی کا خواب صرف بڑے منصوبوں، شاہراہوں اور عمارتوں سے تعبیر نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی اصل بنیاد ایک ہنرمند، باصلاحیت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نوجوان نسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں فنی تعلیم اور تکنیکی مہارت کو قومی ترقی کا بنیادی ستون تصور کیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں انجینیئر قمرالاسلام راجہ کا نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے چیئرمین کے طور پر تقرر ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ وہ انتظامی صلاحیت، سیاسی بصیرت، انجینیئرنگ کے عملی تجربے اور عوامی خدمت کے جذبے کا منفرد امتزاج رکھتے ہیں انجینیئر قمرالاسلام راجہ کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ترقیاتی سیاست کو ترجیح دی۔
قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے اپنے حلقے میں سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور دیگر عوامی منصوبوں کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی سیاست کا محور ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت اور ملکی ترقی رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ عوام میں ایک فعال اور متحرک رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔انجینیئر ہونے کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی، صنعت، انفراسٹرکچر اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہی تجربہ آج نیووٹیک جیسے قومی ادارے کی قیادت میں ان کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کا وژن صرف روایتی فنی تعلیم تک محدود نہیں
بلکہ وہ پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔چینی کمپنی آئی ٹی ایم سی (ITMC) کے وفد سے ان کی حالیہ ملاقات اسی وژن کی عملی جھلک ہے۔ اس ملاقات میں الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی، ماسٹر ٹرینرز کی تیاری اور جدید ورکشاپس کے قیام جیسے فیصلے مستقبل کے پاکستان کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہیں۔ دنیا تیزی سے الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے، اور ایسے میں پاکستان میں ہزاروں نوجوانوں کو اس شعبے میں تربیت دینا نہ صرف ایک بروقت فیصلہ ہے بلکہ ملکی معیشت، روزگار اور صنعتی ترقی کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر یہ منصوبہ اپنی رفتار کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان نہ صرف الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کرے گا بلکہ خطے میں اس شعبے کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ قومی ترقی کے اس سفر کی علامت ہوگی جس میں نوجوانوں کو ہنر، خود اعتمادی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔انجینیئر قمرالاسلام راجہ کی قیادت میں نیووٹیک کو ایک متحرک ادارہ بنانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی ترجیح منصوبوں کے اعلانات نہیں
بلکہ ان پر فوری عملدرآمد ہے، اور یہی طرزِ قیادت کسی بھی ادارے کی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔پاکستان کو اس وقت ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو مستقبل کی ضروریات کو سمجھتے ہوں، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نوجوانوں کو قومی ترقی کا حقیقی سرمایہ تصور کریں۔ انجینیئر قمرالاسلام راجہ کی موجودہ ذمہ داری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اگر فنی تعلیم، صنعتی تعاون اور بین الاقوامی شراکت داری کے یہ منصوبے اسی عزم اور رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو یقیناً پاکستان ایک ہنرمند، خود کفیل اور ترقی یافتہ معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہوگا۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی کا سفر صرف حکومتی منصوبوں سے نہیں بلکہ باصلاحیت قیادت، درست وژن اور مسلسل عملی اقدامات سے آگے بڑھتا ہے۔ انجینیئر قمرالاسلام راجہ کی ذمہ داری بھی اسی قومی مشن کا حصہ ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی قیادت میں نیووٹیک نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتے ہوئے پاکستان کو تکنیکی مہارتوں کے میدان میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا