
اللہ تعالیٰ کو ایک بندہ مومن کا وہ عمل پسند ہے جس میں اخلاص ہو ، بے شک وہ چھوٹا عمل ہو لیکن اس عمل کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہو ، اگر نیت میں اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ تھوڑے عمل کو قبول کر لیتا ہے ، اور اس بندے کو عظیم اجر سے نواز دیتا ہے ، ہمارے پیش نظر ہمیشہ آخرت کی کامیابی رہنی چاہیے ، دنیا دارالعمل ہے ہم جو عمل بھی اس دنیا میں کریں گے ، قیامت کے دن اس کا پھل مل جائے گا ، آج ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ کرنے چلا ہوں جن کی زندگی دوسرے انسانوں کے لئے سراپا خیر تھی ، بلاشبہ وہ مخلص انسان تھے ، وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ، پاکستان بننے سے پہلے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا ، اس وقت کے میٹرک پاس بڑے بڑے عہدوں سے ریٹائر ہوئے ، لیکن اس شخصیت کو ماں باپ کی گود سے یہ سبق ملا کہ سیدھے راستے پر چلتے رہنا ،
شارٹ کٹ سے بچنا ، حرام ذرائع سے بچنا ، پھر اس شخصیت نے ماں باپ کے پڑھائے ہوئے سبق کو سچ ثابت کیا ، وہ شخصیت ملک خدا بخش رحمہ اللہ ہیں ، ملک خدا بخش 1926 کو ملک مختار علی کے گھر پنجگراں تحصیل راولپنڈی میں پیدا ہوئے ، انھوں نے 1644 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ، والدین نے ان کی شادی 1947 میں کرادی ، انھوں نے عملی زندگی کا آغاز محمکہ مائننگ سے کیا ، وہ کوہٹہ اور حیدر آباد میں رہے ،
ان کی ایک بہن تھی ، سروس کے دورا ن انھوں نے سید مودودی رحمہ اللہ کے لٹریچر کو پڑھا ، پھر اپنے آپ کو سید مودودی رحمہ اللہ کی فکر کے حوالے کردیا ، ان کو کتاب سے عشق تھا ، وہ مطالعہ کے بے حد شوقین تھے ، انھوں نے تفہیم القرآن کو کئی بار پڑھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کو چار بیٹے عطا کئے ، ان کے بیٹے ملک تاج محمد ، ملک اختر ، ملک جاوید اقبال ، ملک ظفر اقبال ، اور دو بیٹیاں تھیں ، ان کے دو بیٹے ملک تاج محمد اور ملک اختر ان کی زندگی میں وفات پا گئے تھے ، انھوں نے اپنے ادارے سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوہ نور مل میں کچھ عرصہ تک سروس کی ، وہ 1982 جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بن گئے ، انھوں نے 1991میں پنجگراں میں مدرسہ تعلیم السلام کی بنیاد رکھی ،
جس کے پہلے امام اور خطیب حضرت مولانا حق داد نصرت رحمہ اللہ تھے ، اس مسجد میں انھوں نے ایک بڑی لائبریری قائم کی ، وہ خود صاحب مطالعہ شخص تھے ، وہ ایک باعمل انسان تھے ، وہ سچے اور جرات مند انسان تھے ، وہ کمزور انسانوں کی خاموشی سے مدد کرتے تھے ، انھوں نے 1970کے الیکشن سے لیکر 1993 کے الیکشن تک جماعت اسلامی کے امیدواروں کی الیکشن میں بھرپور کردار ادا کیا ،
وہ حضرت مولانا فتح محمد رحمہ اللہ ، محمد عباس بٹ رحمہ اللہ ، راجہ ظہیر خان رحمہ اللہ کے دست راست تھے ، ایک وقت تھا جب اج کی یوسییز لوہدرہ ، مغل ، اور ساگری سے بڑی بڑی برادریوں کے صاحب علم فضل ارکان جماعت اسلامی تھے ، ان میں سے ایک ملک خدا بخش رحمہ اللہ تھے ، ان کا گھر جماعت اسلامی کی قیادت کا مرکز تھا ، ان کے ساتھ ان کے ساتھی چوہدری خدا یار رحمہ اللہ ، چوہدری محمد اسلم رحمہ اللہ ، چوہدری سلطان رحمہ اللہ تھے ، یہ قرون اولیٰ کے لوگ تھے ، یہ ایک ہی سبق جانتے تھے ،
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی ، میں اسی لیے مسلمان اسی لئے نمازی ، وہ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھتے تھے ، یہ دنیا حقیر ہے ، یہ فنا ہو جائے گی ، باقی رہے گا نام اللہ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ، ان کی وفات 1998 میں ہوئی ، میں نومبر 2006 میں ان راستوں پر نکلا ، جن راستوں پر حضرت مولانا فتح محمد رحمہ اللہ ، محمد عباس بٹ رحمہ اللہ ، راجہ ظہیر خان رحمہ نے چل کر اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف دعوت دی تھی ، تو مجھے سب سے پہلے ان کی اولاد نے اپنے گھر بٹھایا ،
ان کے بیٹے ملک جاوید اقبال ، ملک ظفر اقبال اور پوتے ملک سہیل اور دوسرے پوتوں اور نواسوں نے خوش آمدید کہا ، 2013 اور 2018 میں بھرپور ساتھ دیا ، 2024 میں یہ یوسی دولتالہ پی پی 9 میں چلی گئی ، وہ ادارہ آج بھی الحمدللہ آباد ہے ، اس کے مہتمم ہمارے بھائی ملک حاجی ابرار ہیں اور مسجد کے امام حضرت مولانا قاری آصف صاحب ہیں ، ہمارے بھائی ملک ظفر اقبال صاحب کی طبیعت کافی خراب ہے، اللہ تعالیٰ کو مکمل صحت عطا فرمائے آمین ثم آمین ، اللہ تعالیٰ ملک خدا بخش رحمہ اللہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ثم آمین ، ان کے خاندان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے آمین ، ان کی اولاد کو ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین