
کہتے ہیں کہ تعمیر و ترقی ایک ایسا سفر ہے جس میں منزل تک پہنچنے کے لیے ہر دور کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔ کوٹلی ستیاں، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور سحر انگیز نظاروں کی بدولت “منی مری” کہلانے کا حق رکھتا ہے، آج ایک ایسی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں سے اس کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ مری میں حالیہ منعقدہ اعلیٰ سطح کا اجلاس، جس کی صدارت قائدِ مسلم لیگ (ن) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کی، اس خطے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔کوٹلی ستیاں میں سیاحت کے فروغ کا خواب نیا نہیں ہے۔ اس سفر میں سابق ارکانِ اسمبلی صداقت علی عباسی اور میجر (ر) لطاسب ستی کی کاوشوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا
جنہوں نے تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ان کی کوششوں سے کوٹلی ستیاں کو ” پہلے سو دنوں” کے اندر سیاحتی زون (Tourism Zone) متبادل سیاحتی ہل سٹیشن ڈکلیئر کروایا گیا تھا۔ اس وقت “ڈیسٹینیشن بورڈز” کی تنصیب سمیت ٹو آئر ازم منسٹر کو کوٹلی ستیاں کا فقرہ کروا کر دیگر چھوٹے بڑے منصوبوں کا آغاز بھی ہوا، لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور عالمی وبائ’کرونا’ کے باعث ان بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ ہو سکا اور ترقی کا وہ پہیہ کسی حد تک رک گیا ان ادوار میں لگائے گئے
منصوبے اگرچہ مکمل نہ ہو سکے، لیکن انہوں نے کوٹلی ستیاں کی شناخت کو حکومتی ایوانوں میں تسلیم کروانے میں ایک بنیاد کا کام ضرور کیا موجودہ حکومت اور بلال یامین ستی کا متحرک کردارسیاست اپنی جگہ، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور اس حلقے سے منتخب ایم پی اے بلال یامین ستی نے اس تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ بلال یامین ستی نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی نمائندگی صرف ووٹ لینے کا نام نہیں
بلکہ اپنے علاقے کے ادھورے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور نئے وژن کے ساتھ آگے بڑھنا اصل قیادت ہے۔ انہوں نے نہ صرف پرانے منصوبوں کی فائلیں دوبارہ کھلوائیں بلکہ اپنی انتھک محنت سے اربوں روپے کے نئے اور بڑے میگا پراجیکٹس کی منظوری لینے میں کامیاب ہوئے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں، جس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی شریک تھیں،کوٹلی ستیاں کے لیے ایسے منصوبے منظور کیے گئے جو اس سے قبل محض ایک تصور لگتے تھے جن میں گلاس برج (شیشے کا پل): جو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے گا اور سیاحوں کو بلندی سے وادی کے مسحور کن نظارے فراہم کرے گا اسکی اصولی منظوری دے دی گئی اس کے علاو¿ہ چیئر لفٹ اور پیرا گلائیڈنگ یہ منصوبے کوٹلی ستیاں کو صرف ایک پکنک پوائنٹ کے بجائے ایک “ایڈونچر ٹورازم حب” کے طور پر متعارف کروائیں گے حکومت نے ان منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کر دی ہے،
جس سے سڑکوں کا جال بچھا کر دور دراز کے سیاحتی پوائنٹس کو مین روڈ سے جوڑا جائے گا۔کوٹلی ستیاں ایک طویل عرصے تک مری کے سائے میں چھپا رہا اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث یہاں کے خوبصورت مقامات جیسے “چیوڑہ” پھوفنڈی اور “پنج پیر” سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ بلال یامین ستی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اس بات پر قائل کیا کہ مری پر سیاحوں کا دباو¿ کم کرنے کے لیے کوٹلی ستیاں کو ایک متبادل اور جدید سیاحتی مرکز بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ان منصوبوں کی منظوری سے اب کوٹلی ستیاں کی مقامی معیشت میں ایک بڑا ارتعاش پیدا ہوگا، جس سے یہاں کے پڑھے لکھے
نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار ملے گا اور انہیں شہروں کی طرف ہجرت نہیں کرنی پڑے گی۔ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بھی انقلاب آئے گا۔ سڑکوں کی بہتری سے کسانوں کو اپنی منڈیوں تک رسائی ملے گی، ہوٹل انڈسٹری کی آمد سے چھوٹے کاروبار چمک اٹھیں گے اور علاقے کی زمینوں کی قدر و قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ یہ محض چند منصوبے نہیں بلکہ کوٹلی ستیاں کے عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
بلال یامین ستی کی یہ کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ثابت ہوں گی۔ترقی کا یہ سفر جو گزشتہ ادوار میں شروع ہوا، اب مریم نواز کی سرپرستی اور بلال یامین ستی کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہے۔ کوٹلی ستیاں کے عوام ان تمام مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جنہوں نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اس حسین وادی کو دنیا کے نقشے پر نمایاں کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہ دن دور نہیں جب کوٹلی ستیاں پاکستان کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بن کر ابھرے گا اور یہاں کی وادیاں خوشحالی کا گہوارہ بن جائیں گی۔