
حالیہ دنوں میں توانائی کے بحران اور ایندھن کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کی بندش اور ہفتے میں محض چار روزہ تدریسی عمل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا معیشت کا پہیہ گھمانے کے لیے صرف تعلیم کی قربانی ہی واحد راستہ بچا ہے؟ یاد رکھیے! کسی بھی قوم کی ترقی کا پہیہ پیٹرول سے نہیں، بلکہ اس کے کلاس رومز میں جلنے والے چراغوں سے گھومتا ہے۔ کہتے ہیں کہ چراغ جلانے کے لیے تیل کی ضرورت ہوتی ہے، مگر آج ہم اس عجیب دور میں جی رہے ہیں جہاں تیل بچانے کے لیے علم کے چراغ بجھائے جا رہے ہیں۔ کیا کسی قوم کی معیشت کا پہیہ اس کے قلم کی سیاہی خشک کر کے گھمایا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج ہر اس طالب علم اور استاد کے ذہن میں گھوم رہا ہے جو ہفتے میں تین دن کی جبری چھٹی کے باعث اپنے مستقبل کو دھندلاتا دیکھ رہا ہے۔ شہروں میں تو شاید ‘آن لائن کلاسز’ کا ڈھونگ رچا کر خانہ پُری کر لی جائے، لیکن ہمارے دیہی علاقوں کے ان بچوں کا کیا ہوگا جن کے پاس نہ تو تیز رفتار انٹرنیٹ ہے اور نہ ہی مہنگے اسمارٹ فونز؟ ان کے لیے سکول کی بندش کا مطلب ‘تعلیمی تعطل’ کے سوا کچھ نہیں۔ تعلیم کوئی ایسی چیز نہیں جسے ‘آن اور آف’ کے بٹن سے چلایا جا سکے۔
اس میں تعطل (Break) کا مطلب ہے کہ طالب علم کی ذہنی یکسوئی اور سیکھنے کے عمل کا شیرازہ بکھر جانا۔ تعلیم صرف کتاب ختم کرنے کا نام نہیں، یہ نظم و ضبط کا نام ہے۔ ہفتے میں تین دن کی چھٹی طالب علم کے اندر سے وہ ‘تعلیمی ڈسپلن’ ختم کر دیتی ہے جو اسے ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔
بطور معلمہ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ مختصر وقت میں طویل نصاب کی تکمیل کسی معجزے سے کم نہیں افراتفری میں پڑھایا گیا سبق ذہنوں کو منور نہیں، صرف بوجھل کرتا ہے۔ ایندھن بچانا وقت کی ضرورت سہی، مگر کیا ہر بار قربانی کا بکرا صرف تعلیم کا شعبہ ہی بنے گا؟ یاد رکھیے! جس قوم کے سکولوں پر تالے ہوں، اس کے روشن مستقبل کے دروازے کبھی نہیں کھل سکتے۔ اگر ایندھن بچانا واقعی مقصود ہے، تو اس کا نشانہ صرف معصوم طالب علم ہی کیوں؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ بچت کے متبادل ذرائع تلاش کرے۔ کیا ہم شاہانہ سرکاری پروٹوکولز، افسر شاہی کی مفت پیٹرول خوری اور بڑے دفاتر کے بجلی کے بے جا استعمال میں کٹوتی نہیں کر سکتے؟ کیا تعلیم جیسے بنیادی حق کو معاشی تجربہ گاہ بنانا ضروری ہے؟ کبھی سوچا! معصوم بچوں سے تعلیم جیسا بنیادی حق چھیننا ان کے خوابوں کا قتل عام ہے۔
جب ریاستیں تیل کی بچت کو علم کی شمع سے زیادہ مقدم سمجھنے لگیں، تو سمجھ لیں کہ ترجیحات کا قبلہ درست کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر ہم نے آج ایندھن بچانے کے لیے قلم اور کتاب کی رفتار کو روکا، تو کل ہمیں وہ ہنرمند افراد میسر نہیں ہوں گے جو اس معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں۔ حکمرانوں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ معیشت کی عمارت تعلیم کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی کمزور کر دی جائے تو عمارت کتنی ہی عالیشان کیوں نہ ہو، اسے گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں، قومیں ایٹم بم گرنے سے نہیں، تعلیمی نظام گرنے سے تباہ ہوتی ہیں۔ آئیے! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور قلم کی روشنی کو اندھیروں کی نذر ہونے سے بچائیں۔ خدارا! تعلیم کو قربانی کا بکرا بنانا بند کیجیے۔ قلم کی نوک کو نہ توڑیے، ورنہ کل کو لکھنے کے لیے صرف افسوس ہی باقی رہ جائے گا۔ کیا ہم آنے والی نسل کو صرف ایک کاغذ کی ڈگری دینا چاہتے ہیں یا واقعی علم؟ کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں صرف منزل تک پہنچاتی ہیں، لیکن علم سے روشن ہونے والے ذہن منزلیں خود تخلیق کرتے ہیں۔
کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو اس میں یہ سیاہ باب بھی ہوگا کہ ایک قوم نے ‘تیل’ بچانے کے لیے اپنی ‘نسل’ جلا دی تھی۔ کاش! جتنا درد ریاست کو اڑتے ہوئے پیٹرول کا ہے، اتنا ہی درد ڈوبتے ہوئے تعلیمی معیار کا بھی ہوتا۔ اے اربابِ اختیار! یاد رکھو کہ پیٹرول ختم ہو تو گاڑیاں رکتی ہیں، مگر تعلیم ختم ہو تو قومیں مٹ جاتی ہیں اور میرے نزدیک نسلِ نو کی تعلیم کی قربانی محض اس لیے دی جا رہی ہے تا کہ قوم ان پڑھ رہے اور حکومت سے سوال نہ کرے۔
یہ تحریر کسی سیاسی تنقید کے لیے نہیں، بلکہ ان ہزاروں بچوں کی فریاد ہے جو سکول کی گھنٹی بجنے کے منتظر ہیں۔