پاکستان آج ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف دنیا ہماری دفاعی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے، ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی مثال دی جاتی ہے، ہمارا ایٹمی پروگرام دشمن کے عزائم کے سامنے ایک مضبوط دیوار بنا ہوا ہے، مگر دوسری طرف ہماری معیشت مسلسل بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو قوم عالمی دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایٹم بم بنا سکتی ہے، کیا وہ اپنی معیشت کو مضبوط نہیں بنا سکتی؟
بدقسمتی سے پاکستان میں ہر معاشی ناکامی کا ایک آسان بہانہ تلاش کر لیا جاتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا، کبھی امریکہ کا دباؤ آڑے آ جاتا ہے، کبھی پابندیوں کا خوف دکھایا جاتا ہے، اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ایران سے سستا تیل نہیں خریدا جا سکتا۔ مگر یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا کہ جب پاکستان ایٹمی پروگرام بنا رہا تھا تب کیا دنیا نے پھول برسائے تھے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور کھلی دھمکیوں کے باوجود مکمل ہوا۔ بڑی طاقتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پاکستان ایٹمی قوت بنے، مگر اس وقت قومی قیادت، سائنسدانوں اور قوم نے ہمت دکھائی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں نے محدود وسائل کے باوجود وہ کارنامہ انجام دیا جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت بنا دیا۔ اگر اُس وقت صرف آئی ایم ایف، پابندیوں اور عالمی دباؤ کا خوف ہوتا تو شاید آج پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا۔
یہی جذبہ آج معیشت کے میدان میں درکار ہے۔ بدقسمتی سے ہماری معاشی پالیسیوں میں خودمختاری کم اور خوف زیادہ نظر آتا ہے۔ ہر فیصلہ بیرونی دباؤ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، جبکہ قومی مفاد اکثر پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، عوام مہنگائی سے پس رہے ہیں اور حکمران ہر بحران کا ذمہ دار عالمی حالات کو ٹھہرا کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ اصل مسئلہ کمزور ترجیحات اور فیصلہ سازی کی کمی ہے۔ یہ ملک زرعی وسائل بھی رکھتا ہے، معدنیات بھی، نوجوان آبادی بھی، جغرافیائی اہمیت بھی، اور دنیا کی بہترین فوجی صلاحیتوں میں شمار ہونے والی افواج بھی۔ مگر اس کے باوجود معیشت مسلسل کمزور کیوں ہے؟اس کی ایک بڑی وجہ کرپشن، ناقص حکمرانی اور وقتی پالیسیوں کا کلچر ہے۔ یہاں طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے عارضی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں تو پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں۔ صنعت، زراعت اور توانائی جیسے بنیادی شعبے مستقل توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
توانائی بحران اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان آج بھی مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہے، حالانکہ ایران جیسا ہمسایہ ملک سستی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اپنے مفادات کے لیے پابندیوں کے باوجود راستے نکال لیتے ہیں، مگر پاکستان میں فوراً“آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا”کا جملہ سامنے آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پچیسکروڑ عوام کے مفاد سے زیادہ اہم بیرونی اداروں کی خوشنودی ہے؟اگر پاکستان چین کے ساتھ سی پیک جیسے بڑے منصوبے کر سکتا ہے، اگر وہ ایٹمی پروگرام مکمل کر سکتا ہے، اگر وہ دفاعی میدان میں خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے، تو پھر معیشت میں جرات مندانہ فیصلے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟
اصل ضرورت قومی اعتماد بحال کرنے کی ہے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ پاکستان کچھ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بہت کچھ کر سکتا ہے، بشرطیکہ قیادت میں وژن، ہمت اور اخلاص ہو۔ دفاعی میدان میں ہم نے دنیا کو حیران کیا، اب یہی عزم معاشی میدان میں دکھانے کی ضرورت ہے۔ایران سے سستا تیل خریدنا، بارٹر ٹریڈ کو فروغ دینا، مقامی صنعت کو مضبوط کرنا، ڈالر پر انحصار کم کرنا، زراعت اور معدنیات سے فائدہ اٹھانا، اور غیر ضروری درآمدات کم کرنا—یہ سب ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے وہی جرات چاہیے جو ایٹمی پروگرام کے وقت دکھائی گئی تھی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط دفاع بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ فوجیں صرف جذبے سے نہیں بلکہ مستحکم معیشت سے بھی طاقتور بنتی ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک طاقتور ریاست بننا ہے تو اسے معاشی خودمختاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔
آج قوم کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو بہانے نہ بنائیں بلکہ راستے نکالیں۔ جو ہر مسئلے کا ذمہ دار بیرونی طاقتوں کو ٹھہرانے کے بجائے داخلی اصلاحات کریں۔ کیونکہ دنیا ہمیشہ اسی قوم کا احترام کرتی ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔پاکستان نے دفاع کے میدان میں ثابت کیا کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا ملک نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہی پیغام معاشی میدان میں بھی دیا جائے۔ کیونکہ جو قوم ایٹم بم بنا سکتی ہے، وہ مضبوط معیشت بھی بنا سکتی ہے—اگر اس کے حکمران چاہیں۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ