(پنڈی پوسٹ نیوز)پاکستان حالیہ برسوں کے خطرناک ترین گرمی کے موسم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکام نے شدید ہیٹ ویوز کی پہلے سے وارننگ جاری کر دی ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث اچانک سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے جو چند منٹوں میں پورے گاؤں تباہ کر سکتا ہے۔پاکستان کے لیے موسمیاتی آفات اب موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہیں۔اس بحران کے درمیان ایک چینی موسمیاتی پلیٹ فارم “ماژو” توجہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ نظام سیٹلائٹ مانیٹرنگ، ریڈار نیٹ ورکس اور جدید فورکاسٹنگ ماڈلز سے لیس ہے اور خاص طور پر پاکستان کے موسمیاتی خطرات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔یہ پلیٹ فارم چین کے فینگیون موسمیاتی سیٹلائٹس کا ڈیٹا پاکستان کے مقامی نظاموں کے ساتھ ملا کر طوفانوں کی نگرانی، گلیشیئرز کی صورتحال اور سیلاب زدہ علاقوں کی پیشگی اطلاع دینے کے قابل بناتا ہے۔2025 کے سیلابی موسم میں پاکستان محکمہ موسمیات نے اس نظام کے ذریعے 15 سے 16 الرٹ جاری کیے۔ جن وادیوں میں یہ نظام نصب تھا وہاں حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یہی نظام اب خشک سالی کی نگرانی، فصلوں کی پیش گوئی اور غذائی تحفظ کی منصوبہ بندی میں بھی استعمال ہو رہا ہے، جس سے کسانوں کو بوائی سے لے کر فصل کٹائی تک فیصلے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا متنوع جغرافیہ گلیشیئرز، پہاڑ، صحرا اور ساحل آفات کی پیش گوئی کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوا ہے۔دونوں ممالک اس تعاون کو محض ٹیکنالوجی شراکت سے آگے لے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں چین اور پاکستان مل کر گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک مشترکہ موسمیاتی تحفظ کا نظام تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔