
ندیم اختر غزالی کا تعلق میرے باوقار ادارے پاکستان ملٹری اکاونٹس سے ہے۔یہ وہ ادارہ ہے ،جہاں تخلیق کاروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ان بے شمار ستاروں کے جھرمٹ میں ایک جگمگاتا نام جناب ندیم اختر غزالی کا بھی ہے۔غزالی صاحب بیک وقت کالم نگار ،ادیب اور بچوں کے ادب کی نمایاں شخصیت ہیں۔انھوں نے کم عمری میں ہی اپنا تخلیقی سفر کیا اور بحثیت نثر نگار اپنی شناخت قائم کی۔ان کے لکھے ہوئے مضامین ،کالم اور بچوں کی کہانیاں ملک کے مایہ ناز اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی رہیں
اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ان کی سائنس فکشن پر لکھی گئی کہانیوں کی کتاب …سونورا…زیراشاعت ہے۔یہ کہانیاں اپنی کتابی صورت میں اشاعت سے پہلے ہی آئی ایس پی آر کے رسالے…ہلال برائے اطفال …میں شائع ہو کر شہرت اور پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔سونورا ایک آٹھویں جماعت کے طالب علم سونو کے گرد گھومتی سائنس فکشن کہانیوں کی ایک عمدہ ،منفرد اور دلچسپ کتاب ہے۔ہمارے ملک میں سائنس فکشن لکھنے والوں کی کمی ہے،
جسے غزالی صاحب نے اپنی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے پورا کر دیا ہے۔کہانی کا مرکزی کردار سونو تخیلاتی طور پر ستاروں اور سیاروں کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے ،جہاں اس کی ملاقات خلائی لڑکے اور لڑکی سے ہوتی ہے۔یہ انتہائی دلچسپ پیرائے میں لکھی گئی کہانیاں ہیں۔ندیم اختر غزالی کا نیا کارنامہ بچوں کے لئے اقبال کہانیاں تحریر کرنا ہے۔انھوں نے اقبال کے فارسی کلام …جاوید نامہ…کی روشنی میں ایک بچے عشارب کا کردار منتخب کر کے بچوں کے لئے معلوماتی،دلچسپ اور خوب صورت کہانیاں تخلیق کی ہیں۔انھوں نے اس کتاب کا نام…جاوید نامہ کے کینوس پر…رکھا ہے،
جو نہایت معنی خیز ہے۔جاوید نامہ کیا ہے۔اس بارے میں سب لوگ نہیں جانتے۔جاوید نامہ دراصل شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی فارسی زبان و ادب پر مشتمل مثنوی ہے،جو ان کے تخیلاتی روحانی سفر کی فکری داستان ہے۔جہاں وہ اپنے روحانی مرشد مولانا روم کی معیت میں سیاروں کے سفر پر جاتے ہیں اور ان کی ملاقات تاریخ ساز عظیم شخصیات سے ہوتی ہے۔بقول عبد الشکور احسن۔”اس کتاب میں حقیقت اور تخیل کو جس طرح ہم آہنگ کیا گیا ہے اور اس میں افکار کے حمق،تخیل کی توانائی و فسوں کاری اور قوت بیانیہ کے سحر و اعجاز کے ساتھ جرآت اظہار کا موازنہ ملتا ہے۔
اس نے علامہ کے اس شاہکار کو یکتائے روزگار ادبی اور فکری تخلیق بنا دیا ہے۔علامہ کی آرزو تھی کہ اس کتاب کو بہ طریق احسن ترجمہ کیا جائے اور اس کے مطالب کو مصور بھی کیا جائے۔انھیں یقین تھا کہ یہ کوشش مترجم اور مصور کی شہرت کا باعث ہو گی۔“اس رائے کی روشنی میں اگر ہم ندیم اختر غزالی کی کتاب،جاوید نامہ کے کینوس پر …کا جائزہ لیں تو مجھے یقین ہے کہ اقبال اور ان کی شاعری سے محبت کی روشنی میں لکھی گئیں یہ خوبصورت ،دلچسپ اور منفرد کہانیاں غزالی صاحب کی عزت و شہرت میں بھی مزید اضافے کا باعث بنیں گی،
کیوں کہ انھوں نے جاوید نامہ کی ایک نئی پرت کھولی ہے اور یقینی طور پر ان کا یہ قابل قدر کام ہے۔جب کہانیوں کے مرکزی کردار عشارب کے تخیلات میں حضرت اقبال جلوہ گر ہوتے ہیں تو اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں،لیکن پھر ایک پرنور اور شفقت بھرا چہرہ اس کی انگلی تھام کر اسے خلاوں کے سفر پر لے جاتا ہے۔وہ حضرت اقبال کے ہمراہ گوتم بدھ،رومی،زرتشت سے ملاقات کرتا ہے اور تعلیمات مسیح اور نور محمدی سے ہدایت کا سفر بھی حاصل کرتا ہے ۔یہ کہانیاں اقبال کی فکر سے مستعار لے کر جاوید نامہ کے ضمن میں ایک نئی دنیا سے روشناس کراتی ہیں اور بچوں کے جدید ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں۔ان کہانیوں کی آفاقی نوعیت ہونے کی وجہ سے مجھے مصنف پر عزت و شہرت کے نئے در کھلنے کا پورا یقین ہے۔شاید اسی لئے اقبال نے ایک جگہ جاوید نامہ کے حوالے سے کہا تھا:” ایک مقام پر میں نے چار الواح لکھے ہیں۔
لوح بدھ ،لوح مسیح،لوح زرتشت اور لوح محمد ہے،بیچ میں ٹالسٹائی کا خواب ہے،لوح زرتشت میں اسلامی تصوف کے مشہور مسئلے فضیلت نبوت ولادت یا ولائت پر نبوت کے متعلق بحث ہے۔لوح محمد کا مضمون یہ ہے کہ کعبہ میں بت ٹوٹے پڑے ہیں اور ابو جہل کی روح گریہ زاری کر رہی ہے اور رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے کہ انھوں نے ہمارے دین کوبرباد کر دیا۔“اب اسے حسن اتفاق کہیے یا ندیم اختر غزالی صاحب کی خوش قسمتی یا اقبال سے روحانی عقیدت کہ انھوں نے بھی اپنی کہانیوں کے کردار عشارب کو ان پانچ شخصیات سے ملوایا جو اقبال کے بھی دل کے بہت قریب ہیں۔۔۔ویل ڈن غزالی صاحب