انوکھی منطق: میٹر صارف کا، رینٹ سرکار کا

​پنجاب میں مریم نواز شریف کی حکومت کو قائم ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے جس کے دوران سرکاری اشتہارات اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر “خوشحال پنجاب” کے نعرے تو خوب گونجے مگر اس چمک دمک کے پیچھے چھپے اس غریب کی آواز کسی نے نہیں سنی جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نئے جرمانوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے حالانکہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر اعداد و شمار کا کھیل کھیلنا آسان ہے ۔

مگر گلی محلوں کی معیشت کا سچ اس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ حکومت کا یہ دعویٰ سراسر حقیقت کے برعکس ہے کہ انہوں نے کوئی “نیا ٹیکس” نہیں لگایا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جرمانوں میں 1000 فیصد تک کا ہوش ربا اضافہ کسی بھی ظالمانہ ٹیکس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے اور جب ایک دیہاڑی دار مزدور جو بمشکل ہزار بارہ سو روپے کما کر گھر لوٹتا ہے کبھی اسے راستے میں ہیلمٹ جرمانہ جو اب 2000 روپے تک جا پہنچا ہے یا کسی چھوٹی سی خلاف ورزی پر بھاری چالان تھما دیا جاتا ہے تو اس کے گھر کا چولہا بجھ جاتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کا کام شہریوں کی اصلاح کرنا ہے ۔

یا محض جرمانوں کے ذریعے اپنا خزانہ بھرنا؟ اس معاشی بوجھ میں رہی سہی کسر بجلی کے بلوں نے پوری کر دی ہے جہاں پہلے ہی بے شمار ٹیکسز کی بھرمار تھی وہاں اب حکومت نے میٹر کے “فکسڈ رینٹ” کی صورت میں عام گھریلو صارفین پر 400 روپے اور بڑے صارفین پر 1000 روپے تک کا نیا ماہانہ بوجھ لاد دیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے کیونکہ یہاں ایک بنیادی قانونی اور اخلاقی سوال جنم لیتا ہے کہ حکومت کسی ایسی چیز کا “رینٹ” کس بنیاد پر وصول کر سکتی ہے جس کی پوری قیمت صارف پہلے ہی ادا کر چکا ہو؟ ضابطہ تو یہ کہتا ہے کہ میٹر کا رینٹ صرف اسی صورت میں لیا جا سکتا ہے۔

جب واپڈا بجلی میٹر صارف کو بغیر کسی قیمت کے فراہم کرے تو اس کا رینٹ وصول کرنے مجاز ہے لیکن یہاں تو ستم ظریفی یہ ہے کہ صارف کنکشن لگواتے وقت میٹر کی بھاری قیمت اپنی جیب سے ادا کرتا ہے اور اس کی مکمل ملکیت حاصل کرتا ہے مگر اس کے باوجود اب ہر ماہ اسے “رینٹ” کے نام پر بھاری رقم دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو صریحاً ایک ملکیتی شے پر دوبارہ ٹیکس لگانے کے مترادف ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے ۔

کہ موجودہ حکومت کے پاس نظامِ مملکت چلانے کے لیے ہیلمٹ جرمانہ، موٹر سائیکل کے چالان اور بجلی کے بلوں میں جبری وصولیوں کے علاوہ آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ یا چارہ ہی نہیں بچا اور حکومت غریبوں کو زندہ درگور کرنے پر تلی ہوئی ہے حالانکہ اصولی طور پر حکومتیں معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹیکس لگاتی ہیں لیکن مریم نواز صاحبہ کے دور میں تو انتہا کر دی گئی ہے اور غریبوں کا کچومر نکال کر رکھ دیا گیا ہے، پنجاب فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے پراپرٹی ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی میں سینکڑوں گنا اضافہ اور سروسز پر سیلز ٹیکس کے نئے نفاذ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔

کہ حکومت ان امیر لوگوں اور بااثر بیوروکریسی پر ٹیکس لگاتی جن کی آمدنی لاکھوں میں ہے مگر بیوروکریسی کی شاہانہ مراعات، مفت پیٹرول اور بھاری الاؤنسز میں کمی کرنے کے بجائے تمام تر حکومتی پالیسیوں کا محور صرف غریب کی جیب بن کر رہ گئی ہے لہٰذا اب عوام یہ تلخ سوالات پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا ایئر ایمبولینس جیسے مہنگے منصوبے اس غریب کے لیے زیادہ اہم ہیں۔

جسے دو وقت کی روٹی میسر نہیں؟ مریم نواز صاحبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی بڑی سڑکوں اور اشتہارات سے نہیں بلکہ عوام کی قوتِ خرید سے ناپی جاتی ہے اور جب تک پالیسیاں اشرافیہ کے بجائے غریب دوست نہیں ہونگی تب تک “خوشحال پنجاب” کا نعرہ محض ایک خواب ہی رہے گا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اشرافیہ کی مراعات کم کی جائیں اور غریب کو جرمانوں کی سیاست سے نجات دلا کر حقیقی معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔ اللہ پاک ہمارے حکمرانوں کو غریب پرور بننے اور رعایا کے دکھوں کا مداوا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے ملک و قوم کو معاشی استحکام نصیب کرے اور عام آدمی کی زندگیوں میں حقیقی آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین