
کچھ لوگوں کے عادات و اطوار دیگر لوگوں سے منفرد ہوتے ہیں ،ان کے دکھ سکھ دوسروں سے الگ ہوتے ہیں ، ان کے معمولات زندگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے ، کوئی ان کے بارے میں کیا سوچتا ہے انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی ، یہ اپنی دھن میں مگن اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتے رہتے ہیں. میں نے اپنی زندگی میں بے شمار ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں سے منفرد اپنا جیون بتا رہے تھے ان میں سے چند ایک کا ذکر آپ سے کر رہا ہوں.
کراچی ریگل چوک سے ایک گلی الیکشن کمیشن آف پاکستان سندھ کے دفتر کی جانب جاتی ہے جب کہ الیکشن کمیشن کے دفتر سے ملحق گلی میں ایک چائے کا ڈھابہ ہے، میں ایک بار وہاں سے گزر رہا تھا کہ میری نظر اس ڈھابے پر پڑی تو میں وہاں چائے پینے کے لئے رک گیا. میں نے وہاں ایک بزرگ کو دیکھا جنہوں نے بے شمار بلیاں پال رکھیں تھیں ، وہ کسی ایک بلی کو اس کے مخصوص نام سے بلاتے تو فوراً ان کے پاس آ جاتی وہ بزرگ اس بلی کو کھانے کو کچھ دیتے اور وہ بلی کھانے کی چیز لے کر ایک طرف جا کر بیٹھ جاتی اور اس خوراک کو کھانے لگتی ، اسی طرح وہ بزرگ دوسری بلیوں کو بھی ان کے مخصوص نام سے بلاتے جاتے اور خوراک دیتے جاتے ، مجھے انہیں دیکھ کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ یاد آ گئے جن کا نام ابو ہریرہ یعنی بلیوں کا باپ مشہور ہو گیا تھا ، انہوں نے بھی بلیاں پال رکھی تھیں.
میں جب کبھی الیکشن کمیشن کے دفتر کے پاس سے گزرتا تو چائے نوشی کے بہانے ان بلیاں پالنے والے بزرگ کو دیکھنے اس ڈھابے پر ضرور رکتا ، میں نے ان بزرگ سے چند سوالات بھی کئے تھے جو میری یادداشت سے محو ہو چکے ہیں .
کراچی ریگل چوک سے جی پی او کے درمیان ہر اتوار کو پرانی کتابوں کا بازار زمین پر لگتا تھا میں کبھی کبھار وہاں جا کر اپنی پسند کی کتابیں خرید لیا کرتا تھا ، مجھے اس بات پر بڑا افسوس ہوتا تھا کہ کتابیں بکنے کے لیے زمین پر رکھی جاتی ہیں جب کہ پاؤں میں پہننے والے جوتوں کو شیشے کے شوکیس میں سجا کر رکھا جاتا ہے ، میں نے وہاں ہرے لباس میں ملبوس ایک سفید ریش بزرگ کو دیکھا جو سائیکل پر منجن فروخت کر رہے تھے
مگر مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ وہ منجن کی خوبیاں بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ سائیکل کو پاکستان کی جھنڈیوں سے سجائے بلند آواز سے ٹیپ ریکارڈر پر پاکستان کے ملی نغمے لگا کر خوشی سے سرشار چلے جا رہے تھے ، مجھے ان بزرگ کا پاکستان سے محبت کا جذبہ دیکھ کر بڑی خوشی محسوس ہوئی ، میں نے ان بزرگ کو اس کے بعد بھی بے شمار دفعہ اسی سرشاری کی کیفیت میں منجن بیچنے کے لیے چلتے ہوئے دیکھا مگر میرے سامنے کبھی بھی کسی نے ان سے منجن نہ خریدا .
کراچی میں ریمبو سینٹر کے پاس صدر دواخانہ تھا اس دواخانے میں مریضوں کا طبی معائنہ کرنے والے حکیم صاحب سے میں نے کبھی دوا تو نہیں لی مگر ان کا طویل نام میرے لیے کشش کا باعث بنا رہا ، مجھے کراچی یاترا کو بیس سال ہو چکے ہیں مگر ان حکیم صاحب کا نام اب بھی مجھے یاد ہے ، ان کا پورا نام تھا ، حکیم مولوی مرزا محمد ماہر بیگ ماہر .
اسی طرح کراچی صدر میں حلیم جو اصل میں دلیم ہے کی دکان کا نام بھی عجیب تھا یعنی ، حاجی گھسیٹا خان کی حلیم.
میرے شہر چک بیلی خان میں بھی چند اچھوتے انداز میں زندگی بسر کرنے والے لوگ موجود ہیں جب کہ کچھ اس جہان فانی سے کوچ فرما چکے ہیں ان میں پڑیال سے تعلق رکھنے والے سخی نام کے شخص میں چند منفرد باتیں تھیں ، وہ سخت سردی کے موسم میں بھی صبح سویرے قریبی ندی میں ضرور نہاتے تھے پھر بھی ان کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑتا تھا ، ان سے بارش کے بارے میں معلوم کریں تو بالکل درست بات بتا سکتے تھے حالانکہ ان کے پاس نہ ریڈیو سیٹ تھا اور نہ ٹی وی سیٹ اور نہ وہ اخبار پڑھ سکتے تھے ، اس کے علاوہ ان سے جب بھی وقت معلوم کیا جاتا تھا تو وہ بغیر گھڑی دیکھے بالکل درست وقت بتا سکتے تھے ، یہ صلاحیت اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو خاص عطاء فرمائی تھی .
چک بیلی خان میں ایک سائیں رہائش پذیر ہیں انہیں بالکل بچپن میں کوئی شخص چک بیلی خان میں لب سڑک چھوڑ کر چلا گیا اس کے بارے میں درست اندازہ لگانا مشکل ہے کہ انہیں کون چھوڑ کر چلا گیا ، سائیں جی چک بیلی خان میں مختلف جگہوں پر رہتے رہتے جوان ہوئے اور اب بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں ، انہیں کس نے کیا اور کتنا دیا ، یہ معلوم کرنا آسان نہیں ہے البتہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی نصرت شامل رہی کہ سائیں جی نے کبھی کسی کے آ گے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے خود آپ کی خوراک ، رہائش اور لباس کا بندوست کر دیا ، سائیں جی کی منفرد بات یہ ہے کہ علاقے بھر میں اگر کسی بھی دیہات میں کوئی شخص اس دار فانی سے کوچ کر جائے تو سائیں جی کو پتا چل جاتا ہے اور وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں .
ہمارے شہر چک بیلی خان میں وحید رزاق عرف شمع نے عمر کا زیادہ تر حصہ گلہ بانی میں بسر کیا ، آپ صبح سویرے اپنے مویشیوں کے ساتھ قریبی چراگاہ میں جاتے ہیں اور اندھیرا چھا نے کے بعد لوٹتے ہیں ، سردی ، گرمی ، برسات ، بہار ، خزاں میں آپ کے معمولات میں فرق نہیں پڑتا ، نہ پنکھے کی ہوا کی طلب ، نہ یو پی ایس ، نہ ٹھنڈا پانی ، آندھی ہو ، طوفان ہو، ژالہ باری ہو، وحید رزاق نے اپنے معمولات زندگی میں فرق نہیں آنے دیا .اور بھی بےشمار لوگ موجود ہیں جو دوسروں سے الگ تھلگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں ، آپ نے بھی دیکھے ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی طرح زندگی بسر کرنے کی خواہش ہوتی ہے
جن سے مل کے زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے دیکھے نہ ہوں گے ، ہاں مگر ایسے بھی ہیں