گھڑا، حکومت اور عوام

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کی پیاس بجھانے کے لیے نہر کنارے ایک گھڑا رکھنے کا حکم دیا۔ نیت صاف تھی، مقصد واضح تھا، اور کام نہایت سادہ۔مگر یہ سادہ حکم جب “نظام” کے حوالے ہوا تو وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔
پہلے ایک سنتری آیا، پھر ماشکی، پھر باربردار، پھر افسر، پھر افسر کا افسر، اور پھر افسر کے افسر کا بھی افسر۔ یوں ایک گھڑے نے پورا سرکاری ڈھانچہ جنم دے دیا۔ فائلیں چلنے لگیں، اجلاس ہونے لگے، اور کام… وہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔


ایک سال بعد جب بادشاہ لوٹا تو اس نے دیکھا کہ ایک شاندار عمارت کھڑی ہے:
“وزارتِ انتظامی امور برائے سرکاری گھڑا”
اندر ٹھنڈے کمروں میں افسران بیٹھے تھے، چائے کے دور چل رہے تھے، میٹنگز پر میٹنگز ہو رہی تھیں، اور رپورٹس پر رپورٹس لکھی جا رہی تھیں۔ ہر چیز مکمل تھی—سوائے اس گھڑے کے، جس کے لیے یہ سارا تماشہ رچایا گیا تھا۔
گھڑا باہر پڑا تھا—ٹوٹا ہوا، خالی، اور اس میں ایک مردہ پرندہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔
اور سب سے دلچسپ بات؟


گھڑے کے سامنے ایک بورڈ لگا تھا:”گھڑے کی مرمت کے لیے عوام سے عطیات درکار ہیں”یہ کہانی نہیں، حقیقت ہےاگر آپ کو یہ محض ایک قصہ لگ رہا ہے تو ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔یہی حال ہمارے کئی ترقیاتی منصوبوں کا ہے—جہاں افتتاح بڑے جوش و خروش سے ہوتا ہے، مگر تکمیل خاموشی سے مر جاتی ہے۔یہی حال ان اسکیموں کا ہے جن کے اشتہارات تو ٹی وی پر چلتے ہیں، مگر عوام کو ان کا فائدہ کہیں نظر نہیں آتا۔
یہاں ہر مسئلے کے حل کے لیے “کمیٹی” بنتی ہے، پھر اس کمیٹی پر ایک اور کمیٹی، اور آخر میں ایک رپورٹ… جو کسی فائل میں دفن ہو جاتی ہے۔

اصل مسئلہ کہاں ہے؟مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، نیت اور ترجیحات کی خرابی ہے۔یہاں ایک گھڑا رکھنے کے لیے وزارت بن جاتی ہے، مگر ایک ہسپتال میں دوا نہیں ملتی۔یہاں فائلوں پر دستخط کرنے والوں کی فوج ہے، مگر کام کرنے والا کوئی نہیں۔یہاں عہدے بڑھتے ہیں، تنخواہیں بڑھتی ہیں، مراعات بڑھتی ہیں—مگر عوام کی سہولت نہیں بڑھتی۔عوام کا کرداراور سچ یہ بھی ہے کہ اس کہانی میں قصور صرف “بادشاہ” یا “افسر” کا نہیں۔جب عوام سوال کرنا چھوڑ دے، جب احتساب صرف نعروں تک محدود ہو جائے، اور جب ووٹ کارکردگی کے بجائے جذبات پر دیا جائے—تو پھر گھڑے ٹوٹتے ہیں اور وزارتیں بنتی ہیں۔


اختتامیہ
یہ گھڑا آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے—کبھی کسی منصوبے کی شکل میں، کبھی کسی ادارے کی صورت میں، اور کبھی کسی وعدے کے روپ میں۔فرق صرف اتنا ہے کہ نام بدل گئے ہیں، مگر نظام وہی ہے۔
اور جب تک یہ نظام نہیں بدلے گا،
تب تک ہر گھڑا ٹوٹے گا…
اور ہر بار ہم سے ہی اس کی مرمت کے لیے چندہ مانگا جائے گا۔