آج کل سڑک،بازار،چوک،فوڈ اسٹریٹ، ٹریفک سگنل،بس اسٹاپ،ٹرین اورمختلف گاڑیوں وغیرہ میں،یونہی مساجد اورمزارات کے باہر جو افراد بھیک مانگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،وہ عموماً سوال کے حقدار نہیں،بلکہ پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں،مال جمع کرنا اور اسے بڑھانا ان کا مقصد ہوتا ہے،

حتیٰ کہ گھر کے چھوٹے بڑے سب افراد مانگتے ہیں،ایک دن میں ہزاروں روپے جمع کر لیتے ہیں اور ویسے بھی لاکھوں لاکھ کی مالیت کے مالک ہوتے ہیں،بلکہ مختلف رپورٹس کے مطابق اب تو بڑے شہروں میں گدا گری کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے،اس میں باقاعدہ ٹھیکیداری کا نظام بھی متعارف ہوچکا ہے،جس میں مخصوص بھکاریوں کو مختلف جگہوں پر مانگنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے اور دوسرے بھکاریوں کو اس حدود میں داخل ہونے سے منع کر دیا جاتا ہے۔
الغرض یہ افراد ضروریاتِ شرعیہ کو پورا کرنے کے لیے نہیں مانگتے،بلکہ محنت و مزدوری کرنے کی بہ نسبت مانگنے کو کمائی کا آسان ترین ذریعہ سمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ مسلسل مانگتے ہی رہتے ہیں۔ پھر جب مانگنا ان کا پیشہ ہے،تو اس کے لیے یہ ایسا طریقہ اپناتے ہیں،جس کی وجہ سے انہیں زیادہ سے زیادہ رقم ملے،مثلاً: بعض اللہ کا واسطہ دیتے ہیں،حالانکہ حدیثِ پاک میں ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے۔بعض چھوٹے بچوں سے منگواتے ہیں،جو پیسے لینے کے لیے پیچھے ہی پڑجاتے ہیں، حالانکہ جس طرح خود بلا ضرورتِ شرعی بھیک مانگناحرام ہے،بچوں سے منگوانا بھی حرام ہے۔
بعض جھوٹ بول کر بیماری،معذوری یا کوئی اور مجبوری،مثلاً:جیب کٹ جانا،پیسے چوری ہوجانا یا کرایہ ختم ہوجانا وغیرہ ظاہر کرتے ہیں،حالانکہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔بعض بددعائیں دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں،حالانکہ بلا اجازتِ شرعی کسی مسلمان کو اس طرح دھمکی دینا یا اس کے لیے بددعا کرنا،جائز نہیں۔آج کل ایسے بھی گداگر دیکھے گئے ہیں جو خود کو عالی نسب خاندان یعنی سید ظاہر کر کے بھیک مانگتے ہیں بعض بھولے بھالے افراد نے ایسے مانگنے والوں کے وظیفے مقرر کر دیے ہیں چونکہ سادات کرام سے لوگ محبت اورعقیدت رکھتے ہیں یاد رکھیے! سادات کو صدقہ و خیرات اور زکوۃ بھی نہیں دی جا سکتی تو بھیک کیسے دی جاسکتی ہے؟مانگنے والے تو جاہل ہیں لیکن بھیک دینے والوں کو بھی عقل وشعور سے کام لینا چاہیے۔حکومت وقت کا یہ قابل تحسین اقدام ہے جو پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔جو پیشہ ور گداگر خود کو خاندان سادات سے منسوب کر کے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلائیں ایسے افراد کو فورا قانون کے حوالے کیا جائے۔
پاکستان میں بھیک مانگنا ایک خطرناک حد تک پیشہ بن چکا ہے پاکستان میں ان کی تعداد 80 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔کراچی میں ایک منفرد تحریک شروع کی گئی ہے جس میں بھکاریوں کو نقد خیرات بند کر دی گئی ہے انہیں کھانا اور پانی دیا جاتا ہے باقی شہروں میں بھی یہ اقدام اٹھایا جانا چاہیے اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ بین الاقوامی /قومی صوبائی/ سطح پر بھیک مانگنے والوں کے گروہ ٹوٹ جائیں گے اور پھر بچوں کے اغوا کی وارداتیں بھی خود بخود رک جائیں گی، مختلف جرائم میں ملوث گروہ ختم ہو جائیں گے۔
ہمیں چاہیے کہ ایسے افراد کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کریں۔جو افراد بلا ضرورتِ شرعی سوال کرتے ہیں،ان کے بارے میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گے کہ ان کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا“اور فرمایا”جو اپنا مال بڑھانے کے لیے مانگتا ہے، وہ اپنے لیے جہنم کے انگارے اکٹھے کرتا ہے،اب اس کی مرضی کہ کم جمع کرے یا زیادہ“ ایسے افراد کا مانگنابلاشبہ حرام ہے اور ان کے پیشہ ور ہونے کا علم ہونے کے باوجود انہیں دینا ضرور گناہ پر تعاون ہونے کی وجہ سے حرام اور گناہ ہے،اگرچہ یہ اللہ کا واسطہ یا بد دعا دینے کی دھمکی دیتے رہیں۔ ان کے بجائے اپنے قرب و جوار میں بسنے والے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں میں سے اصل مستحق افراد کی مدد کی جائے،کہ انہیں دینا بہت بڑے ثواب کا باعث ہے۔
اور جہاں تک ان کی بددعا قبول ہونے کا معاملہ ہے،تو وہ ان شاء اللہ قبول نہیں ہوگی۔علماء نے احادیث کی روشنی میں واضح طور پر فرما دیا کہ اگر کسی نے دوسرے پر کوئی ظلم نہیں کیا،تو اس کے لیے کی جانے والی بددعا اللہ پاک قبول نہیں فرماتا،بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”جو لوگوں کی ہلاکت چاہتا ہے،وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔“
سید عرفان حیدر
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.