چیف محمد ظہور وراگ

چمنستان ادب کے تناظر میں
خطہ پوٹھوہار میں کچھ ایسے شعراء بھی زیرِ زمین محوِ استراحت ہیں جن کا تخیل پوٹھوہاری چمنستانِ سخن کی آبیاری و آبداری میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی شعراء میں ایک معروف نام جنابِ چیف محمد ظہور وراگ علیہ الرحمہ کا ہے جن کی شاعری سخن شناس لوگوں کے ہاں مقبولِ عام کے درجہ کمال پر معرفت کے جلوے بکھیر رہی ہے۔

آپ 1958ء کو موضع نارہ گاؤں ”پلائی“تحصیل کہوٹہ کے ایک ادبی و علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔بچپن ہی سے شعر و شاعری کیساتھ ایک خاص لگاؤ تھا اسی شوق کے پیش نظر 13 سال کی عمر میں نارہ میں مفکر پوٹھوہار محمد انور فراق قریشی صاحب علیہ الرحمہ کیساتھ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات کوئی عام نہ تھی بلکہ اِسی ایک ملاقات نے آپ کے اندر جلنے والے سخن شناسی کے چراغ کو وہ جلا بخشی کہ آپ ایک صاحب ِکمال و بصیرت شاعر کی صورت میدان سخنوری میں نمودار ہوئے۔آپ انور فراق قریشی صاحب کو اپنا استاد مانتے اور ان کے تذکار آپ کی زبان پر عام ہوا کرتے تھے نیز آپ کی شاعری میں قریشیؔؔ صاحب کے افکار و تذکار کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے

بلکہ راقم الحروف کی ناقص رائے کے مطابق آپ نے اپنا”وراگ‘ؔؔ’تخلص بھی‘’فراق“ ؔؔکے وزن پر ہی رکھا اور یہ قریشی صاحب کیساتھ آپ کی محبت کی عظیم مثال ہے اس کے علاوہ سائیں محفوظ ماسٹر نثار مرتضوی خداداد دکھیا حاجی محراب خاور امیر افضل آثم نواز آتش اور سائیں فیاض ویران سرکار رحمۃ اللہ علیھم جیسے پختہ اور صاحب علم شعراء کیساتھ آپ کے مراسم آپ کی شخصیت کے امتیاز پر دلالت کرتے ہیں۔

مطالعہ کا اس قدر شوق کہ رات گئے تک امام جلال الدین رومی میاں محمد بخش اور علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیھم کے افکار سے دامنِ طلب کو بھرنے میں مگن رہتے۔اگر خطہ پوٹھوہار میں محافل مشاعرہ کے حوالے سے سٹیج سیکرٹری کے طور پر ادبی خد مات سر انجام دینے والی چند شخصیات کی فہرست تیار کی جائے تو آپ کا نام سر فہرست ہوگا۔سائیں فیاض ویران سرکار کیساتھ آپ کے تعلقات بہت معروف ہیں اور ہر دو شخصیات کے مابین فنِ سخنوری کے حوالے سے تبادلہ خیال اکثر رہتا۔

آپ نے اپنی شاعری کا لوہا یوں منوایا کہ آپ کا کلام آج بھی سخن شناس لوگوں کی محافل میں بڑے ذوق و شوق کیساتھ سنا پڑھا جاتا ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ یوں ہی رواں دواں رہے گا بہرحال بتقاضائے بشریت 22 اگست 2021ء 13محرم الحرام کو ہزاروں سخن شناس لوگوں کی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کے صاحبزادگان محترم زاہد ظہور طیب محترم شاہد ظہور جگر صاحب اور قبلہ سیف اللہ صاحب آپ کے افکار کا پرچار کرنے میں برابر کوشاں دکھائی دیتے ہیں

اور خود بھی میدانِ سخن وری میں سنجیدہ طبیعت کے باعث ممتاز ہیں اور تو اور مسودات پر بکھرے کلام کو یکجا کر چکے ان شاء اللہ بہت جلد ”صدائے وراگ“ نامی کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہوگی جس سے آپ حضرتِ وراگ کے تخیل اور فکری منہج کا بخوبی اندازہ کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ وراگ صاحب کی کامل بخشش فرماتے ہوئے آپ کے افکار کو مزید عام فرمائے۔

حافظ حماد علی حافیؔؔ