کہوٹہ اپنے سرسبز پہاڑوں‘گھنے جنگلات اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، مگر آج یہی شناخت شدید خطرے سے دوچار ہے۔ میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یہ سطور لکھ رہا ہوں کیونکہ میں روز اپنی آنکھوں سے کہوٹہ کے جنگلات کو اجڑتے دیکھ رہا ہوں۔

یہ جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری صاف ہوا، پانی کے ذخائر، موسمی توازن اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔بدقسمتی سے کہوٹہ اور اس کے گرد و نواح میں ٹمبر مافیا کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی اب کسی راز کی محتاج نہیں رہی۔ دن کے اجالے میں قیمتی درخت کاٹے جاتے ہیں
اور راتوں رات لکڑی کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں کہیں نہ کہیں کمزور نگرانی، غفلت اور بدعنوانی بھی شامل نظر آتی ہے‘ جو ایک تشویشناک امر ہے۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے اثرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، بارشوں کا نظام متاثر ہو رہا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کہوٹہ آنے والے برسوں میں شدید ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے، جن کا خمیازہ براہِ راست عوام کو بھگتنا پڑے گا۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔ ٹمبر مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے، چاہے اس میں کتنے ہی بااثر افراد کیوں نہ ملوث ہوں۔ جنگلاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، بھاری جرمانے‘ فوجداری مقدمات اور غیر قانونی لکڑی کی ضبطی کو یقینی بنایا جائے۔محکمہ جنگلات کو جدید وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور مقامی سطح پر مؤثر چوکیاں قائم کر کے غیر قانونی کٹائی کو روکا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اہلکاروں کی کارکردگی اور احتساب کا مضبوط نظام بھی قائم ہونا چاہیے۔کہوٹہ کے جنگلات کو بچانے میں مقامی آبادی کا کردار سب سے اہم ہے۔ اگر مقامی لوگوں کو اعتماد میں لے کر انہیں شراکتی نگرانی کا حصہ بنایا جائے اور متبادل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ٹمبر مافیا کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جنگلات دراصل عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں اور ان کی حفاظت بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں میں اربابِ اختیار، منتخب نمائندوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کہوٹہ کے جنگلات کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال ہے۔ اگر آج ہم نے ٹمبر مافیا کے خلاف مؤثر قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری خاموشی ہمیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔
تحریر: طاہر عباس نقوی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.