دادا امیر حیدر خان 2 مارچ 1900ء کو سموٹ یونین کونسل کے گاؤں سہالیاں، تحصیل کلر سیداں، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ نہایت کم عمری ہی میں روزگار کی جستجو انہیں گھر کی دہلیز سے باہر لے آئی اور یوں تلاشِ معاش کے سفر کا آغاز ہوا۔

1914ء میں بمبئی کی بندرگاہ پر مال بردار بحری جہازوں کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ پارسی برادری کے پاس تھا، جہاں ہر نسل اور ہر رنگ کے لوگ محنت مزدوری میں شریک تھے۔ اسی دور میں اسٹیم انجنوں سے چلنے والے دخانی جہازوں کی صفائی نے دادا امیر حیدر کے لیے روزگار کا دروازہ کھولا۔کچھ ہی عرصے بعد بمبئی میں انہیں برٹش مرچنٹ نیوی میں ملازمت مل گئی۔
تقریباً چار برس تک وہاں خدمات انجام دینے کے بعد وہ یو ایس مرچنٹ نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ اب سمندر ان کے لیے راستہ بن چکا تھا اور دور دراز کے ملک ان کی دسترس میں آ گئے تھے۔اسی نوعیت کے ایک سفر کے دوران دادا کی ملاقات آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نیشنلسٹ جوزف ملکین سے ہوئی، جس نے دادا کی فکری تربیت اور ذہنی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔
1920 کی دہائی میں مدراس میں، انہوں نے برصغیر کی پہلی ٹریڈ یونین قائم کی۔سال 1920ء میں ہی دادا کو نیویارک میں غدر پارٹی کے رہنماؤں سے ملنے کا موقع ملا۔ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں غدر پارٹی کا کردار نہایت نمایاں تھا، اور دادا اس کے انقلابی پروگرام سے گہرے طور پر متاثر ہو گئے۔ پارٹی کی ہدایت پر انہوں نے غدر پارٹی کا تیار کردہ پمفلٹ ”غدر کی گونج“ بندرگاہ پر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔جلد ہی ان کی سیاسی سرگرمیاں حکام کی نظروں میں آ گئیں اور انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
یہ دادا کی زندگی کے نہایت کٹھن دن تھے۔ مشکلات نے دادا کے نظریات کو مزید مضبوط کر دیا اور وہ باقاعدہ ایک سیاسی کارکن بن گئے۔ اسی دوران انہوں نے ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔کچھ عرصے بعد دادا کو روس جانے کا موقع ملا، جہاں ان کی اہم انقلابی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے انہیں ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ ماسکو میں لینن سکول سے تعلیم حاصل کی اور بمبئی واپس پہنچے۔ انہوں نے بمبئی کے سینئر کمیونسٹ رہنماؤں جیسے G.V Ghate، SA Dange,، P.C Joshi، BT Randive Bradley سے رابطہ قائم کیا۔
مارچ 1929 میں میرٹھ سازش کیس میں گرفتاری سے بچتے ہوئے وہ ماسکو پہنچے تاکہ کمیونسٹ انٹرنیشنل کو بھارت کی صورتحال سے آگاہ کریں اور مدد طلب کریں۔دادا نے بین الاقوامی ٹریڈ یونین کانگریس میں پریزیڈیم کے رکن کے طور پر شرکت کی اور 1930 میں CPSU کے 16 ویں کانگریس میں بھی شریک ہوئے۔ 1928ء میں دادا نے ماسکو سے بمبئی کا رخ کیا۔ بمبئی واپسی پر، دوستوں نے انہیں میرٹھ سازش کیس میں ممکنہ گرفتاری سے بچانے کے لیے مدراس بھیج دیا۔
جنوبی ہندوستان میں اپنی شناخت چھپانے کے لیے دادا نے شنکر کے فرضی نام سے کام شروع کیا اور ”ینگ ورکرز لیگ“ کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم قائم کی، تاہم جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔یہ بات حیران کن ہے کہ دادا، جن کی رسمی تعلیمی زندگی محدود تھی، نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ مختلف معاشرتی طبقوں سے میل جول اور متعدد ممالک کے سفر تھے۔ 1932ء میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے ایک پمفلٹ شائع کرنے پر حکومت نے دادا کو گرفتار کر کے پہلے مظفرگڑھ اور پھر انبالہ جیل منتقل کر دیا۔
قید کے دوران بھی دادا کا انقلابی جذبہ سرد نہ پڑا۔ وہ قیدیوں کو جمع کر کے سماجی ناانصافیوں پر گفتگو کرتے رہتے. 1938 میں رہائی کے بعد انہوں نے بمبئی میں کھلے عام سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کانگریس کے بائیں بازو نے انہیں انڈین نیشنل کانگریس (INC) کی بمبئی صوبائی کمیٹی کا رکن منتخب کیا۔ انہوں نے رام گڑھ، بہار میں منعقد ہونے والے انڈین نیشنل کانگریس کے سالانہ جنرل اجلاس میں بھی شرکت کی۔1939ء میں، دوسری جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی، انہیں ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اس بار جیل میں دادا نے لیکچرز دینے کے ساتھ ساتھ اپنی یادداشتیں قلم بند کرنا بھی شروع کر دیں۔
1942 میں انہیں پیپلز وار تھیسس کے تحت رہائی ملی اور وہ بمبئی میں ٹریڈ یونین کے کام میں مشغول ہو گئے۔ 1944 میں انہوں نے ناتراکونا(Mymansingh) آل انڈیا کسان سبھا میں شرکت کی۔1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد دادا کی جدوجہد کا مرکز راولپنڈی بن گیا۔ 1949 میں دادا کو پارٹی دفتر کمیٹی چوک راولپنڈی سے کمیونل ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے 15 ماہ قید میں رکھا گیا۔ کچھ ماہ بعد انہیں دوبارہ راولپنڈی کچہری سے کامریڈ حسن ناصر اور علی امام کے دفاع کی تنظیم کے لیے گرفتار کیا گیا۔
راولپنڈی سازش کیس کے بعد انہیں لاہور قلعہ منتقل کیا گیا جہاں وہ فیض احمد فیض، فضل الدین قربان، دادا فیروز الدین منصور، سید قصور گردیزی، حیدر بخش جتوئی، سوبو گایان چندانی، چوہدری محمد افضل، ظہیر کشمیری، حمید اختر وغیرہ کے ساتھ قید رہے۔بعد ازاں رہائی کے بعد دادا کو اپنے گاؤں تک محدود کر دیا گیا۔ 1958ء میں ایوب خان کے مارشل لا کے دوران انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا، لیکن یہ گرفتاریاں، سزائیں اور سختیاں دادا کے حوصلے کو توڑ نہ سکیں۔ دادا امیر حیدر خان کے آخری ایام کمیٹی چوک راولپنڈی میں گزرے، جہاں وہ اپنی جدوجہد اور نظریات کی ایک روشن مثال بن کر تاریخ میں زندہ ہو گئے۔
دادا امیر حیدر ان جرات مند کمیونسٹوں میں سے تھے جنھوں نے سٹالن اسٹ سوویت یونین کی برطانوی سامراج سے مصالحت کے تحت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی سامراج مخالف تحریک سے دستبرداری کی پالیسی کو مسترد کر دیا تھا۔ دادا پر امریکہ کی ریاست شگاگو کی یونیورسٹی میں تھیسس بھی لکھا گیا تھا اور دادا کی ایک چٹ پر کوئی بھی شخص ماسکو جاسکتا تھا۔دادا برصغیر کے ایک اہم انقلابی رہنما تھے جن کی زندگی اور بیرونِ ملک انقلابی سیاست پر مختلف علمی اور تحقیقی کاموں میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
ایک مشہور تاریخی کتاب Revolutionary Pasts میں ان کے ماسکو کے تجربات، غدر پارٹی اور کمیونسٹ ساتھیوں کے ساتھ سفر، اور عالمی سامراج مخالف تحریکوں سے ان کے تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔وہ برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد میں سرگرم رہے اور غدر پارٹی اور کمیونسٹ انٹرنیشنل سے وابستہ تھے۔ماسکو اور برلن میں انہوں نےM.N RoY اور“Big Bill”Haywood جیسے معروف انقلابی رہنماؤں سے ملاقات کی، جس سے بھارتی انقلابی تحریک کو عالمی بائیں بازو کی سیاست سے جوڑنے میں مدد ملی۔ ان کے سفر اور انقلابی سرگرمیاں آج بھی تاریخ دانوں اور محققین کے لیے اہم موضوع ہیں۔پاکستان میں ان کی زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزرا۔ ان کی سوانح عمری Chains to Lose کے نام سے انگریزی میں اور دادا کے نام سے اردو میں شائع ہوچکی ہے۔
بھگت سنگھ اور دادا امیر حیدر نے سماج کی زنجیروں کو ڈھیلا کرنے کی کوشش کی اور محنت کش طبقے اور نوجوانوں کو نہایت واضح اور بلند آواز میں یہ پیغام دیا کہ وہ محروم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔پاکستان ٹائمز نے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ دادا امیر حیدر گمنامی میں جئے اور گمنامی میں رخصت ہو گئے، مگر اس سے ان کی عظمت کم نہیں ہوتی، بلکہ ہم سب کو چھوٹا کر دیتی ہے۔سال 1989 کے آج والے دن 26 دسمبر کو ان کا انتقال ہوا۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں میں، کاہلیاں کے اسی اسکول کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا جسے انہوں نے خود قائم کیا تھا۔
عجیب اتفاق ہے کہ ان کے انتقال کے چند ماہ بعد ہی ان کا محبوب سوویت یونین بھی ٹوٹ گیا۔دادا امیر حیدر جیسی عظیم شخصیت ایک پورے عہد پر چھائی نظر آتی ہے۔اور ان کے پیغام کی اہمیت آج کے دور میں اور بڑھ گئی ہے کیونکہ موجودہ صورت میں جمہوریت پاکستان کے مزدور عوام کی بنیادی ضروریات اور حقوق کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
سمیر حسن ایڈووکیٹ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.