ٹی چوک فلائی اوور‘ترقی کی علامت

اسلام آباد اور راولپنڈی جڑواں شہر ضرور کہلاتے ہیں، مگر ان میں داخلے کے راستے اگر ہموار نہ ہوں تو ترقی کے تمام دعوے ادھورے محسوس ہوتے ہیں۔ انہی داخلی راستوں میں سب سے اہم اور مصروف ترین دروازہ روات ہے، جسے بجا طور پر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع، بالخصوص جہلم، گجرات، گوجرخان، کلر سیداں، چکوال اور آزاد کشمیر سے آنے والی بھاری ٹریفک کا پہلا پڑاؤ یہی روات ٹی چوک ہے۔ برسوں سے یہ مقام ٹریفک دباؤ، بدترین رش اور حادثات کی وجہ سے شہریوں کے لیے اذیت کا باعث بنا رہا۔ایسے میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے اقبال فلائی اوور (ٹی چوک) روات کا افتتاح محض ایک ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہیں بلکہ جڑواں شہروں کے ٹریفک نظام میں ایک انقلابی قدم ہے۔

یہ فلائی اوور نہ صرف روات کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں داخلے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی عملی مثال بھی ہے۔روات ٹی چوک اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے پوٹھوہار ایونیو کے ذریعے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراہوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ماضی میں یہاں لگنے والے طویل ٹریفک جام بے ہنگم ٹریفک اور غیر منظم آمدورفت نے شہریوں کا قیمتی وقت ضائع کیا،

ایندھن کے اضافی استعمال کا باعث بنی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کیا۔ خاص طور پر دفتری اوقات میں پنجاب سے آنے والی ٹریفک کے باعث ٹی چوک ایک مستقل مسئلہ بن چکا تھا ٹی چوک فلائی اوور کی تعمیر نے اس دیرینہ مسئلے کا مؤثر حل فراہم کیا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے پنجاب سے آنے والی ٹریفک کو ایک سگنل فری کوریڈور میسر آ گیا ہے، جو براہِ راست راولپنڈی اور اسلام آباد میں داخلے کو ممکن بناتا ہے۔ اب گاڑیوں کو بار بار رکنے، سگنلز پر انتظار کرنے اور غیر ضروری یوٹرنز لینے کی ضرورت نہیں رہے گی،

جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ سفر بھی محفوظ اور آرام دہ ہو گا۔یہ فلائی اوور دراصل وفاقی دارالحکومت کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کڑی ہے۔ اسلام آباد کی خوبصورتی اور راولپنڈی کی معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے ہی سگنل فری راستوں کی اشد ضرورت تھی۔ ٹی چوک فلائی اوور اس سمت میں ایک مضبوط قدم ہے جو مستقبل میں دیگر منصوبوں کے لیے مثال بنے گا اس منصوبے کی ریکارڈ مدت میں تکمیل اس امر کی عکاس ہے کہ اگر نیت، نگرانی اور انتظام مضبوط ہو تو عوامی فلاح کے منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منصوبے کی ذاتی دلچسپی اور رفتار پر زور نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ترقی کا عمل محض اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آگے بڑھتا ہے۔

عوامی سطح پر دیکھا جائے تو ٹی چوک فلائی اوور نے نہ صرف شہریوں کے روزمرہ سفر کو آسان بنایا ہے بلکہ روات اور گردونواح کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی دی ہے۔ پراپرٹی، کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بہتری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جو بالآخر مقامی آبادی کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بنیں گے۔ ٹی چوک فلائی اوور صرف کنکریٹ اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ جڑواں شہروں کے لیے ایک نئی سوچ، بہتر منصوبہ بندی اور عوام دوست ترقی کی علامت ہے۔

اگر اسی وژن کے ساتھ مستقبل میں بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی و خارجی راستوں کو جدید بنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ شہر حقیقی معنوں میں ایک مثالی میٹروپولیٹن ریجن بن کر ابھریں گے۔

راجہ طاہر محمود