
ایک خاموش المیہ، جس پر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا
چند دن پہلے میں اپنے سکول کی نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے درمیان کھڑا تھا۔ نہ کوئی امتحان تھا، نہ کوئی مشکل سوال۔ میں نے مسکراتے ہوئے صرف اتنا پوچھا:
“بیٹا! اپنے دادا کا نام بتاؤ۔”
کچھ بچوں نے فوراً جواب دیا، چند نے ہچکچاتے ہوئے نام لیا، لیکن اکثریت خاموش کھڑی رہی۔ پھر میں نے دوسرا سوال کیا:
“اپنے پردادا کا نام کون بتائے گا؟”
اس بار پوری جماعت پر جیسے سکوت طاری ہو گیا۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے چہرے، جھکی ہوئی نظریں اور خاموش لب… اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سوال بچوں سے نہیں، ہم سب سے پوچھا جا رہا ہو۔
یہ صرف بچوں کی خاموشی نہیں تھی، یہ ہمارے معاشرے کی خاموشی تھی۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔ اپنی برادری، اپنے قبیلے، اپنی نسل اور اپنی نسبت پر بڑا فخر کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ہم سید ہیں، کوئی راجہ، کوئی اعوان، کوئی قریشی، کوئی جٹ یا مغل۔ لیکن کیا کبھی ہم نے خود سے پوچھا کہ جس بزرگ کے نام سے ہماری یہ پہچان قائم ہے، کیا ہم اس کا نام بھی جانتے ہیں؟
جن ہاتھوں نے زمینیں آباد کیں، جنہوں نے کچے گھروں کو پکی چھتوں میں بدلا، جنہوں نے اپنی خواہشیں قربان کر کے آنے والی نسلوں کے لیے آسائشیں چھوڑیں، آج ہم انہی کے نام بھول چکے ہیں۔ ہم ان کی جائیداد کے وارث ہیں، مگر ان کی یاد کے امین نہیں۔
اس سے زیادہ افسوسناک بات اور کیا ہوگی کہ بہت سے نوجوانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے دادا یا پردادا کی قبر کہاں ہے۔
مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ رات ڈھلتی تھی تو گھر کے صحن میں چارپائیاں بچھ جاتیں۔ دادا جان کی باتیں شروع ہوتیں، دادی اماں قصے سناتیں، نانا اپنے بزرگوں کے واقعات بیان کرتے۔ ہم صرف کہانیاں نہیں سنتے تھے، ہم اپنی تاریخ سنتے تھے، اپنی شناخت سیکھتے تھے، اپنے خون میں شامل کردار کو پہچانتے تھے۔
پھر وقت بدلا۔
ٹیلی ویژن آیا، پھر موبائل فون آیا، اور اب ایک چھوٹی سی سکرین نے پورے خاندان کو ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ آج ہر چہرہ موبائل کی روشنی سے روشن ہے، مگر رشتوں کی حرارت مدھم پڑ چکی ہے۔ گھر میں سب موجود ہوتے ہیں، لیکن کوئی کسی کے پاس نہیں ہوتا۔
ہم نے بچوں کو دنیا کی ہر معلومات دے دی، مگر اپنے خاندان کی تاریخ نہ دے سکے۔ وہ انٹرنیٹ پر ہزاروں لوگوں کو پہچانتے ہیں، مگر اپنے ہی خاندان کے ان لوگوں کو نہیں جانتے جن کی دعاؤں، محنت اور قربانیوں کی بدولت آج وہ آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔
اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو آنے والی نسلیں شاید صرف اپنے والد کا نام جانیں گی، اس سے آگے سب کچھ دھندلا جائے گا۔ پھر نہ خاندان کی تاریخ باقی رہے گی، نہ روایات، نہ وہ شناخت جس پر ہم آج فخر کرتے ہیں۔
آج بھی وقت ہے۔
اپنے بچوں کو اپنے بزرگوں کے نام یاد کروائیے۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں لے جائیے۔ انہیں اپنے دادا، پردادا اور خاندان کے ان لوگوں کی قبروں پر لے جائیے جنہوں نے اس خاندان کی بنیاد رکھی۔ انہیں بتائیے کہ عزت صرف وراثت میں ملی زمین سے نہیں، بلکہ ان کرداروں سے ملتی ہے جنہوں نے وہ زمین کمائی تھی۔
یاد رکھیے، درخت کی شاخیں جتنی بھی بلند ہو جائیں، ان کی طاقت جڑوں سے ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی جڑیں کاٹ دیتی ہے، وہ زیادہ دیر سرسبز نہیں رہتی۔
آئیے، اپنے بچوں کو صرف جائیداد کا وارث نہ بنائیں، بلکہ اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے بزرگوں کی عزت کا بھی وارث بنائیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نسلوں کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی وہ پہچان ہے جسے کھو دیا جائے تو انسان کے پاس نام تو رہ جاتا ہے، مگر شناخت کھو جاتی ہے۔