
بھارتی جیل میں طویل قید و تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما یاسین ملک سے منسوب حالیہ بیانِ حلفی کے وہ حصے، جو راجہ مظفر کی جانب سے سامنے لائے گئے ہیں، اگر درست طور پر اسی بیان کا حصہ ہیں تو ان میں ایک شوہر، ایک باپ اور ایک بیٹے کا ایسا کرب دکھائی دیتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں؛ یاسین ملک کے مطابق وہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنی اہلیہ مشعال ملک کی آواز تک سننے، فون یا ویڈیو کال کے ذریعے بات کرنے اور اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ سے رابطے سے محروم ہیں، اور اسی طویل جدائی، غیر یقینی مستقبل اور ممکنہ طور پر زندگی بھر قید رہنے کے خدشے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں ان کی اہلیہ کی پوری زندگی انتظار، پریشانی اور ایک ایسے رشتے کی امید میں نہ گزر جائے جس کے مستقبل کے بارے میں خود انہیں کوئی یقین نہیں۔
اگر واقعی یاسین ملک نے مشعال ملک کو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا فیصلہ اسی جذبے کے تحت کیا ہے تو میرے ذاتی خیال میں اسے محض ایک شوہر کی طرف سے اپنی بیوی سے دستبرداری نہیں بلکہ ایک انتہائی کٹھن، دردناک اور قربانی پر مبنی فیصلہ بھی سمجھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ محبت کبھی کبھی کسی کو اپنے پاس رکھنے کا نام نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات محبوب کی خوشی، عزت اور بہتر مستقبل کے لیے اسے آزاد کر دینا بھی محبت کی ایک انتہائی تلخ صورت بن جاتا ہے۔ ایک قیدی انسان، جو خود اپنی زندگی کے اگلے لمحے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا، اگر یہ سوچتا ہے کہ اس کی شریکِ حیات جوان ہے، اس کے سامنے زندگی کے کئی سال باقی ہیں اور اسے مسلسل انتظار، تنہائی اور غیر یقینی کی کیفیت میں نہیں رہنا چاہیے، تو اس سوچ کے پیچھے چھپی ذہنی اذیت اور قربانی کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی زاویۂ نظر بھی ضروری ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ازدواجی زندگی ایک نہایت ذاتی اور حساس معاملہ ہے، اس لیے اس فیصلے پر حتمی رائے دینے سے پہلے بیانِ حلفی کی اصل عبارت، قانونی حیثیت اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے؛ لیکن ایک عام انسان کی حیثیت سے سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص کو اپنی محبوبہ اور شریکِ حیات کی پوری زندگی اپنے انتظار میں باندھ کر رکھنے کا حق ہے، جب اسے خود معلوم ہو کہ شاید وہ برسوں تک اس کے پاس واپس نہ جا سکے؟ یا پھر اپنی محبت کی خاطر اسے ایک آزاد اور باعزت مستقبل کا موقع دینا زیادہ بڑی قربانی ہے؟ میری ذاتی رائے میں، اگر یاسین ملک کا یہ فیصلہ واقعی مشعال ملک کی خوشی، عزت اور مستقبل کی خاطر کیا گیا ہے تو میں انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے اس فیصلے کو سراہتا ہوں، اگرچہ یہ فیصلہ بلاشبہ انتہائی دردناک ہے۔
مگر اصل سوال اب عوام کے سامنے ہے: آپ یاسین ملک کے اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ محبت کی انتہا ہے، ایک مجبور شوہر کی قربانی ہے، یا آپ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس رشتے کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کا انتظار کرنا چاہیے تھا؟ اپنی رائے ضرور دیں۔