ایڈووکیٹ سعیدیوسف ایک بہترین انسان

اب کے برس ایسا قحط پڑا ہے اشکوں کا کہ آنکھ نم نہ ہوئی خوں میں ڈوب کر۔ کل ایڈووکیٹ سعید یوسف جو ہمیشہ مجھے چھوٹا بھائی کہ کر پکارتے ہیں میرے گھر آےء اور کافی گپ شپ ہوئی لیکن اسی گفتگو کے دوران والدین کی تربیت کے حوالے سے گفتگو ہونے لگی۔ باتوں باتوں میں، میں نے سعید صاحب سے پوچھا کہ کبھی والد یا والدہ ذہن میں آتے ہیں۔ بس جب میں نے یہ جملہ بولا تو سعید یوسف نے ایک ہاتھ صوفے پر رکھا اور گردن نیچے کر کے کہنے لگے جب مجھے کوئی سعید یوسف کہ کر مخاطب ہوتا ہے تو پھر میں خود میں اہنے والد کو تلاش کرنا شروع کر دیتا ہوں۔ جیسے ہی میں کسی کام میں مصروف ہو جاتا ہوں تو پھر کوئی دوست سعید یوسف کہ کر پکارتا ہے تو دوبارہ میرے سامنے میرے والد گرامی سفید کپڑوں میں ملبوس ہو کر آ جاتے ہیں۔ میرے والد صاحب کا نام محمد یوسف خان ہے اور وہ بھی ایڈووکیٹ تھے۔ میرے والد گرامی نومبر 2014 میں ہم سب کو چھوڑ گئے۔

کہنے لگے میری والدہ کو سارا محلہ آپا کہ کر پکارتا تھا۔ اگر کوئی ان سے عمر میں بڑا ہی کیوں نہ ہو میری والدہ سب کی آپا تھی۔ اور جب کوئی کسی کو آپا کہ کر بلاتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ اسکی بہن یا باجی ہو مگر مجھے میری والدہ ایسے یاد آتی ہیں کہ جیسے وہ گلی سے گزر رہی ہوں اور اچانک کوئی فرد انہی آپا کہ کر پکار رہا ہو۔ میری والدہ جنوری 2014 میں اللہ کے پاس چلی گئی۔

سعید یوسف نے راولپنڈی گارڈن کالج سے گریجویشن کی اور پنجاب یونیورسٹی سے 1994 میں ایل ایل بی کیا۔ سعید کے والد نے بھی گارڈن کالج سے گریجویشن کی اور اسکے بعد ایل ایل بی کیا۔ اور وہ آدڑھ گاؤں کے سب سے پہلے وکیل تھے۔ سعید یوسف کےدو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی جس کالج میں، میں پرنسپل تھا وہ اسی کالج میں پڑھتے رہے۔

ایک بیٹے کا نام احمد سعید ہے جو آج کل کاروبار کر رہا ہے۔ دوسرا بیٹا طیب سعید ہے جو بحریہ یونیورسٹی میں وکالت کررہا ہے۔ سعید یوسف تین سال اسلامی یونیورسٹی میں لا کے طالب علموں کو پڑھاتے رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ سعید یوسف 2006 میں بہت کم عمری میں سیکریٹری جنرل ہایء کورٹ بار منتخب ہوئے۔ 2007 میں وکلاء تحریک کے ہراول دستے میں سینہ تان کر پیش پیش رہے۔ 2009 میں اپکو سپریم کورٹ کا لائیسنس ملا۔ یاد رہے کہ 2009 میں سپریم کورٹ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب منتخب ہوئے اور 3 سال اپنی زمہ داری نبھانے رہے۔ آپ راولپنڈی ڈویژن کے دوسرے وکیل تھے جو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب برائے سپریم کورٹ مقرر ہوئے۔

2006 میں 45 ممالک کے چیف جسٹس صاحبان پاکستان آئے اور سعید یوسف نے بطورِ جنرل سیکریٹری میزبانی کا فریضہ سر انجام دیا اور یہ بہت اعزاز کی بات ہے۔ دوسری بات یہ کہ عاصمہ جہانگیر کے ساتھ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے وفد کے ساتھ انڈیا بھی گےء۔

باتوں باتوں میں دوبارہ والد کا تبصرہ شروع ہو گیا۔ میرے والد گرامی نرم گو، دوستانہ ماحول اور چپڑاسی اور آفس بوائے کے ساتھ ان جیسے بن جاتے تھے۔ بہت بڑی پریشانی میں بھی پریشان نہیں ہوتے تھے اوریہ انکی سب سے بڑی خوبی تھی۔ وہ بطورِ وکیل ایک سوشل ورکر بھی تھے۔ جب کوئی غریب انسان انکے پاس آ جاتا تو بغیر فیس لیے انکی مدد کرتے اور ساری دعائیں سمیٹ لیتے۔ دوسروں کی دعاؤں کی بدولت آج سعید یوسف اور انکے اولاد کامیاب ترین ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

میں نے سعید بھائی سے دوبارہ پوچھا کہ جب آپ گھر جاتے ہیں تو جب آگے پیچھے دیکھتے ہیں تو والدہ کے استعمال کی کوئی چیز نظر آتی ہے۔ اگر نظر آتی ہے تو پھر کیا محسوس ہوتا ہے۔ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ ہر لمحہ والدین یاد آتے مگر جب گھر میں انکی استعمال شدہ اشیاء دیکھتا ہوں تو اںدر سے ریزہ ریزہ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہوں۔ کہنے لگے میں قبرستان میں سال میں بہت کم جاتا ہوں۔ انکے لئے دعائیں گھر بیٹھ کر کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا قبرستان کیوں نہیں جاتے۔ یہ سن کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر انکے دل کے اندر سے آواز نکلی اور وہ جملے یہ تھے۔۔۔

پروفیسر صاحب میں جب قبرستان جاتا ہوں تو تین چار دن میں اپنے دفتر اور دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی قبرستان میں ہی خود کو محسوس کرتا ہوں۔ کبھی دائیں توکبھی بائیں میرے سینے کے اندر میرے والدین مجھے آواز دے رہے ہوتے ہیں۔ میری والدہ پورے خاندان کی سربراہ تھیں۔ انتظامی سماجی اور مذہبی طور پر پیش پیش رہتی تھی۔ پھر مجھے بتائیں کہ میں زندہ افراد کی آوازیں سنو یا اپنےوالد اور علاقے بھر کی آپا کی آوازیں سنو۔ انکی حالت دیکھ کر میں بھی خوف و ہراس میں چلا گیا اور پھر میں نے گپ شپ تبدیل کر دی۔

ایڈووکیٹ سعید یوسف دوستوں کے ساتھ دوست بچوں کے ساتھ بچے اور بزورگوں کے ساتھ بزرگ بن کر زندہ و تابندہ ہیں۔ جب میں بات کو آگے پیچھے کرتا تو سعید بھائی دوبارہ گفتگو والدین کی طرف لے جاتے۔ کہنے لگے خاندان کے ہر فرد کی تاریخ پیدائش میری والدہ کو زبانی یاد تھیں۔ یاداشت انکی بہترین انداز میں کام کرتی رہی۔ جو لوگ فوت ہو گئے انکی تاریخ وفات بھی انکے زہن میں رواں دواں رہتی۔

سعید یوسف کی تین پہنیں ہیں اور انکے چار بیٹے وکالت کر رہے ہیں جو سعید یوسف کے بھانجے ہیں۔ بس دوستو ایک بات یاد رکھنا کہ جو کام ہم اس دنیا میں کرینگے اسکا بدلہ ہمیں اس دُنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں ستر گنا اسکا ثواب یا عزاب ملے گا۔ لہذا اگر جنت میں جانا ہے تو اس دُنیا میں بہترین کام کریں۔ دوسروں کی مدد کریں کیونکہ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ یاد رکھیں ہم سب جب پیدا ہوتے ہیں تو آدمی کے روپ میں اس دنیا میں آتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ آدمی کے آدمی رہ جاتے ہیں اور کچھ آدمی سے انسان بن جاتے ہیں۔ لہذا ہم جب اس دُنیا میں آتے ہیں تو آدمی کے روپ میں آتے ہیں مگر یاد رکھنا جب ہم اس فانی دنیا سے جائیں تو انسان کی حالت میں یہ جہاں چھوڑ جائیں۔

اللہ پاک ہم سب کو بہترین اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایڈوکیٹ سعید یوسف اور انکی اولاد اور سارے خاندان کو زندگی کے ہر میدان میں کامیاب فرمائے اور سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین