پاکستان اور مسلح افواج

وطن کی حفاظت ہر مہذب قوم کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسلام نے بھی مسلمانوں کو امن کے قیام، سرحدوں کی حفاظت اور دشمن کے مقابلے کے لیے ہر ممکن قوت تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اسی اسلامی فریضے کو ادا کرتے ہوئے دن رات ملک کی جغرافیائی سرحدوں، نظریاتی اساس اور عوام کے جان و مال کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ آج جب ہم اپنے گھروں میں سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں تو سیاچن کی برفانی چوٹیوں، شمالی وزیرستان کے دشوار گزار پہاڑوں، جانی خیل، خیبر، بلوچستان، کوئٹہ، آزاد کشمیر، لائن آف کنٹرول، پنجاب، سندھ اور بحیرۂ عرب کے ساحلوں پر ہمارے جوان وطن کی سلامتی کے لیے سینہ سپر کھڑے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ.”
“اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے قوت اور تیار بندھے ہوئے گھوڑے (دفاعی وسائل) مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر رعب ڈال سکو۔”
(سورۃ الانفال: 60)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایک مضبوط دفاعی قوت اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اسی حکم پر عمل کرتے ہوئے جدید دفاعی صلاحیتوں سے ملک کی حفاظت کر رہی ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.”
“دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ جو اللہ کے خوف سے روئی، اور دوسری وہ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔”
(جامع ترمذی)
سرحدوں پر پہرہ دینے والے ہمارے سپاہی اس عظیم بشارت کے مستحق ہیں۔ وہ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر وطن کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔
سیاچن کی شدید برف باری، منفی درجہ حرارت، دشوار گزار پہاڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے خطرات، بلوچستان کے وسیع صحرائی علاقے اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل کشیدگی—یہ سب ایسے محاذ ہیں جہاں ہمارے جوان دن رات اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کے حوصلے اور قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا.”
“اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو اور سرحدوں کی نگہبانی کرتے رہو۔”
(سورۃ آل عمران: 200)
علمائے تفسیر نے “رابطوا” کے مفہوم میں سرحدوں کی حفاظت اور دشمن کے مقابلے کے لیے مستعد رہنے کو بھی شامل کیا ہے۔ ہمارے سپاہی اس قرآنی تعلیم کا عملی نمونہ ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ پاکستان امن کا گہوارہ بن سکے۔ شہداء کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہو کر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آزادی اور امن قربانی مانگتے ہیں۔ اسلام صرف جنگ کا نہیں بلکہ امن کا بھی دین ہے۔ مضبوط دفاع ہی امن کی ضمانت بنتا ہے۔ جب دشمن جانتا ہو کہ سامنے ایک منظم، تربیت یافتہ اور باصلاحیت فوج موجود ہے تو وہ جارحیت سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور وطن عزیز کی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا۔ ہمارے فوجی صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں۔ زلزلوں، سیلابوں، وباؤں اور دیگر قدرتی آفات میں بھی یہی جوان سب سے پہلے متاثرین کی مدد کے لیے پہنچتے ہیں۔ یہی جذبۂ خدمت انہیں قوم کے دلوں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے:
“وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ.”
“آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی۔”
(سورۃ الانفال: 46)
یہ آیت ہمیں قومی اتحاد اور اجتماعی قوت کی اہمیت سکھاتی ہے۔ ایک مضبوط، متحد اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی قوم ہی اپنے دشمنوں کے عزائم ناکام بنا سکتی ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں، غازیوں کی قربانیوں کو سلام کریں اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن وطن کے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے میں پوری قوم کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب سرحدوں پر سپاہی بیدار ہوتے ہیں تو قوم سکون سے سوتی ہے۔ جب سیاچن کی برف میں جوان اپنے قدم جمائے رکھتے ہیں تو پاکستان کی بنیادیں مضبوط رہتی ہیں۔ اور جب قوم اپنی افواج کی قدر کرتی ہے تو دشمن کی ہر سازش ناکام ہو جاتی ہے۔
محمد علی جناح بانی پاکستان نے پاکستان کی مسلح افواج کے بارے میں نہایت اہم اور تاریخی کلمات کہے۔ ان میں سے چند معروف اقوال یہ ہیں:

آپ پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔ آپ نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں بلکہ اس کی عزت، وقار اور سالمیت کے بھی امین ہیں۔
ایک اور موقع پر قائد اعظم نے فرمایا:
کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی، اگر ہماری مسلح افواج منظم، مضبوط اور ہر وقت اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے تیار رہیں۔
11 اکتوبر 1947ء کو فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ہر حال میں بلند رکھیں، کیونکہ ریاست کی سلامتی اور دفاع آپ کے مضبوط کردار، نظم و ضبط اور فرض شناسی پر منحصر ہے۔
قائد اعظم نے فوج کے لیے تین بنیادی اصول بھی بیان کیے:
ایمان، اتحاد، ڈسپلن

(Faith, Unity, Discipline)
یہ اصول صرف فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی کے لیے رہنما اصول ہیں۔
قائد اعظم کا یہ واضح مؤقف تھا کہ ایک مضبوط، باکردار، پیشہ ور اور نظم و ضبط کی پابند فوج ریاست کی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے، اور فوج کا بنیادی فرض ملک کی آزادی، خودمختاری اور آئین کا دفاع کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کی مسلح افواج کو اپنی حفاظت میں رکھے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، ہمیں اپنے شہداء کی قدروکرنی چاہیے۔ جنہوں نے اپنی جانیں اس وطن کی مٹی کے لیے قربان کیں۔ غازیوں کو سلامت رکھے اور وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور سربلندی عطا فرمائے۔ آمین۔