ندیم اختر غزالی:اسلاف کے معدنِ علم کا پاسبان

مادہ پرستی کے اس دورِ پُرفتن میں تعیشات زمن  کی تمنا ہر کہ و مِہکا منتہائے مقصود بن کر رہ گئی ہے۔ قرطاس و قلم سے محبت قصۂ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے بے محابا استعمال نے عوام الناس، بالخصوص نوجوان نسل سے ادبی ذوق و جستجو چھین لی ہے۔ ہمارے وہ اسلاف، جو آج بھی مہر و ماہ بن کر آسمانِ علم و عرفان پر ضیاپاشیاں کر رہے ہیں، جن کی تابش سے جبینِ ارض و سما طلوعِ آفتابِ قیامت تک رخشندہ و تابندہ رہے گی، جن کے نتیجہ ہائے  فکر، بصیرت و تدبر اور حقائق و معارف سے رازِ حیات کشید کر کے اہلِ یورپ ارتقا سے مقامِ ارتفاع کو چھو بیٹھے ہیں، مگر ہم اپنی خودپسندانہ روش، کاہلی اور تساہل کے باعث علم کے اس بحرِ بے کراں میں غواصی کر کے لؤلؤِ ئے لالہ تلاش کرنے کے بجائے انہیں ایسا  فراموش کر بیٹھے ہیں کہ وہ گلدستۂ طاقِ نسیاں بن کر رہ گئے ہیں۔

حضرت علامہ اقبالؒ نے اسی بات پر اظہارِ رنج و ملال کرتے ہوئے فرمایا ہے:

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

کون نہیں جانتا کہ اہلِ اسلام کے اسلاف میں ایسی ایسی لامثال اور رفیع الشان ہستیوں نے جنم لیا، جن کے نام کے ساتھ مخزنِ علم و ادب کی آبرو وابستہ ہے، جن کے چراغِ علم کی ضوفشانی سے اب بھی ہمارے قلوب و اذہان جگمگا رہے ہیں۔ ان کے رفعتِ افکار کے اغیار بھی گرویدہ و معترف ہیں۔ ان عدیم النظیر اربابِ بصیرت و دانش میں افلاطونِ دانش کدۂ حقائق حضرت سعدی شیرازی، مکمل بہ اکلیلِ سخن حافظ شیرازی، تاج دارِ اقلیمِ الفاظ و معانی عرفی، واقفِ رموزِ جام و مینا خیام، کشتۂ شمعِ رسالت جامی، مطرز بہ طرازِ علم و فن فردوسی، اور جالینوسِ عزلت گاہِ دقائق حضرت امام غزالیؒ شامل ہیں۔

ان میں حضرت امام غزالیؒ وہ نادر الوجود ہستی ہیں، جن کی کلکِ گوہربار نے صفحۂ قرطاس پر ایسے ایسے جواہرِ آب دار بکھیرے ہیں ، جن سے قرینۂ اخلاقیات اور طرزِ معاشرت ترتیب پائے۔ حضرت امام غزالیؒ کی فکر آفریں اور فکر انگیز کلکِ صدف بار چلتی تو ندرتِ بیان اور نکتہ آفرینیوں کا مینا بازار سج جاتا۔ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ایک طویل عرصے تک  تو فکرِ غزالی کی پاسبانی  کا فریضہ احساسِ مباہات کے ساتھ انجام دیا جاتا رہا، مگر افسوس کہ مشینی دور  حکومت کی برتری نے ہمارے نوجوانوں کے دلوں سے اس بے نظیر” معدنِ علم ” کے ساتھ محبت میں بہت کمی کر دی۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اس غیر معمولی شخصیت، حضرت امام غزالیؒ، کے خدوخالِ دلبرانہ  معدوم ہونے لگے۔

دیوان گاں ہزار گریباں دریدہ‌اند
دستِ طلب بہ دامنِ صحرا نہ می‌رسد

اللہ میرے شفیق دوست اور بھائی، ملک کے ممتاز کالم نگار و نثار، جناب ندیم اختر غزالی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے اس دل خراش المیے کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتے ہوئے ایسی عظیم الشان اور عدیم النظیر ہستی کے علمی ارتفاع کے احیا کا کارنامہ انجام دیا ہے، جسے دنیائے تدبر و فکر میں امام غزالیؒ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلاشبہ ایسی عدیم المثال شخصیت کے ثقاہت آمیز حالاتِ زندگی اور نظریات و افکار کو ایک دل پذیر تصنیف کے انداز میں اجاگر کرنا سعادت مندانہ اور زرّیں کارنامہ ہے۔

برادرِ عزیز ندیم اختر غزالی کی اس حسین کاوش کی اشاعت سے جویندگانِ علم اور تشنگانِ معرفت کو حضرت امام غزالیؒ کی غیر معمولی صلاحیتوں اور محاسن سے مالا مال شخصیت کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات و واقعات سے بصیرت و آگہی حاصل ہوگی۔ جناب ندیم اختر غزالی نے جس جستجویانہ تدبر، اخلاص اور عقیدت سے وحید الزماں امام غزالیؒ کے حالاتِ زندگی اور حیات بخش افکار کی تدوین کا صبر آزما معرکہ انجام دیا ہے، یہ انجمنِ علم و عرفان میں چراغِ ضوفشاں ثابت ہوگا۔

میں اپنے عزیزِ گرامی ندیم اختر غزالی کو صمیمِ قلب سے ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے علمی اسلاف کے ایک درخشندہ ستارے کی ضوریزیوں کو بڑے خلوص، ایثار اور تندہی سے پیش خدمت  اہلِ قلب و نظر کیا ہے، جس کی تابانیت سے طلوعِ آفتابِ قیامت تک ظلمتِ کنجِ عزلت جگمگاتی رہے گی۔ ندیم اختر صاحب کے اسمِ گرامی کے ساتھ غزالی کا لقب دنیائے حقیقت میں وجہِ تزئینِ معارف بن کر جگمگانے لگا ہے۔ میرا ایقان ہے کہ حضرت امام غزالیؒ کی روحِ پُرفتوح بھی یقیناً مطمئن و شادکام ہوگی اور اپنے سریع القلم، فداکار اور عقیدت مند کے لیے دعاگو ہوگی۔میں بارِ دگر جناب ندیم اختر غزالی کا رہینِ احسان ہوں کہ وہ مجھ ہیچمدان کے تاثرات کو اپنی ہر تصنیف کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ میری نیک تمنائیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔

یک حرف بیش نیست سراسر حدیثِ شوق
ایں طرفہ‌تر کہ قصۂ ما پایاں نمی‌رسد