غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے

آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایک تلخ حقیقت ہر گلی، ہر بازار اور ہر محلے میں دکھائی دیتی ہے کہ غریب پہلے سے زیادہ غریب ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ ایک وقت تھا جب محدود آمدنی رکھنے والا شخص بھی اپنی بنیادی ضروریات پوری کر لیتا تھا، اپنے بچوں کو تعلیم دلا دیتا تھا اور مہینے کے آخر میں کچھ نہ کچھ بچت بھی کر لیتا تھا، مگر آج حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ اچھی خاصی آمدنی رکھنے والا متوسط طبقہ بھی مالی پریشانیوں کا شکار ہے جبکہ مزدور، دیہاڑی دار، کسان اور کم تنخواہ لینے والے افراد دو وقت کی روٹی کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہی وہ صورتحال ہے جو اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ غریب صرف غریب نہیں رہا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ غریب ہوتا جا رہا ہے۔

غربت کسی ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔ یہ صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور عزتِ نفس سے محرومی کا دوسرا نام ہے۔ جب ایک شخص اپنی پوری زندگی محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو بہتر مستقبل نہ دے سکے تو یہ اس کی ذاتی ناکامی نہیں بلکہ پورے معاشی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آج لاکھوں افراد صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں مگر ان کی کمائی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔

مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ آٹا، چاول، دالیں، گھی، چینی، دودھ، گوشت، سبزیاں اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ آمدنی کی رفتار اس اضافے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بجلی، گیس اور پانی کے بل ہر ماہ ایک نئی پریشانی بن کر سامنے آتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف سفر کو مہنگا نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات ہر چیز کی قیمت پر پڑتے ہیں۔ یوں ہر نیا اضافہ غریب کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔

روزگار کے مواقع میں کمی بھی غربت کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، مگر انہیں اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت نہیں ملتی۔ کئی نوجوان معمولی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بے شمار نوجوان مہینوں بلکہ برسوں تک روزگار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جب تعلیم یافتہ نوجوان بھی بے روزگار ہوں تو معاشی ترقی کے دعوے کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان ان خاندانوں کو ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم پر اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں اور بعد میں انہیں مناسب روزگار نہیں ملتا۔

دیہی علاقوں میں کسان بھی مسلسل مسائل کا شکار ہیں۔ زرعی ادویات، کھاد، بیج اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ فصل کی مناسب قیمت اکثر انہیں نہیں ملتی۔ کبھی موسمی تبدیلیاں ان کی محنت ضائع کر دیتی ہیں اور کبھی منڈی میں کم قیمت ان کے خواب توڑ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ قرض پر قرض لیتے جاتے ہیں اور غربت کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔

شہروں میں مزدور طبقے کی زندگی بھی آسان نہیں رہی۔ ایک دیہاڑی دار مزدور صبح گھر سے اس امید پر نکلتا ہے کہ شاید آج کام مل جائے۔ اگر کام نہ ملے تو اس کے بچوں کے چولہے ٹھنڈے رہ جاتے ہیں۔ اگر کام مل بھی جائے تو اس کی اجرت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ اسی طرح رکشہ چلانے والے، ریڑھی لگانے والے، چھوٹے دکاندار اور گھریلو ملازمین بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ جب والدین کے پاس وسائل نہ ہوں تو بچے معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بہت سے بچے سکول چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کوئی ورکشاپ میں کام کر رہا ہے، کوئی ہوٹل میں برتن دھو رہا ہے، کوئی ٹریفک سگنل پر چیزیں بیچ رہا ہے اور کوئی کوڑا کرکٹ چن کر اپنے خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹا رہا ہے۔ یہ بچے ملک کا مستقبل ہیں، مگر غربت انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیتی۔

صحت کا شعبہ بھی غریب کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج نے عام آدمی کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک معمولی بیماری بھی کئی خاندانوں کا بجٹ بگاڑ دیتی ہے جبکہ کسی بڑے مرض کی صورت میں لوگ قرض لینے یا اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کئی مریض صرف اس لیے مناسب علاج نہیں کروا پاتے کہ ان کے پاس ادویات خریدنے کے لیے رقم موجود نہیں ہوتی۔

غربت کے بڑھنے سے معاشرتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ جب نوجوان بے روزگار ہوں، والدین مالی دباؤ کا شکار ہوں اور بنیادی ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں تو گھریلو جھگڑے، ذہنی دباؤ اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض افراد مایوسی کے عالم میں غلط راستوں کا انتخاب بھی کر لیتے ہیں، حالانکہ ہر غریب مجرم نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے میں مواقع کم اور مشکلات زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔

آج متوسط طبقہ بھی آہستہ آہستہ غریب طبقے میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو کبھی باعزت زندگی گزارتے تھے، آج بچوں کی فیس، گھر کے کرائے، بجلی کے بل اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ ان کی آمدنی میں معمولی اضافہ ہوتا ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ یوں ان کی بچت ختم ہو جاتی ہے اور وہ بھی معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

معاشی عدم مساوات بھی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن کے لیے مہنگائی کوئی معنی نہیں رکھتی، جبکہ دوسری طرف ایسے خاندان ہیں جو ایک وقت کا کھانا خریدنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ جب دولت چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے اور ترقی کے مواقع سب کو یکساں نہ ملیں تو معاشرے میں احساسِ محرومی بڑھنے لگتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر مختلف سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے۔

اسلام نے ہمیشہ معاشی انصاف، زکوٰۃ، صدقات اور ضرورت مندوں کی مدد پر زور دیا ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں یہ تصور موجود نہیں کہ کوئی شخص بھوکا سوئے جبکہ دوسرا عیش و عشرت میں زندگی گزارے۔ اگر صاحبِ استطاعت افراد اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کریں، زکوٰۃ صحیح مستحقین تک پہنچے اور خیرات کو صرف رسمی عمل نہ سمجھا جائے تو معاشرے میں غربت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف امدادی پیکج یا وقتی ریلیف میں نہیں بلکہ مضبوط معاشی منصوبہ بندی میں ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، صنعتوں کو فروغ دیا جائے، کسانوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوانوں کو جدید ہنر سکھائے جائیں۔ تعلیم اور صحت کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک ترقی کے ثمرات ہر طبقے تک نہیں پہنچیں گے، غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ صرف سرکاری ملازمت کے انتظار میں وقت ضائع نہ کریں بلکہ ہنر، ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، کاروبار اور جدید پیشوں کی طرف توجہ دیں۔ آج کے دور میں مہارت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا اصل معیار اس کے غریب شہریوں کی حالت ہوتی ہے۔ اگر ایک مزدور، کسان، ملازم اور سفید پوش شہری باعزت زندگی گزار رہا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ ریاست صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اگر غریب ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید غریب ہوتا جائے، اس کی امیدیں دم توڑنے لگیں اور اس کے بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب جائے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، سماجی تنظیمیں اور ہر باشعور شہری اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرے تاکہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں محنت کرنے والا کبھی محرومی کا شکار نہ ہو، جہاں ہر بچے کو تعلیم، ہر مریض کو علاج اور ہر خاندان کو باعزت روزگار میسر ہو۔ جب تک معاشی انصاف، دیانت دارانہ پالیسیوں، شفاف حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک غریب، غریب تر ہوتا رہے گا اور معاشرے میں ترقی صرف ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔