
قومیں اپنی آزادی، امن اور وقار کی قیمت ہمیشہ اپنے بہادر سپوتوں کے لہو سے ادا کرتی ہیں۔ جب کوئی سپاہی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان نچھاور کرتا ہے تو وہ محض ایک فرد نہیں رہتا، بلکہ پوری قوم کے لیے قربانی، وفاداری اور ایثار کی علامت بن جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو شہادت جیسے مقدس مرتبے کو تنخواہوں، مالی مراعات یا دیگر سہولتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف حقیقت سے دور ہے بلکہ شہداء کے لواحقین کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔
یہ حقیقت ہر شخص جانتا ہے کہ دنیا کی کوئی دولت انسانی جان کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ کوئی بھی انسان چند لاکھ روپے یا کسی مالی فائدے کی خاطر موت کو گلے نہیں لگاتا۔ جب وطن کا ایک محافظ دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے یا دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھتا ہے، تو اس کے دل میں دولت کا خیال نہیں بلکہ اپنے وطن، اپنی قوم اور اپنے فرض سے وفاداری کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ یہی جذبہ اسے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
شہداء کے اہل خانہ کو دی جانے والی مالی امداد، پلاٹ یا دیگر مراعات کسی صورت اس عظیم قربانی کی قیمت نہیں ہوتیں۔ یہ صرف ریاست کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کا اظہار ہوتی ہیں تاکہ وہ خاندان، جس کا سہارا ہمیشہ کے لیے چھن گیا، بنیادی ضروریات پوری کر سکے اور زندگی کی مشکلات کا کسی حد تک مقابلہ کر سکے۔ کسی باپ کا سایہ، کسی ماں کا لال، کسی بیوی کا شریکِ حیات یا کسی بچے کا محافظ کبھی بھی رقم سے واپس نہیں آ سکتا۔
ذرا ان ماؤں کے دل کی کیفیت کا تصور کیجیے جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو وطن پر قربان کر دیا، یا ان بچوں کی خاموش آنکھوں میں جھانکیے جو عمر بھر اپنے والد کی شفقت سے محروم رہتے ہیں۔ اگر انہیں دنیا بھر کی دولت بھی پیش کر دی جائے تو وہ شاید یہی کہیں کہ ہمیں ہمارا پیارا واپس کر دو۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس لیے ہمیں اپنی گفتگو، تحریروں اور خصوصاً سوشل میڈیا پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ شہداء کی قربانیوں کو مالی فوائد کے ساتھ جوڑنا ان عظیم ہستیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ شہادت ایک ایسا بلند مقام ہے جو مادی مفادات سے کہیں بلند ہے۔ قوموں کی عزت انہی لوگوں کی قربانیوں سے قائم رہتی ہے جو اپنے آج کو قوم کے محفوظ کل پر قربان کر دیتے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم شہداء کا ذکر ہمیشہ احترام، محبت اور عقیدت سے کریں گے، کیونکہ ان کا لہو کسی قیمت کا محتاج نہیں بلکہ ہماری آزادی، سلامتی اور قومی وقار کی بنیاد ہے۔