
آزادکشمیر ریاست کے انتخابی حلقہ جموں 6 ایل اے 39 میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم ٹھنڈی پڑ چکی ہے آزادکشمیر کے موجودہ حالات کی وجہ سے کشمیری عوام دونوں جماعتوں سے سخت ناراض اور برہم نظر آتے ہیں جہاں پر سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے وہیں پر اس لڑائی میں سویلین لوگ بھی شہید ہو گئے جس میں نقصان کسی اور کا نہیں اپنا ہوا. اس وقت دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت مختلف حلقوں میں انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہے ماضی میں آزادکشمیر کے حکمران کے طور پر ان دونوں جماعتوں نے کیا کچھ کیا اور کیا نہیں اس بحث میں جائے بغیر ماضی قریب کی بات کر لیتے ہیں جس سے اندازہ ہو جائے گا یہ سیاسی جماعتیں آزادکشمیر کے عوام کو کس قدر اپنا سمجھتی ہیں،ابھی حال ہی میں مظفرآباد میں ایکشن کمیٹی نے دھرنا دیا دھرنے کے جہاں اور بہت سے مقاصد تھے وہیں پر ایک اہم مطالبہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ تھا
جس کو پاکستان پیپلز پارٹی اون کرتی رہی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس مطالبے کی حمایت جبکہ مسلم لیگ ن نے شدید مخالفت کی، پیپلزپارٹی کا موقف وہی تھا جو ایکشن کمیٹی کا تھا کہ یہ بارہ نشستیں آزادکشمیر کے عوام پر بوجھ ہیں، ممکنہ طور پر یہ مطالبہ جائز بھی ہو سکتا ہے مگر وہ مہاجرین جو آزادکشمیر کی آبادکاری کے لیے خود دربدر ہوئے آج آپ انھیں بوجھ کہہ رہے ہیں کیوں؟ آپ انھیں دے کیا رہے ہیں وہ تو سب کچھ اپنے بل بوتے پر کر رہے ہیں پھر یہ مطالبہ کیوں؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بارہ ارکان اسمبلی پر پانچ سالوں میں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو بند کر دیں ان کی مراعات کیوں نہیں کرتے بند؟ لیکن مہاجرین کی نمائندگی تو ختم کرنے کی بات نہ کریں
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف کیا فرماتے ہیں کہ راولاکوٹ کے کشمیری تو کشمیری نہیں ہیں بھئی آپ کون ہیں سرٹیفکیٹ بانٹنے والے؟کوئی کشمیری آپکو سیالکوٹی نہ مانے اور کہے آپ تو کھٹمنڈو سے آئے ہیں پھر کیسا لگے گا آپکو؟ خواجہ صاحب سے اس رویہ کی توقع تو بالکل نہیں تھی سونے پر سہاگہ غلطی مان کر معذرت کرنے کی بجائے ڈٹ گے جو کہا درست کہا جس نے جو کرنا ہے کر لیں؟
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ منافقت سے پردہ ہٹتے بھی دیکھ لیں آپ، چند ہی ایام گزرے ہیں ابھی ان باتوں کو آج آزادکشمیر اور پاکستان میں موجود بارہ نشستوں پر امیدواران کی انتخابی مہم چلانے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر ایم این ایز ایم پی ایز وفاقی وزراء کی فوج اتر آئی ہے اور کشمیریوں اور مہاجرین کو کہہ رہے ہیں ہم سے زیادہ آپ کا مخلص کوئی نہیں ہم کشمیر کو پاکستان بنائیں گے ہمیں ووٹ دیکر الحاق پاکستان کی تجدید کریں ایسی ایسی تقاریر ہو رہی ہیں کہ ماشاء اللہ…!!!
ایک بات تو واضح نظر آرہی ہے اس مرتبہ الیکشن کے نتائج نہ صرف مختلف بلکہ دلچسب بھی ہونگے آپ دیکھیں گے کشمیری جاگ گے ہیں انھیں کھرے کھوٹے کی پہچان ہو گئی ہے ہم اگر راولپنڈی کے حلقہ جموں 6 ایل اے 39 میں عبدالخطیب چودھری کو بہترین متبادل قرار دیا جا رہا ہے ایک تو وہ حلقہ کے عین درمیان میں اپنا کاروباری دفتر رکھتے ہیں دوسرا وہ خود مہاجرین میں سے ہیں وہ منگلا ڈیم کے متاثرین میں سے ہیں ان کا گھر بار زمینیں سب کچھ ڈیم کی نذر ہو گیا تھا ان کے والدین بے سرو سامانی کی حالت میں پاکستان آکر آباد ہوئے تھے ان سے زیادہ مہاجرین کے دکھ درد کو کون بہتر سمجھے گا، وقت نے ثابت کیا مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ بہترین تھا آج مہاجرین جوق در جوق ان سے رابطے کر رہے ہیں، تحریک انصاف کے الیکشن بائیکاٹ کے بعد اور کرین پارٹی کے چاہنے والوں کی اکثریت نے حلقہ بھر سے عبدالخطیب چودھری کی حمایت کر رہی ہے دیکھتے ہیں فیصلہ 27 جولائی کو ہو گا.
شہزاد رضا